Test Footer 2

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

Showing posts with label Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Pakistan. Show all posts

24 June 2013

غیرت تو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے-اوریا مقبول جان


غیرت تو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے

چاروں جانب خوشی کے شادیانے بج رہے تھے ۔ اخباری نمائندے اپنے کیمروں کے ساتھ ویران کابل میں نیٹو افواج کے ساتھ داخل ہو رہے تھے۔ دنیا کے تمام ممالک کے حکمرانوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے چالیس سے زیادہ عالمی طاقتوں کو ایک نہتے، کمزور اور بے سروسامان ملک پر دہشت گردی کا لائسنس دیا تھا اور آج اس لائسنس کے تحت ہونے والی دہشت گردی کی فتح کا دن تھا۔ دنیا بھر کا میڈیا اور میرے  ملک کے ٹیکنالوجی اور طاقت سے مرعوب ہونے والے دانشور طالبان کی شکست پر جس لذت بھرے لہجے میں تبصرے کرتے تھے اور انھیں فرسودہ، دقیانوس، کم عقل، ناسمجھ اور نہ عاقبت اندیش ثابت کرنے میں مگن تھے وہ دیدنی تھا۔ ایسے میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف کو دانا، عقل مند، ملک و قوم کا خیر خوا  اور وقت کی نزاکت کو سمجھ کر امریکہ کے سامنے سربسجود ہو کر پاکستانی قوم کو بچانے والا بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ بڑے سے بڑا سیاسی لیڈر اور عظیم تبصرہ نگار بھی یہی کہتا”اگر ہم ڈٹ جاتے  تو ہمارا تورا بورا بنا دیا جاتا“۔ کابل میں بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہونے کو ایسے پیش کیا جا رہا تھا جسے امریکی جن تھے جنھیں دیکھتے ہی سب خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلے۔ اس دوران ایک پچیس سالہ نوجوان کی آواز گونجی :”طالبان کو شکست نہیں ہو سکتی۔ ہم نے شمالی علاقوں کو حکمت عملی کے تحت چھوڑا  ہے تا کہ ہم اپنی طاقت کو جنوبی علاقوں..... غزنی، قندھار، ہلمند، ارزگان اور زابل میں جمع کریں اور موت تک اس جنگ کو جاری رکھیں۔ ہمیں اسامہ بن لادن کو اپنی سرزمین پر مہمان رکھنے پر کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ اس نے افغانستان کو کمیونسٹ روس سے آزاد کرانے میں ہمارے ساتھ خون بہایا ہے۔“
یہ آواز تھی ملا عمر کے ذاتی سیکرٹری طیب آغا کی۔ یہ وہی شخص ہے جو آج بارہ سال بعد قطر کے شہر دوحہ میں عزت و توقیر کے ساتھ میز پر ایک جانب بیٹھا ایک شکست خوردہ عالمی طاقت اور اس کے حواریوں سے مزاکرات کر رہا ہو گا، وہ طاقت جس کے خوف سے میرے ملک کے عظیم رہنمائوں کے دل آج بھی کانپ اٹھتے ہیں۔ طیب آغا جس کا بچپن اور جوانی کوئٹہ کی گلیوں میں بسر ہوئی، ابھی تین سال کا تھا کہ اس کے ملک پر کمیونسٹ روس کی افواج چڑھ دوڑیں۔ ثور انقلاب کی کمیونسٹ سیاسی پارٹیوں”پرچم “ اور”خلق“کے افغانی دھڑے ان کے ہمرکاب تھے۔ کوئٹہ میں وہ ایک مہاجر بچے کی حیثیت سے آیا  کیونکہ اس کا والد ملا سدوزئی اپنے ملک کے دفاع کی جنگ میں مصروف تھا۔ کوئٹہ کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم اس نوجوان نے کمپیوٹر کلاسوں اور انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنا شروع کی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں یہ نوجوان عربی، انگریزی، اردو، پشتو اور فارسی میں اس قدر ماہر ہو چکا تھا کہ اس پر شک ہونے لگتا کہ کہیں یہ اسکی مادری زبانیں تو نہیں ہیں۔ اسی عالم شباب میں 1994 کی گرمیوں میں اس کے والد کے شاگرد ملا محمد عمر نے افغانستان میں کرپشن، بھتہ خوری، خونریزی اور سمگلنگ سے کمائی گئی رقم سے ہونے والی قتل و غارت اور جنگ و جدل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو جو پہلے 53 نوجوان ملا عمر کے ساتھ تھے ان میں اٹھارہ سالہ طیب آغا بھی شامل تھا۔ طالبان سے پہلے کا افغانستان بھی سب کو یاد ہے جب وہاں خون اور دہشت کے سائے تھے۔ چمن سے قندھار تک پچاس کے قریب بھتہ خوری کی چیک پوسٹیں تھیں جو ہر گزرنے والے سے مجاہدین کے نام پر تاوان وصول کرتی تھیں۔ طالبان کے بعد کا افغانستان بھی لوگوں کو یاد ہے جب کوئٹہ، پشین اور چمن جیسے مقامات سے لوگ اپنے مقدمات ان کے پاس فیصلوں کے لیے لے کر جاتے تھے کہ انصاف ملے۔ ایک ایسا  افغانستان جس میں صدیوں پرانی افیون کی کاشت صرف ایک حکم نامے پر ختم ہو گئی۔ اس دور کے افغانستان کی تفصیل دنیا بھر کے میڈیا پر موجود ہے لیکن امن و آشتی سے بھرپور یہ پانچ سال بہت سے لوگوں کے لیے جہاں حیرت کا باعث ہیں وہاں ان کے دلوں میں بھرے ازلی و ابدی بغض کے بھی عکاس ہیں جو چند چھوٹے چھوٹے واقعات کی بنیاد پر افغانستان میں تباہی و بربادی اور قتل و غارت کے بعد امن و امان کے قیام کو کوئی کارنامہ قرار ہی نہیں دیتے۔

لیکن اصل معاملہ تو گیارہ ستمبر کے بعد کا ہے۔ طالبان کے پاس بھی وہی دو راستے تھے جو پرویز مشرف اور اسکی حکومت کے پاس تھے۔ افغانستان کا کوئی شخص براہ راست گیارہ ستمبر کے واقعات میں ملوث نہ تھا اور پاکستان کے کسی شہری کا نام بھی اس فہرست میں شامل نہ تھا۔ دونوں پر عالمی برادری کی مسلمہ دہشت گردی اور غنڈہ گردی مسلط کی جا رہی تھی۔ ایک جانب غیرت سے زندہ رہنے کا فیصلہ کرنے والے وہ لوگ تھے جو اللہ پر توکل رکھتے تھے اور دوسری جانب مادی وسائل کے غلام اور ٹیکنالوجی کے پرستار۔ ایک ہماری سرحد کے اْس پار رہتے تھے اور دوسرے میرے ملک کے حکمران۔ اقبال نے اس تقسیم کو کس خوبصورتی سے واضح کیا ہے:
اللہ کو  پامردیِ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

لیکن میرے ملک کے حکمرانوں کو اندازہ نہیں تھا کہ اللہ کی نصرت اور مدد تو  ہر ٹیکنالوجی سے بالاتر ہے۔ یہ جنگ بھی عجیب تھی۔ دنیا کی تمام طاقتور قوتیں ایک جانب، کوئی پڑوسی طالبان کے ساتھ نہ تھا۔ پاکستان سے ستاون  ہزار  مرتبہ امریکی جہاز اڑے اور ان نہتوں پر بم برسائے۔ ایران ساتھ نہ تاجکستان بلکہ تاجکستان کی سرزمین سے تو امریکی فوج داخل ہوئی۔ امریکہ کے ساتھی شمالی اتحاد کو  ہر طرح کی امداد  ایران نے فراہم کی۔ ایسے میں یہ مرد کوہستانی اور بندگانِ صحرائی گیارہ سال تک لڑے۔ ہم نے یہ گیارہ سال گزارے اور حامد کرزئی نے بھی۔ دونوں نے اپنے آقا  امریکہ کو خوش کر کے اور اس کی آشیر باد کو طاقت کا سرچشمہ سمجھ کر گزارے ۔ ہم نے روز لاشیں اٹھائیں۔ مارنے والے بھی کلمہ گو اور مرنے والے بھی کلمہ گو۔ طالبان کو کم از کم ایک اطمینان اور یقین ضرور تھا کہ وہ جس سے جہاد کرنے نکلے ہیں وہ اللہ کا منکر ہے۔ دنیا کی ہر اخلاقیات کے حساب سے وہ ان کے ملک پر قابض ہے۔ ان کی جنگ اسلام کے حوالے سے بھی حق پر تھی اور قوم پرستی کے حوالے سے بھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاتھ میں ریمنڈ ڈیوس آتا ہے اور ہم اپنی انا  اور خودداری بیچ کھاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ ایک امریکی سارجنٹ آیا تھا اور آج اس کے بدلے وہ گوانتاناموبے سے اپنے ساتھ چھڑوا   رہے ہیں ۔ کس قدر منٹ سماجت سے ان سے کہا جا رہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کا پرچم ذرا کم نمایاں کر لیں، اس لیے کہ ہمارے پالتو حامد کرزئی کو تکلیف ہوتی ہے۔ کوئٹہ کی گلیوں میں کمپیوٹر سیکھنے والا شخص طیب آغا جس نے قرآن و حدیث اسی شہر کے مدرسے میں پڑھی امریکی وزیر خارجہ کے مقابل بیٹھے گا۔ اس شخص کی آنکھوں میں چمک دیکھتا ہوں تو طالبان کی قید میں رہ کر کر مسلمان ہونے والی ایون رڈلی کی بات یاد آتی ہے۔

اس نے قید سے رہائی کے فورا  بعد کہا تھا:”یہ لوگ مجسم انسانیت تھے۔ یہ حیران کن لوگ تھے، کالی داڑھیوں اور زمرد جیسی سبز رنگ آنکھوں والے جو خوبصورت سے خوبصورت یورپی عورت کو پگھلا کر رکھ دیں۔ حیرت ہے کہ ان کی آنکھوں میں شرم اور حیاء اس قدر تھی کہ میرے سامنے کسی مجرم کی طرح جھکی رہتیں۔ بموں کی یلغار میں نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ خود بھوکے رہتے، مجھے کھلاتے۔ یہ کیا لوگ ہیں، یہ تو اس جہاں کے لوگ ہیں ہی نہیں“۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ وعدہ کرتا ہے کہ ہم ان کی نصرت کے لیے فرشتے نازل کرتے ہیں۔ گیارہ سال بعد اس مملکت خداداد پاکستان میں بیٹھا سوچ رہا ہوں، تورابورا کس کا بنا، ہمارا  یا  طالبان کا؟  غیرت سے کون زندہ رہا؟ عزت سے کون سرفراز ہوا؟ یہ سوال اب تاریخ کا نہیں بلکہ آج کا ہے۔ اللہ کی نصرت ثابت کرنے کے لیے اب کسی کو عمر ابن خطاب کے زمانے کی جنگ قادسیہ میں ایران کی شکست دکھانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے کھول کر اپنی نشانی دکھا دی۔ اب کوئی ایمان نہ لائے تو اس کے نصیب۔
  

اوریا مقبول جان 

28 December 2012

سیکولر ذہن کی سطح

سیکولر ذہن کی سطح (شاہنواز فاروقی)


پاکستان میں سیکولر اور لبرل طبقات نے تمام مذہبی لوگوں کو ”طالبان“ بنادیا ہے، اور طالبان بھی اپنی پسند کا۔ سیکولر اور لبرل عناصر کے طالبان انتہا پسند ہیں۔ دہشت گرد ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ہر وقت اسلحہ ہوتا ہے۔ وہ دستی بموں اور خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس سے لیس ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں سے ہر وقت وحشت اور درندگی ٹپکتی رہتی ہے۔ وہ دائمی طور پر خون کے پیاسے ہیں۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ خود کو ”طالبان“ کہتے ہیں مگر پڑھنے لکھنے سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ علم، تعلیم، شعور، آگہی اور کتاب اور قلم کے دشمن ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی عورتوں کو گھروں میں قید کیا ہوا ہے۔ وہ انہیں دنیا کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے۔ پاکستان کے مذہبی لوگوں کی یہ تصویر سیکولر لوگوں نے بڑی محنت سے بنائی ہے اور وہ اس تصویر میں مسلسل رنگ بھرتے رہتے ہیں۔

ان لوگوں میں ایک نام ندیم فاروق پراچہ کا بھی ہے۔ ندیم فاروق پراچہ روزنامہ ڈان میں ہفتہ وار کالم تحریر کرتے ہیں۔ ان کی خاص بات صرف یہ نہیں ہے کہ وہ سیکولر اور لبرل ہیں، بلکہ ان کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انہیں حقیقی معنوں میں مذہبی لوگوں، مذہبی جماعتوں اور مذہبی خیالات سے نفرت ہے۔ ان کی نفرت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ان کے اکثر کالموں میں یہ نفرت شدت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ندیم فاروق پراچہ نفرت کے مسلسل اظہار سے نہ اکتاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں۔ لیکن 16 دسمبر 2012ءکے کالم میں انہوں نے مذہبی لوگوں اور مذہبی خیالات سے نفرت کی ایورسٹ کو سر کیا ہے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ندیم فاروق پراچہ نے کراچی میں ہونے والے تین روزہ عالمی میلہ کتب کا دورہ کیا تو انہیں یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی کہ کتابوں کے عالمی میلے میں کتابوں کے اکثر اسٹالز پر مذہبی کتب فروخت ہورہی تھیں۔ یہاں تک کہ جن اسٹالز پر عام ادب اور موسیقی سے متعلق کتب فروخت کے لیے رکھی گئی تھیں ان پر بھی ایک حصہ مذہبی لٹریچر کے لیے مخصوص تھا۔ ندیم فاروق پراچہ نے لکھا ہے کہ کتب میلے کا ایک پہلو یہ تھا کہ اس میں ”ڈاڑھی والوں کی“ اکثریت تھی۔ یہ لوگ اپنی برقع پوش خواتین اور بچوں کے ہمراہ کتب میلے میں آئے ہوئے تھے اور دھڑادھڑ کتابیں خرید رہے تھے۔ مذہبی لوگوں کے بارے میں سیکولر لوگوں کے قائم کیے ہوئے ”امیج“ کو دیکھا جائے تو ندیم فاروق پراچہ کو کتب میلے کے مناظر سے خوش ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے کہ کتب میلے میں مذہبی لوگ اسلحہ نہیں کتابیں خریدنے آئے تھے، اور وہ کتاب میلے سے ”اسلحہ بردار“ نہیں بلکہ ”کتاب بردار“ بن کر نکل رہے تھے۔

 
 بظاہر سیکولر اور لبرل لوگ یہی تو چاہتے ہیں کہ مذہبی لوگ بھی ان کی طرح ”لکھنے پڑھنے والے“ بن جائیں۔ مگر ندیم فاروق پراچہ کو اس پر خوشی نہیں ہوئی بلکہ وہ یہ دیکھ کر دکھ کے سمندر میں ڈوب گئے کہ کتاب میلہ اور وہ بھی بین الاقوامی کتاب میلہ مذہبی لٹریچر اور مذہبی لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ”مذہبی مرد“ اکیلے نہیں آئے ہوئے تھے، بلکہ ”روشن خیالی“ کا عالم یہ تھا کہ وہ اپنی بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی کتاب میلے میں لے آئے تھے۔ اصولی اعتبار سے ندیم فاروق پراچہ کو مذہبی لوگوں کی اس ”کشادہ نظری“ پر خوش ہونا چاہیے تھا اور کہنا چاہیے تھا کہ چلیے دیر سے سہی مگر مذہبی لوگوں نے بھی عورتوں کو کتاب میلے میں لانے کے قابل تو سمجھا۔ مگر ندیم فاروق پراچہ یہ منظر دیکھ کر اذیت میں مبتلا ہوگئے۔ کتابیں علم اور تخلیقی صلاحیت کا حاصل ہوتی ہیں، اور یہ چیزیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ضد ہیں، چنانچہ کتاب میلے میں مذہبی ادب کی فراوانی سے صاف ظاہر ہے کہ مذہبی ذہن سیکولر اور لبرل ذہن سے کہیں زیادہ خلاّق ہوگیا ہے اور اپنی مذہبی کائنات کی تخلیق کے لیے وجود کی ساری توانائی صرف کررہا ہے۔

سیکولر اور لبرل خود کو علم دوست اور تخلیقی رجحانات کا پاسبان کہتے ہیں، چنانچہ ندیم فاروق پراچہ کو یہ دیکھ کر دلی مسرت ہونی چاہیے تھی کہ مذہبی لوگ علم اور تخلیق کے عاشق بن گئے ہیں اور انہوں نے ٹنوں کے حساب سے لٹریچر تخلیق کرڈالا ہے۔ لیکن ندیم فاروق پراچہ اس بات پر خوش ہونے کے بجائے سینہ کوبی کرتے ہوئے پائے گئے۔ ندیم فاروق پراچہ کتاب میلے میں ترکی کے اسٹال پر گئے مگر یہاں بھی ان کے لیے اذیت کا سامان مہیا تھا، کیونکہ ترکی کے اسٹال پر ترکی کے مذہبی اسکالر فتح اللہ گولن صاحب کی کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ مذہبی لوگوں سے ندیم فاروق پراچہ کی نفرت کا اشتہار ان کا یہ بیان ہے کہ میلے میں آئے ہوئے مذہبی لوگ لمبی لمبی ”ڈاڑھی والے “ تھے، عورتیں باپردہ تھیں اور ان کے ساتھ آئے ہوئے بچے پرشور یا ندیم فاروق پراچہ کے اپنے الفاظ میں “
Very Noisy” تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے سیکولر اور لبرل لوگوں کے بچے بہت ”خاموش طبع“ ہوتے ہیں۔ دنیا میں تہذیب کا جو بھی معیار متعین کیا جائے گا اس کے تحت بچوں کے شور شرابے کو کوئی بھی برا نہ کہے گا۔ اس لیے کہ بچے ہوتے ہی ایسے ہیں۔ مگر ندیم فاروق پراچہ صاحب کی مذہبی لوگوں سے نفرت نے بچوں تک کو ”معاف“ نہیں کیا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کالم میں اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں بخشا۔

انہوں نے لکھا ہے کہ کتب میلے کے ایک ہال میں ایک صاحب مائک پر پوچھ رہے تھے ”پاکستان کا مطلب کیا؟“ اور بچے پوری قوت کے ساتھ اس کا جواب دے رہے تھے ”لا الہ الا اللہ“۔ تجزیہ کیا جائے تو ندیم فاروق پراچہ کو مذکورہ سوال ہی سے نہیں بلکہ مذکورہ سوال کے جواب سے بھی تکلیف ہوئی۔ وہ اس سلسلے میں اپنی شخصی، اجتماعی اور فکری تہذیب کو اس سطح تک لے گئے کہ انہوں نے یہ لکھنا ضروری سمجھا کہ جو بچے ”پاکستان کا مطلب کیا“ کا جواب ”لا الہ الا اللہ“ کہہ کر دے رہے تھے ان کے ہاتھ میں پاپ کارن، لالی پاپ اور جوسز کے ڈبے تھے، اور یہ بچے لا الہ الا اللہ تو کہہ رہے تھے مگر پاپ کارن، لالی پاپ اور جوس کے ڈبے کو چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے۔ یہ بات ندیم فاروق پراچہ نے اس طرح لکھی ہے جیسے ”لا الہ الا اللہ“ بچوں کو پاپ کارن، لالی پاپ اور جوس پینے سے روکتا ہے۔ غالباً ندیم فاروق پراچہ کے ذہن میں یہ بات ہوگی کہ پاپ کارن، لالی پاپ اور جوس ”جدیدیت“ کی علامت ہیں اور لا الہ الا اللہ ”قدامت“ کی علامت ہے، اور ان دونوں میں ایک تضاد ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں سیکولر اور لبرل لوگوں کی فکری سطح کتنی بلند ہے اور وہ جدیدیت اور قدامت کی کشمکش کو کتنی ”گہرائی“ میں اتر کر دیکھ اور بیان کررہی ہے۔

کتاب میلے ”ذہین“ اور”
Smart“ لوگوں کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ لیکن ندیم فاروق پراچہ کے کالم کے ساتھ ڈان کے ابڑو صاحب کی بنائی ہوئی جو ”Illustration“ شائع ہوئی ہے اس میں مذہبی عورتیں برقع میں چھپی ہوئی ہیں اور مذہبی لوگ کرتے، پاجامے اور ٹوپی میں دکھائے گئے ہیں۔ بیچاروں کی ڈاڑھیاں ہی نہیں پیٹ بھی بڑھے ہوئے ہیں، بلکہ عوامی زبان میں ان کی توندیں نکلی ہوئی ہیں۔ مطلب یہ کہ مذہبی لوگ کیا سمجھتے ہیں وہ کتاب میلے میں جائیں گے تو دنیا ان کو علم دوست، مہذب، ذہین اور Smart سمجھے گی؟ یہ ان کی بھول ہے۔ پاکستان کے سیکولر عناصر ان کو یہ ”امیج“ کبھی” Enjoy“نہیں کرنے دیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ندیم فاروق پراچہ کے کالم میں سب کچھ نفرت میں ڈوبا ہوا ہے۔ کالم کے آخری دو فقرے بہت اچھے ہیں۔ ان کا لطف انگریزی ہی میںہے۔ چنانچہ انہیں انگریزی ہی میں ملاحظہ کیجیے۔ ندیم فاروق پراچہ نے لکھا ہے:

Also never underestimate the myth of subliminal messaging. Guess which book i did end up buying at the fair: Islam in South East Asia.

مطلب یہ کہ میلے کی فضا کا مجھ پر یہ اثر ہوا کہ میں نے بھی میلے کے دورے کے اختتام پر اسلام سے متعلق کتاب خریدلی۔

13 December 2012

اب کس بت کو پوجو گے؟؟؟؟؟




جب دسمبر 1979میں روس افغانستان میں داخل ہوا تھا تو یہ اس ملک کی سڑکوں پر بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ وہ دیکھو سرخ پھریرا سرحد عبور کرنے والا ہے، تمہاری داڑھیاں نوچ لی جائیں گی اور سارا انقلاب ہوا کی طرح اڑا دیا جائے گا۔ کیسے کیسے مضمون لکھے گئے، کیسی کیسی نظمیں تحریر ہوئیں، سرحدوں پر انقلاب کے سویرے کی نوید سنائی گئی۔ لیکن ان سب کو کیا ادراک کہ پاکستان کے ساتھ ایک ایسی قوم بھی بستی ہے جو صرف اور صرف الله پر اعتماد کرتی ہے۔

پھر سوویت یونین کے ساتھ جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔ اس ملک ہی نہی پوری دنیا کی سڑکوں نے اس عالمی طاقت کو رسوا ہوتے دیکھا۔

اس کے بعد جس امریکا کو یہ کمیونسٹ پچھتر سال گالیاں دیتے رہے اسی کے دروازے پر بھیک کے لیے کھڑے نظر آنے لگے، اسی کی پوجا شروع کر دی۔ یعنی آقا تبدیل ہو گئے، وفاداریاں بدل گئیں۔ وہی گارنٹیاں جو یہ سوویت کو دیتے تھے اب امریکہ کو دینے لگے۔

انہیں ادراک ہی نہی تھا کہ ہونے کیا والا ہے۔ اس وقت یہ طاقت کے پجاری اور مادی وسائل کو خدا سمجھنے والے کہتے تھے کہ یہ ٹیکنالوجی کی دنیا ہے۔ افغان نہتے اور بے وسائل لوگ ہیں۔ یہ درختوں پر بیٹھے پرندوں کی طرح مارے جائیں گے۔ ایسے میں پورے ملک میں میرے جیسے چند
”بیوقوف“ لوگ بھی تھے جو کہا کرتے تھے کہ دیکھو اس کائنات میں ایک اور طاقت بھی ہے جو اس کی فرمانروائے مطلق ہے اور جو کوئی صرف اور صرف اس پر بھروسہ کر لیتا ہے پھر یہ اس واحد و جبار کی غیرت کا تقاضا ہے کہ وہ اسے ذلت و رسوائی سے بچائے۔ آج موجودہ دنیا کی تاریخ میں واحد افغان قوم ہے جو سرخرو ہے۔ کسی قوم کے سینے عالمی طاقتوں کو شکست دینے کے اتنے زیادہ میڈل نہی سجے جتنے اس قوم کے سینے پر آویزاں ہیں۔

اس کے بعد کی صورت حال بہت دلچسپ ہے، اور سوال بہت اہم کہ اب ان کا نیا آقا (امریکہ) بھی مار کھا کر بھاگنے کو تیار ہے۔ اللہ کے شیروں نے جو کام سوویت کے ساتھ کیا تھا وہی اب امریکہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔۔۔

ایسے میں ان صاحب سے اور ان جیسے تمام لوگوں سے سوال یہ ہے کہ اب کس بت کو پوجو گے؟؟؟؟؟

26 November 2012

Conspiracy Behind Attack on Malala Yousufzai


Conspiracy Behind Attack on Malala Yousufzai

By: Shahnawaz Farooqui






On 9th October, 15-year old Malala Yousufzai and her two friends were attacked in Swat valley. Then within few hours, this news became biggest news story of the world.... and it seemed as if this attack was not carried out on Malala, rather US president was attacked.

As the report of attack on Malala surfaced, the President Barrack Obama condemned the act... and said that America was ready for every possible help for the treatment of Malala... this reaction shows that the US president is so free that it is just round the corner to condemn the attack on three girls in Pakistan...

This is the same Obama who had categorically refused to say sorry at deaths of over two dozen Pakistani soldiers in US attack on our Salala chekpost... this is the same American president who did not feel a bit embarrassment in trampling the freedom and sovereignty of Pakistan by making efforts for the safe return of CIA agent Raymond Davis...What does it mean? Is wounded Malala more valuable than the lives of 25 Pakistani soldiers?... but...this is beginning of the show....

United Nation is an international organisation and it has several tasks to performs on daily basis... thousands of innocent people across the world become victim of criminal elements daily.... but the UN Secretary General, Ban ki moon, never took notice of those incidents.... even he doesn’t have time to take notice of serious issues like Palestine and Kashmir... however, as the attack is carried out on Malala, Ban ki moon, too, becomes active.....

He condemned the attack and said that he was inspired by the Malala’s so-called campaign for the rights of education, especially girls education... this statements indicates that he had been familiar with Malala for several years and had been observing with keen eye.... but why??....Was Malala doing such a struggle that has no match or example in history of hundreds of years...

The US Secretary of States, Hillary Clinton, has also decried the attack on Malala...and has termed it as awful.... Former US President George Bush’s wife Lara Bush became so stirred with the attack that she wrote a full length essay on the incident in the Washington Post, saying that Malala was not only a source of inspiration of her but for the entire world as well...

We think a person needs at least two to four years to get inspired by someone..... but, Lara Bush, as soon as she heard the news, got inspired...that’s amazing, Lara Bush can be asked that how much was she inspired by the deaths of thirty thousand Pakistanis in Unites State’s so-called war on terror after 9/11?....If she can write a column on wounded Malala, then she should have compiled an encyclopaedia on those thirty thousand Pakistanis....

Commenting on attack on Malala, Pakistani politician Imran Khan’s former wife Jamamia khan said that.... everyone must denounce cruel Taliban who attacked Malala.

A well-known US newspaper New York Times penned down a whole editorial in this regard.... and said that if Pakistan has a future, then malala is it’s symbol... even the US noted signer Madonna, too, has deep observation on Pakistan that as soon as Malala was attacked, she got to know about it.... she was at a concert that time... she got a Malala tattoo and dedicated a song to her struggle... thank God Malala is alive!!... though, over thirty thousand Pakistani people have died in the US war but, regrettably, none qualified for Madonna’s concerns... that she could dedicate her song to them... this whole progression shows that whatever happened.... was as per planning of the CIA and Black Water....

In Pakistan, a leader like Zulfiqar Ali Bhutto was hanged... General Zia ul Haq died in a plane crash... noted leader Benazir Bhutto was killed in broad daylight... even Pakistan disintegrated in 1971.... But, US and the whole Europe was never seen worrying for Pakistan or any Pakistani....

The attack on Malala has shaken military and the civil leadership.... army chief General Ashfaq Pervez Kayani was so moved with the grief over injuries of Malala that he himself visited the hospital to inquire her health... and inspect the matters of treatment....

Thousand of Pakistanis and dozens of innocent children and women have been martyred in drone attacks.... but, not to talk of Kayani’s visit to their homes.... he even never bothered to write a single condolence letter to the heirs of those martyrs.....

Moreover, in a great hurry, he even forgot that two other girl students were also injured besides Malala... this proves that CIA, Black Water and ISI are on the same page about this issue.


Following the Malala attack, Prime Minister Raja Parvez Ashraf and his fragile government sprang into the scenario all of sudden...

Parvez Ashraf along with the army of politicians visited Malala to inquire her health and said...this Pakistan is Malala’s Pakistan... the question arises here is that those who failed to make this country, the Pakistan of Quaid-e-Azam, Allama Iqbal or even that of Zulfiqar Ali Bhutto, how can they say that this is Malala’s Pakistan?

Before issuing these remarks, Parvez Ashraf should tell the nation that why he left millions of people helpless who lost their homes in two-year consecutive floods...??? Why didn’t he make this Pakistan, a Pakistan of those innocent people? Why dint he make it a Pakistan of those twenty five thousand civilians and five thousand soldiers died in US war? Why didn’t he even register the deaths of thousands of Pakistanis killed in drone attacks??

MQM chief Altaf Hussain, too, jumped into the arena... He notified the ulema that they should condemn the attackers of malala..... Otherwise, MQM would expose them... he asked people not to offer prayers behind those imams who don’t condemn the attack...

It is pertinent to mention here that all this says the man who himself is answerable for the killings of two thousand people in Karachi.

Malala was attacked on October 9, and Interior Minister Rahman Malik said on October 12 that Taliban in North Waziristan are so notorious that they don’t deserve dialogues... and October 13th, this report surfaced that final decision of a military operation in north Waziristan had been taken in a two-day conference of formation commandos..... if we see, in this context, then there is truth in Jamaat-e-Islami Pakistan Amir Syed Munawar Hassan’s statement... that a video appeared before Swat operation showing unknown Taliban flogging a girl.... later on, the video was proved fake.... but, Pakistani military and civil leadership on the basis of this video, successfully created a situation against Taliban....

Exactly the same situation emerges today... Pakistani military and civil leadership is bent upon launching operation in South Waziristan on the behest of US... for this purpose, the US and its local allies have made innocent Malala their shield.

It is said that Malala was the symbol of girls’ education in the country, but dozens of ulems, intellectuals, and journalists can be namedropped who had dedicated their lives for the promotion of education in the country, but they were killed by unknown assailants, and their deaths did not even create a headline in newspapers... but, Malala has pervaded international media.... Does this difference compel the conscious minds to think something?

Pakistani leaders are saying that Taliban are against girls’ education.... but the whole world knows that it has been sixty five years since the independence of Pakistan, but despite this... 70% of Pakistani people, a majority of women, are still illiterate... are the Taliban responsible for that? Today 70% Pakistani population lives below the poverty line... are the Taliban responsible for it?.... Today, after 65 years, more than 70% people do not have access to clean drinking water.... 70% of the people don’t have a single doctor within reach for treatment.... Does this credit also goes to Taliban? Pakistani generals, surrender to India and US...and conquer their own country....In spite of this, they devour 50% of national budget....Are the Taliban responsible for this?.....

On what pretext does Pakistan governing class proves the Taliban as the most dangerous and backward ones?

Some say that Taliban have claimed responsibility of attack on Malala...while the government claimed that the attackers have been captured...Actually, Taliban is an underworld organisation and no one knows about these organisations; who are their real spokespersons, or representatives.

Those world powers which can fabricate big war on the basis of falsehood, break and form countries... how can creating fake Taliban group be a difficult task for them?..... However, the Taliban whom the conscience of Muslim Ummah is well aware are those whose chief Mullah Umar forged peace during the worst civil war in Afghanistan. Who restored the dignity of human life... who set best example of simplicity and contentment. Our conscience knows those Taliban who candidly refused to get frightened by the only super power of the time, the US, after September 11. Who defeated the US, NATO forces and their allies.....

Moreover, the US, who termed Taliban wild brutes, was seen begging the Taliban for negotiations when the first of the Islamic world and world’s seventh atomic power Pakistani leadership handed over the Pakistan to the US on a single call... There can be defects in the school of thought of Taliban, but to criticise them needs a high moral and international level, which Pakistani rulers and media lack....

The grief of Malala and her friends is valid.... they deserve utmost sympathies.... but, the Supreme Court in its verdict on 12th October, said that there are undeniable proofs of the involvement of agencies in Balochistand... and that over three hundred Malalas have been missing in Balochistan for several months.....when will Pakistani newspapers and television channels wake up and raise voice in their grief?... as far as the European media is concerned,...... it is their track record that in Bosnia Herzegovina, situated in centre of the Europe, Serb wild beasts, during three-and-a-half year period, rapped thousands of Malalals... and killed many of them....but American and European media did not report the atrocities mated out those malalas...

During 25 years in Kashmir, more than five thousand young and old Malalas fell prey to Indian forces’ lust..... but, not a single Malala could grab the spotlight in Western media.....

Few years back, Israeli troops sprayed with bullets the bodies of over two hundred children on their way to schools, but none of them could become Malala.... (The End)


13 September 2012

ہارتا ہوا امریکہ


ہارتا ہوا امریکہ…!…نقش خیال…عرفان صدیقی

نائن الیون کے فوراً بعد جارج ڈبلیو بش نامی شہنشاہ عالم پناہ کی رعونت بھری پھنکار سنائی دی تھی۔ ”ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پنٹاگون کو نشانہ بنانے والوں کو نشان عبرت بنادیا جائے گا۔ اس دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کو ”انصاف“ کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو ”انصاف“ کو ان تک پہنچا دیا جائے گا“۔ اس اعلان کے صرف ستائیس دن بعد امریکی انصاف کا قہرناک لشکر افغانستان کی لٹی پٹی بستیوں کی ادھڑی ہوئی منڈیروں تک پہنچ گیا۔ اس شب تقریباً چالیس لڑاکا بمبار طیاروں نے بہ یک وقت کابل، جلال آباد، قندھار اور مزار شریف پر حملہ کیا۔ جن پر حملہ ہوا ان کے پاس نہ فضائی معرکہ لڑنے والے لڑاکا طیارے تھے، نہ انہیں نشانہ بنانے والی توپیں، نہ طیارہ شکن میزائل نہ آتش و آہن کی اس برسات کا مقابلہ کرنے کا کوئی سامان۔ دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت، دنیا کی سب سے نہتی قوم پر ٹوٹ پڑی تھی۔ وہ قوم جو گزشتہ دو دہائیوں سے ایک طویل جنگ کی تباہ کاریوں سے نڈھال تھی
اگلے روز بش نے شاداں و فرحاں امریکی قوم سے عہد کیا۔ ”طالبان کو حکم عدولی کی قیمت ادا کرنا ہوگی“۔ اس کی ہمنوائی میں اخلاقیات کی ساری حدیں پھلانگ جانے والے ٹونی بلیئر نے اعلان کیا۔ ”ہمارا الٹی میٹم نہ ماننے والے طالبان اب نتا ئج کا سامنا کریں۔ ”تب اسلام آباد کے ایک گھر میں، جسے افغانستان کا سفارت خانہ کہا جاتا تھا۔ بیٹھے ملا عبدالسلام ضعیف نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ”امریکہ کے اتحادی دراصل مٹھی بھر غلام ہیں جو کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور امریکہ کو ان حملوں کی ایسی قیمت ادا کرنا پڑے گی جس کا وہ اس وقت تصور بھی نہیں کرسکتا“۔

امریکہ کو واقعی اس قیمت کا کچھ اندازہ و گمان نہ تھا جو وہ گزشتہ گیارہ برس میں ادا کرچکا ہے اور جنگ کے باضابطہ خاتمے کے بعد بھی سالہاسال تک ادا کرتا رہے گا۔ 2011ء میں امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز نے آئزن ہاور ریسرچ پروجیکٹ کے تحت ”کاسٹ آف وار“ (Cost of War) نامی ایک خصوصی گروپ تشکیل دیا۔ اس گروپ میں نامی گرامی معیشت دان، ماہرین آئین و قانون، سیاستدان اور معاشرے کے نمائندہ افراد شامل تھے۔ اس گروپ نے زبردست محنت و ریاضت کے بعد اپنی مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا کہ تمام اخراجات کو یکجا کیا جائے تو افغانستان اور عراق پر امریکی یلغار کا مجموعی خرچہ 32کھرب ڈالر سے 40کھرب ڈالر تک ہے۔ جنگ کے سمٹاؤ کا عمل شروع ہوجانے کے باوجود اگلے آٹھ برس کے دوران پنٹاگون کو کم از کم 450 ارب ڈالر مزید خرچ کرنا پڑیں گے۔
عراق، افغانستان اور بالواسطہ پاکستان پر مسلط کی جانے والی اس حیاباختہ جنگ کے لئے امریکہ کو کھربوں ڈالر کا قرضہ لینا پڑا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ساری کی ساری جنگ ادھار کے پیسوں پر لڑی گئی۔ امریکی قرضوں کا حجم 160 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد قرضے بے قابو ہوگئے۔ 2003ء سے سالانہ پانچ سو ارب ڈالر قرضوں کا اضافہ شروع ہوا۔ 2008ء میں یہ دس کھرب ڈالر سالانہ تک جاپہنچا۔ 2010ء میں امریکہ نے سترہ کھرب ڈالر ادھار لیا۔ امریکی معیشت کے کھوکھلے پن کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب اسے ہر سال اپنی مجموعی قومی پیداوار کے مساوی رقم قرض لینا پڑتی ہے۔ 2001ء میں ، نائن الیون سے پہلے مجموعی قومی پیداوار اور قرضوں کا تناسب 56 فیصد تھا جو اب بڑھ کر سو فیصد ہوچکا ہے۔ امریکیوں کو ہر سال پانچ سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم سود کی مد میں ادا کرنا ہوتی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے براہ راست جنگی اخراجات ایک سو ارب ڈالر سالانہ سے زائد ہیں یعنی 9ارب ڈالر ماہانہ۔

بارک اوباما نے شہنشاہ عالم پناہ کا منصب سنبھالا تو اس کے عزائم کچھ اور تھے۔ فروری 2008ء میں اوباما نے امریکیوں کے ایک پرجوش ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔ ”خوف کے زیر اثر پالیسیاں بنانا کوئی اچھا دستور العمل نہیں۔ میں زخموں سے چور امریکیوں کو وطن واپس آتے دیکھتے دیکھتے تھک گیا ہوں۔ وہ جو نفسیاتی طور پر بھی زخم خوردہ ہیں اور جسمانی طور پر بھی۔ سب پر واضح ہوجانا چاہئے کہ ہم اربوں ڈالر پھونک کر بھی دنیا کو پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ بنا رہے ہیں۔ ”یہی اوباما جب قصر سفید نامی آسیب گھر میں داخل ہوا تو اس کی کایاکلپ ہوگئی۔ اسے یقین دلادیا گیا کہ طالبان کو فیصلہ کن شکست دے کر افغانستان کو ایک مضبوط امریکی اڈہ بنایا جاسکتا ہے۔ وہ انہی اندھی راہوں پر چل نکلا جو آدم خور امریکی حکام نے تراشی تھیں۔ فیصلہ کن یلغار کیلئے اس نے 36ہزار تازہ دم امریکی فوجی افغانستان بھیجے۔ ان کیلئے 33ارب ڈالر کا اضافی بجٹ منظورکیا۔ امریکی فوج کے سربراہ نے کہا۔ ”ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ اس یلغار میں کتنے طالبان ہلاک ہوتے ہیں۔“

ایک لاکھ امریکی افواج کے ساتھ، پینتالیس اتحادیوں کے لشکر بھی افغانستان میں خیمہ زن ہیں لیکن خبر ہے کہ امریکہ ہار چکا ہے۔ پسپائی کا محفوظ راستہ مانگنے اور اپنے پٹھوؤں کی جانوں کی ضمانت لینے کیلئے وہ ان طالبان کی منت سماجت کررہا ہے جن کا لہو پینے کیلئے اس نے کھربوں ڈالر جھونک دیئے اور جن کو نابود کرنے کی مہم میں اسے گیارھواں برس جارہا ہے۔ نیٹو کی ایک خفیہ رپورٹ کے بعض اجزاء منظر عام پر آئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ قید کئے گئے طالبان، القاعدہ، عرب ممالک سے آئے مجاہدین اور گرفتارشدہ عام شہریوں کے انٹرویوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انتہائی پراعتماد ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ امریکہ رخصت ہورہا ہے اور آنے والا دور طالبان کا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق کرزئی حکومت کے کل پرزے بھی طالبان سے رابطے کررہے ہیں اور امریکیوں کے انخلاء کے ساتھ ہی وہ بھی طالبان سے جاملیں گے۔ عام شہری طالبان کی حکومت کو موجودہ بدعنوان، نااہل اور عوام دشمن نظام پر ترجیح دے رہے ہیں۔ چار ہزار قیدیوں سے کئے گئے 27000 انٹرویوز پر مشتمل نیٹو رپورٹ نے امریکیوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ خود فریبی کے جال سے نکلیں اور اس حقیقت کا سامنا کریں جسے وہ گیارہ برس سے نظرانداز کررہے تھے اورجو صدیوں سے افغانستان کے کوہساروں پہ کندہ ہے۔

اس سال کا بجٹ پیش کرنے سے قبل، پاکستان نے اکنامک سروے آف پاکستان کے ذریعے باضابطہ طور پر قوم کو آگاہ کیا تھا کہ اس بے چہرہ جنگ میں پاکستان 68ارب ڈالر پھونک چکا ہے۔ ڈالر کے موجودہ ریٹ کے مطابق یہ رقم 6100 ارب روپے سے زائد ہے ۔ یاد رکھئے کہ ہم صرف اس لئے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو 300ارب روپے ادا نہیں کرسکتے۔ طالبان اور افغان عوام کے خلاف امریکہ کا دست و بازو بن جانے کے اقدام کو میں ڈالروں اور روپوں کے پیمانے سے نہیں ماپتا یہ ایسی زیاں کاری ہے جس نے ہماری تہذیبی، اخلاقی، مذہبی، قومی، تاریخی اور انسانی اقدار و روایات کی بنیادیں تک ہلادی ہیں۔ ہمیں وہ کچھ بنادیا گیا ہے جس کے تصور سے بھی گھن آتی ہے۔

گزرجانے والی شب میں دیر تک سوچتا رہا کہ کھربوں ڈالر پھونک کر، لاکھوں افراد کا خون ناحق اپنی گردن پر لے کر، اپنے ہزاروں فوجی اس بے ننگ و نام بھٹی میں جھونک کر، امریکی نسلوں کو چالیس کھرب ڈالر کے نئے قرضوں میں جکڑ کر اور زمانے بھر کی رسوائیاں سمیٹ کر، امریکہ نے گھنی داڑھیوں، بھاری پگڑیوں اور لمبی عباؤں والے قبیلے کا کیا بگاڑا ہے؟ ملا محمد عمر کی داڑھی کے کچھ بال ضرور سفید ہوگئے ہوں گے لیکن کیا وہ گیارہ سال پہلے سے کہیں زیادہ سرکشیدہ و سر بلند نہیں ہے؟ کیا اس نے منوا نہیں لیا کہ موت سے ذرا نہ ڈرنے والے فاقہ کش ہی سرخرو ہوتے ہیں۔
میرے ذہن کی لوح پر قندھار کے پہلو سے گزرتے دریائے ارغنداب کی وہ سانولی سی شام اتر رہی ہے جب ہم نے ملا محمد عمر کی اقتداء میں مغرب کی نماز پڑھی تھی اور اس مرد قلندر نے بڑی سادگی سے کہا تھا۔ ”ہمیں صرف اپنے اللہ پر بھروسہ ہے۔


13 August 2012

پینسٹھواں یوم آزادی


پاکستانی قوم آج اپنا پینسٹھواں یوم آزادی منا رہی ہے۔ اس موقع پر ہم رسمی خوشی تو منا سکتے ہیں لیکن حقیقت میں ہم آزاد تو نہیں ہیں کیونکہ جس مقصد کے لیے آزادی کا نعرہ لگایا گیا تھا اس میں تو رتی بھر بھی کوئی کام نہی کیا۔ پاکستان حاصل کرتے وقت جو قربانیاں ہمارے اسلاف نے دی تھیں وہ ہمارے آج کے ماحول کے لئے نہیں دی تھیں بلکہ وطن عزیز کے حصول کا واحد اور اولین مقصد اس سرزمین میں اسلام کا نفاذ کرنا اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنا تھا۔ ایسی سرزمین جس میں ہر پاکستانی کو برابر کے حقوق حاصل ہوتے اور ملک میں امن و امان کا دور دورہ ہوتا۔ لیکن آج کے پاکستان کی جو تصویر ہمارے سامنے ہے وہ ہمارے اسلاف کا ہرگز مقصد اور مقصود نہ تھی۔

آج تمام ملک امن و امان سے محروم ہو چکا ہے ۔ ہم اپنے ہی گناہوں کی سزا میں جکڑے جا رہے ہیں اور ہمارے گناہوں کی سزا ہمیں کسی نہ کسی صورت میں ملتی رہتی ہے۔ پاکستان دو لخت ہوا تو ہم نے کوئی سبق نہ سیکھا جبکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے یہ نعرہ لگایا گیا کہ دو قومی نظریہ (جو پاکستان کے قیام کی بنیاد تھی) خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ ہم پاکستان کو ہر قسم کی مار دیں گے۔ انہوں نے ہمارے ملک میں ثقافتی نوعیت کی سرگرمیوں، فلموں اور ڈراموں کی صورت میں اور ثقافتی طائفوں کی صورت میں ایک یلغار کر دی تو بھی ہم نے سبق حاصل نہ کیا ۔


ہم نے امریکی غلامی کو قبول کیا، اسلام کے خلاف جنگ کے صف اول کے اتحادی بنے۔ ہم نے مسلمانوں کا قتل عام خود بھی کیا اور کرنے میں کفار کو مدد بھی فراہم کی۔ جس کے بعد ہم مزید عذابوں میں ڈبو دیے گئے۔ کبھی ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے زلزلے آئے، کبھی سیلاب۔ لیکن ہم نے آنکھ نہی کھولی، ہم گمراہی اور ذلالت کی دلدل میں مزید دھنستے چلے گئے۔ قدرت نے کبھی ہمیں حادثات کے زریعے جگانے کی کوشش کی اور کبھی ہمارے سروں پر ایک مربع کلومیٹر لمبا چوڑا برفانی تودہ دے مارا۔ لیکن ہم خواب غفلت سے جاگنے کو تیار نہ ہوئے۔

آج ہر ایک پاکستانی کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا کہ کہیں یہ عذاب، زلزلے و سیلاب، ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کا عذاب اور مہنگائی کا طوفان ہمارے ان اعمال کی سزا تو نہیں کہ ہم نے اللہ سے یہ وعدہ کر کے یہ ملک حاصل کیا تھا کہ ہم اس خطہءزمین میں تیرا نظام، اسلام کا نظام نافذ کریں گے۔ اور پھر ہم اپنے وعدے سے مکر گئے۔ ھم نے ہر ہر موقع پر الله سے وعدہ خلافی کی، اس کے قوانین کا مذاق اڑایا۔


اور اب ہم اس انتظار میں ہیں کہ الله کا حکم آ جائے کہ ہمیں تبدیل کر کے یہاں کسی اور قوم کو آباد کر دیا جائے۔

”اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب اﷲ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے وہ مومنوں پر نرم (اور) کافروں پر سخت ہوں گے ﷲ کی راہ میں (خوب) جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ یہ (انقلابی کردار) اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور ﷲ وسعت والا (ہے) خوب جاننے والا ہے“
 سورة المائدة 54


اللہ تعالی ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے ۔ آمین۔




Tags:
independance day pakistan 14 august
kya ham aazad hain?
are we really independent
65th birthday of pakistan
pakistan hamari jan
کیا ہم آزاد ہیں