Test Footer 2

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

Showing posts with label stories. Show all posts
Showing posts with label stories. Show all posts

5 September 2013

کاش اس وقت بھی فیس بک ہوتی



“So hot”
“wowwwwwwwwww kea lag rahi ho yar”
“so cuteeeeee, awesome”
“yar je chah raha hay k, k ,k…….”
“kea qatil ada cheez ho”
“taswer teri dil mera behla na sakay g”
“aap ke tareef k leay lafz nahi, mukammal hussan ho”
“I love u”

ٹھرکی ہم وطنوں کی اس بازاری جملے بازی نے سیلانی کو تین دہائی پہلے کے سعید بھائی یاد دلا دیے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب سیلانی گول مٹول شرارتی بچہ ہوا کرتا تھا، تب اس کے نیکر پہننے پر کسی کو اعتراض تھا نہ محلے کے کسی گھر میں بلا جھجھک گھسنے پر کوئی ٹوکتا تھا، تب شہر بھی بانجھ نہ ہوا کرتے تھے، محلہ کلچر زندہ تھا اور پورا محلہ ہی گھر جیسا ہوا کرتا تھا، آج اگر گھر میں کریلے پکے ہیں تو رکابی لے کر ساتھ والے میر صاحب کے گھر چلے آئے، وہاں مونگ کی دال کا سن کر منہ بنا تو چوہدری صاحب کے گھر پہنچ گئے، وہاں بھی دال نہ گلی تو کشمیری چاچی کے پاس آ گئے اور یہ بے تکلفی سیلانی تک ہی محدود نہ تھی، اس کی سرحدوں میں پورا محلہ آتا تھا، سیلانی کے گھر میں آلو گوشت بنتا تو خوشبو سونگتے ہوئے چوہدری صاحب کی ناک سڑکاتی بیٹی آ جاتی کہ خالہ خالہ ایک بوٹی اور دو آلو ڈال دو۔

اس محلہ کلچر میں انسان رہتا تو اپنے گھر کی چاردیواری میں تھا، لیکن اقدار کی چاردیواری پورے محلے کو ایک گھر بنا کر رکھتی تھی، اس وقت سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں کام آتے تھے اور بڑوں کا احترام ایسا کہ اگر محلے کا کوئی بڑا بوڑھا کسی غلطی پر کان کھینچ کر تشریف پر دو جوتے بھی لگا دے تو کسی میں ہمت نہ ہوتی کہ منمناتے ہوئے امی ہی سے کہہ دیں، دہلی کالونی کے اس محلے میں سیلانی بےبی باجی سے ٹیوشن پڑھنے جایا کرتا تھا، بے بی باجی بی اے کر رہی تھیں، دبلی پتلی سی بےبی باجی کی شکل پی ٹی وی کے ڈرامے انکل عرفی کی ہیروئن سے کافی ملتی تھی، وہ بال بھی اسی انداز کے بناتی تھیں اور خاصی خوش لباس بھی تھیں، اس وقت گھٹنوں سے اوپر تک چھوٹی قمیض اور بڑے بڑے پائنچوں والی شلوار کا رواج تھا، سیلانی کو یاد ہے کہ ایک بار باجی کپڑے سلوانے کے لیے سیلانی کو ساتھ لے گئیں، راستے میں نکڑ پر محلے کے ”وحید مراد“سعید بھائی، جسم سے چپکی قمیض اور بیل باٹم پینٹ پہنے کھڑے تھے، سعید بھائی نے باجی کو آتے دیکھا تو فورا ہی جیب سے کنگھی نکال کر اپنی زلفیں سنوار لیں اور پوز مار کر کھڑے ہو گئے، سیلانی اور باجی پاس سے گزرے تو سعید بھائی نے مسکراتے ہوئے دبی دبی آواز میں جملہ اچھالا: ”آج تو لوگ قیامت ڈھا رہے ہیں۔“

باجی نے ناگواری سے ایک نگاہ غلط ڈالی، البتہ کہا کچھ نہیں، سیلانی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ قیامت ڈھانا کیا ہوتا ہے، اس نے باجی سے پوچھا تو انہوں نے ڈانٹ دیا، باجی نے درزی کو کپڑے دیے اور واپس ہو لیں، واپسی پر وحید مراد صاحب اسی کھمبے کے ساتھ ٹیک لگائے منتظر تھے، انہوں نے بےبی باجی کو دیکھ کر ایک سرد آہ بھری اور پھر ایک گیت گنگنانے لگے، سیلانی نے سعید بھائی کی طرف دیکھا تو انہوں نے اپنی آنکھ کا گوشہ دبا دیا۔
   
گھر پہنچ کر سیلانی نے بے بی باجی کی بڑی بہن سے پوچھا: آپا! یہ قیامت کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا: ”کیوں بیٹا! تمیں قیامت کہاں سے یاد آ گئی؟“

”مجھے نہیں یاد آئی، وہ سعید بھائی نے بے بی باجی کو دیکھا تو انھیں یاد آ گئی، وہ باجی کو کہہ رہے تھے کہ آج تو قیامت ڈھا رہی ہو..... “
سیلانی نے معصومیت سے بتایا تو بڑی باجی نے ڈانٹ کر چپ کرا دیا، مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا، صحن میں لگے سنک پر غرغرے کرتے ہوئے بھائی جان سن چکے تھے، وہ ہاکی کے بہت اچھے کھلاڑی تھے، انہوں نے اپنی ہاکی لی اور باہر نکل گئے، اس کے بعد وحید مراد صاحب پر قیامت ڈھ پڑی۔ اس قیامت میں ان کی طوطے جیسی خمیدہ ناک اور سامنے کا دانت بھی ٹوٹ گیا، اس روز بھائی جان نے وحید مراد کے ساتھ خوب کھیلا، محلے کے لڑکوں نے بھی اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، وحید مراد صاحب کئی ہفتے گنگنانا بھول کر کراہتے رہے، سعید بھائی کے والد صاحب بھلے آدمی تھے، انھیں جب پتا چلا تو انہوں نے باجی کے گھر آ کر معافی مانگی اور سینما والوں کو خوب بددعائیں دیں، جو نوجوان نسل کو لفنگا بنا رہے تھے۔ لیکن یہ اچھے وقتوں کی بات ہے، جب بہت کم گھروں میں ”ٹی وی لائونج“ نام کی جگہ ہوتی تھی، نوجوانوں کے اخلاق و کردار پر وی سی آر نے حملہ نہیں کیا تھا، پی ٹی وی کے خبرنامے میں نیوز کاسٹر تک دوپٹہ اوڑھ کر خبریں پڑھا کرتی تھیں، اب واہیات ابلاغیات نے سب کچھ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
سیلانی کو آج فیس بک پر ایک خاتون کی خود نمائی اور ان کے دوستوں کی جانب سے دیے جانے والے داد و تحسین کے ڈونگروں نے سعید بھائی کی ٹوٹی ہوئی خمیدہ ناک کی یاد دلا دی، فیس بک پر شائد ہی کوئی ہو جو اپنی تصاویر، بیانات اور خیالات جاری نا کرتا ہو، مستورات بھی مختلف مواقع کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کر کے خود نمائی کے شوق کی تسکین کرتی ہیں، اس کام کے لیے یقینا خواتین اور ان سے وابستہ حضرات کو فراغ دل ہونا پڑتا ہو گا، وہ محترمہ بھی خاصی ”فراغ دل" واقع ہوئی ہیں، پانچ ستارہ ہوٹلوں میں ہونے والے فیشن شوز میں بلی کی چال چلنے والی بیبیاں عموما اس طرح کی حرکات و سکنات کرتے ہوئے تصویریں بنواتی ہیں، گویا درد قولنج میں مبتلا ہوں یا ابھی ابھی نیند سے جاگی ہیں اور انگڑائی لے کر بستر سے نیچے اترنے کا سوچ رہی ہیں..... اس بی بی نے بھی ایسی ہی ادائوں کے ساتھ اپنی تصاویر فیس بک پر جاری کر دیں اور اس تصویر کے نیچے جملے اچھالنے والوں اور پسند کرنے والوں کی قطار بندھ گئی، سیلانی حیران رہ گیا، جب اس نے دیکھا کہ سات سو افراد نے اس تصویر پر مہر پسندیدگی ثبت کی اور تین سو نوے نے واہیات ابلاغیات کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ یہ سب دیکھ کر سیلانی کو بے اختیار سعید بھائی یاد آ گئے، آج یقینا ان کے منہ میں دانت ہوں گے نا پیٹ میں آنت ہو گی، غالبا وحید مراد کی زلفوں کی جگہ چمکتی ہوئی چندیا لے چکی ہو گی، آنکھیں بھی چندھیا گئی ہوں گی اور خمیدہ ناک کے ساتھ ساتھ کمر بھی خمیدہ ہو چکی ہو گی، ہو سکتا ہے ان کا حافظہ بھی خاصہ کمزور ہو گیا ہو اور الله کرے کمزور ہو گیا ہو کہ وہ ہاکی کے ذریعے خود پر ڈھائی جانے والی قیامت بھول چکے ہوں، اگر ایسا نہ ہوا تو وہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ میں تو صرف بلاواسطہ ہی منمنایا تھا، یہاں تو گھر گھر میں لونڈے لپاڑے فیس بک کھولے ایسے ایسے جملے چست کرتے پھر رہے ہیں کہ زمین پھٹے اور بندہ سما جائے اور پھر یہ موقع انھیں کون دے رہا ہے؟ لڑکیاں بالیاں، خواتین خود حوصلہ افزائی کر رہی ہیں، کاش اس وقت بھی فیس بک ہوتی، میری ناک اور دانت تو سلامت رہتے.....

 سیلانی یہ سوچ رہا تھا کہ فیس بک پر میلے کپڑوں کے ڈھیر کے ساتھ ایک خاتوں کی تصویر آ گئی، تصویر میں محترمہ دوپٹہ کمر کے گرد لپیٹے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے عاجزانہ منہ بنائے کھڑی تھیں، ساتھ ہی ان کی فیس بک کے دوستوں سے درخواست تھی: ”دعا کریں میری واشنگ مشین جلد ٹھیک ہو جائے۔“ سیلانی نے لاحول پڑھی اور بڑبڑایا بی بی، واشنگ مشین سے زیادہ آپ کو ٹھیک ہونے کی ضرورت ہے..... سیلانی بڑبڑاتے ہوئے بی بی کی میلے کپڑوں کے ڈھیر کے ساتھ تصویر دیکھتا رہا، دیکھتا رہا، اور دیکھتا چلا گیا۔




28 April 2013

وہ زہر جو دل میں اُتار لیا۔۔۔


وہ زہر جو دل میں اُتار لیا۔۔۔گلِ نوخیز اختر

آج کل ہر بندہ ٹینشن میں ہے ۔ کاروبار کی ٹینشن ….. نوکری کی ٹینشن …. مہنگائی کی ٹینشن ۔۔۔لوڈشیڈنگ کی ٹینشن ….. لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ جانی باؤلے کو ان میں سے کوئی بھی ٹینشن نہیں ….. جانی باؤلے کو میں عرصہ بیس سال سے جانتا ہوں ….. عمر تقریباٌ 40 سال ہے ….. پہلے جوتیوں کے کارخانے میں کام کرتا تھا ….. آجکل چوبرجی چوک میں تیل کی شیشیاں پکڑے مالش کرتا ہے ۔ میری اس سے پہلی ملاقات بڑی دلچسپ تھی …..ہم لوگ نوائے وقت (فیملی میگزین) کے لیے مالشیوں پر فیچر تیار کر رہے تھے ، فیچر کرنے کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ آپ جن لوگوں پر فیچر کر رہے ہوں انہیں صحافی بن کے ملنے کی بجائے عام انسان کے روپ میں ملیں ۔ سو ہماری ٹیم بھی کھلے ڈلے حلیے میں چوبرجی چوک کے پارک میں لنگر انداز تھی۔ اتنے میں ایک مالشیاء قریب سے شیشیاں کھڑکاتا ہوا گذرا ….. میں نے اسے آواز دے کر بلایا اور مالش کے ریٹ پوچھے ….. کہنے لگا ’’پانچ سوروپے لوں گا ….‘‘
میں نے کہا ’’بھائی میرے ۔۔۔مالش کروانی ہے …..کسی کی ہتہیا نہیں کروانی‘‘
وہ بحث و تمہید کرنے لگا ….. ابھی ہماری گفتگو جاری ہی تھی کہ اچانک ایک طرف سے لمبے لمبے بالوں اور الجھی ہوئی داڑھی والا ایک ادھیڑ عمر آدمی تیزی سے لپکا اور قریب آکر بولا ….. ’’ صاحب جی مجھے حکم کریں ‘میں سوروپے میں مالش کردوں گا؟؟؟‘‘
میں نے غور سے اسکی طرف دیکھا ….. اس سے پہلے کہ میں اسے کوئی جواب دیتا …… پہلے والے مالشیئے نے جلدی سے کہا …..’’صاحب جی ! اس کی بات پر نہ جائیں جی یہ تو باؤلا ہے اور …..‘‘
مالشیئے کی بات ابھی ادھوری ہی تھی کہ دوسرے مالشیئے نے شیشیاں زمین پر رکھ کر اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ جڑ دیا ….. ذرا سی دیر میں وہاں جنگ کا سماں پیدا ہو گیا ۔ اس روز مجھے پتا چلا کہ لڑنے والا’’ جانی باؤلا‘‘ ہے اور یہاں کا سب سے پرانا مالشیا ء ہے ۔تین چار جماعتیں پاس ہے اور اٹک اٹک کر اخبار وغیرہ پڑھ لیتا ہے۔ماں باپ‘ بہن بھائی اور رشتے داروں سے محروم ہے ‘ جہاں جگہ مل جائے سو جاتا ہے اور جو مل جائے کھا لیتا ہے لیکن لڑاکا بہت ہے‘ اس کی دو ہی خوبیاں مشہور ہے‘ پیار کرنے والوں پر جان دینا اور نفرت کرنے والوں کی جان عذاب میں ڈال دینا۔جانی باؤلا ایک عجیب و غریب شخصیت کا مالک ہے ۔ اگر کوئی اس سے مالش نہ کروائے تو یہ زبردستی پر اتر آتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ مالش اور پالش کے بغیر انسان انسان نہیں لگتا ۔ میں نے پوچھا …..’’ تم اپنی مالش کیوں نہیں کرتے ‘ اپنی پالش کیوں نہیں کرتے ….. ؟؟؟وہ غلیظ غلیظ دانت نکال کر ہنسنے لگا ….. ’’کھی کھی کھی کھی ….. میں کیوں کروں اپنی مالش ….. میں کوئی پاگل ہوں؟؟؟‘‘
’’اس کا مطلب ہے مالش کروانے والے پاگل ہوتے ہیں‘‘ میں نے اسے گھورا۔۔۔!!!
’’ہاںںںںںںں …..‘‘ اس نے لمبی سی ہاں کے ساتھ مجھے آنکھ ماری۔
میں نے کبھی اس شخص کو ٹینشن میں نہیں دیکھا ۔ عزت اور خودداری کا یہ عالم ہے کہ تین تین دن بھوکا رہ لے گا ….. مانگے کی روٹی نہیں کھائے گا۔ ایک دفعہ میں جیرے کے ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا ….. سڑک سے جانی گذرا ….. میں نے چونک کرآواز دی …..’’ جانی بھائی ….. آؤ کھانا کھا لو ….. !!!‘‘میری آواز سن کر وہ چونکا ….. پھر قریب آکر نقاہت کے باوجود دانت نکال کر بولا ….’’ نہیں پاء جی! ….. ابھی دو دن پہلے تو ڈٹ کے کھایا ہے …..‘‘ اور میری بے اختیار ہنسی نکل گئی۔۔۔میں نے بڑی کوشش کی کہ وہ میرے ساتھ بیٹھ کر ایک لقمہ ہی لگا لے‘ لیکن وہ بھی بڑا ڈھیٹ تھا‘ نہیں مانا۔ ہر دفعہ میرا بڑا دل چاہتا ہے کہ جانی کسی دن میرے ساتھ کھانا کھائے ….. لیکن نہ جانے کیوں وہ ہر دفعہ کنی کترا جاتا ہے ۔ جب اور کچھ نہیں بن پاتا تو میں جانی سے کہتا ہوں کہ میرے سر میں تیل ہی لگا دو ….. یہ بات جانی کے لیے قابل قبول ہوتی ہے لہذا وہ آسانی سے میرے سوروپے روپے قبول کر لیتا ہے ۔ ….. میں نے ایک دن اس سے پو چھا کہ لوگ تمہیں باؤلا کیوں کہتے ہیں ؟
دانت نکال کر بولا …..’’ بچپن میں مجھے ایک کتے نے کاٹ لیا تھا ….. بعد میں کتا مر گیا ….. !!!‘‘
’’کتا مر گیا؟؟؟….. یہ کیا بات ہوئی؟؟؟‘‘ میں حیران ہو گیا۔
اس نے مزیددانت نکالے ’’ ہاں جی ….. کتا مر گیا ….. اور میں باؤلا ہو گیا …..‘‘
’’لیکن تم تو بالکل ٹھیک ہو …..‘‘
’’نہیں جی ….. میں ٹھیک نہیں ہوں …. باؤلا ہوں ….. لوگ کہتے ہیں مجھ میں زہر آگیاہے ….. ہوٹل والے نے بھی میرے برتن الگ کیے ہوئے ہیں ….. صاحب! ….. آپ نے میرے ساتھ کھانا کھا لیا تو آپ بھی باؤلے ہو جائیں گے۔۔۔‘‘
’’یہ کیا بکواس ہے ….. انسان زہریلا نہیں ہو تا …..’’ میں نے اسے حوصلہ دیا۔
’’اچھا جی ….. ؟؟؟ ‘‘وہ مبہوت رہ گیا ….’’ تو کیا یہ سب جھوٹ کہتے ہیں ؟؟؟‘‘
’’ ہاں ….. جھوٹ کہتے ہیں‘‘ میں نے اس کے کندھے تھپتھپائے …..’’ بالکل جھوٹ کہتے ہیں ….. آؤ آج اکٹھے کھانا کھاتے ہیں …..‘‘
’’نن ….. نہیں ….. آ ….. آج ….. آج نہیں ۔۔۔‘‘ وہ پھر ڈر گیا۔۔۔!!!
’’کیوں ….. آج کیوں نہیں ….. ؟؟؟‘‘
’’بس ….. آج نہیں …..‘‘
’’بھئی کوئی وجہ تو ہوگی ناں؟؟؟‘‘ میں نے اصرار کیا۔۔۔!!!
’’آج ایک موت ہو گئی ہے ….. اس …. لیے ….. صاحب جی !جب کسی کی موت ہوتی ہے تو مجھ سے کھانا نہیں کھایا جاتا ‘‘۔اس نے دھیرے سے کہا اور چپ ہو گیا۔
’’موت؟؟؟ ….کس کی موت۔۔۔کون مرگیا ہے ….. ؟؟؟؟ میں پریشان ہوگیا۔
اس نے تھوڑی دیر سر نیچے رکھا ….. پھر اپنی بغل سے ایک مڑا تڑا اخبار نکالا ….. اسے کھولا اور میرے آگے کرتے ہوئے ایک تصویر پر انگلی رکھ دی۔ لکھا تھا ….. !!!
’’شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ ۔۔۔13بچے شہید ‘‘
میرا جسم یکدم سن ہو گیا ….. کچھ سوچنے سمجھنے کی تاب نہ رہی ….. ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے اور مجھے ایسا لگا جیسے میں بھی زہریلا ہو گیا ہوں!!!

4 December 2012

خون آشام بلائیں


وہ فلم ڈراؤنی تو بہت تھی لیکن تھی کمال کی۔آپ میں سے بہت سے دوستوں نے بھی وہ فلم ضرور دیکھی ہو گی۔مجھے اس کا نام یاد نہیں۔میں آپ کو اس کی سٹوری سناتا ہوں۔

اس فلم کی کہانی کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ وہ انسانی شکلوں کی خون آشام بلائیں ہوتی ہیں۔آپ ان کو آپ ڈریکولاز کہہ سکتے ہیں۔
وہ لوگ چالیس پچاس کی تعداد میں ہوتے ہیں ان کا مسکن شہر سے دور ایک ویران عمارت کا تنگ و تاریک تہہ خانہ ہوتا ہے۔وہ لوگ گھپ اندھیری راتوں میں اس تہہ خانے سے نکلتے ہیں اور شہر میں پھیل جاتے ہیں۔وہ سب کے سب انتہائی خوش شکل اور خوش لباس ہوتے ہیں جس کے سبب لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں وہ لوگ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے لوگوں کو بہلاتے پھسلاتے ہیں اور دھوکے سے اپنے ویران مسکن میں لے جاتے ہیں پھر سب اکٹھے اپنے اپنے شکار کی گردنوں میں اپنے دانت گاڑ کر ان کا خون پی جاتے ہیں۔

انسانی خون ان کے لئے ایک نشے کی حیثیت رکھتا ہے خون پینے کے بعد ان کے جسموں میں انتہا کی طاقت آ جاتی ہے۔ایک بڑی عجیب بات ہوتی ہے انسانوں کا خون پینے والوں کا آپس میں بہت اتفاق ہوتا ہے اور انتہا کی آپس میں محبت ہوتی ہے۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اقلیت میں تھے اور اقلیت میں اتحاد انتہا درجے کا ہوتا ہے۔
ان کا ایک سردار بھی ہوتا ہے جو ایک ایسا جادو کیا کرتا ہے جس کی وجہ سے اس شہر کے لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔اس لئے جب کوئی شخص شہر سے غائب ہوتا ہے تو شہر کے لوگ اس کے غائب ہونے کا کوئی نوٹس نہیں لیتے۔بلکہ کئی تو خوشی محسوس کرتے ہیں۔یوں ان کا شکار اور بھی آسان اور ہر قسم کے خطرے سے محفوظ ہوتا ہے۔ وہ لوگ روشنی سے انتہائی خوفزدہ رہتے ہیں اور اندھیروں سے محبت کرتے ہیں اندھیرا ان کی زندگی ہوتا ہے اور روشنی موت۔ان میں سے اگر کوئی غلطی سے سورج کی روشنی میں چلا جاتا ہے تو وہ مٹی کا ڈھیر بن کر رہ جاتا ہے۔
قصّہ مختصر یہ کہ ایک بار ان کا سربراہ نفرت کا جادو کسی وجہ سے نہیں کر پاتا۔
اس رات اس کے ساتھی انسانوں کے شکار پر جاتے ہیں جب وہ اپنے شکار کو گھیر کر واپس لوٹتے ہیں تو کچھ لوگ ان کا پیچھا کرتے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے ان کے مسکن تک پہنچ جاتے ہیں وہاں ان کا مقابلہ ان ڈریکولاز کے ساتھ ہوتا ہے جس میں انسان ان کی بے پناہ طاقت کی وجہ سے شکست کھا کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ادھر انسانوں کو کسی طرح اس راز کا پتہ چل جاتا ہے کہ وہ سورج کی روشنی ان کے لئے موت ہے۔چنانچہ وہ دن کی روشنی میں ان کے مسکن پر حملہ آور ہوتے ہیں ان کے تہہ خانے کو تباہ کرتے ہیں سورج کی روشنی ان پر پڑتی ہے جس کے باعث وہ تمام کے تمام مٹی کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔

مجھے پاکستان کی تاریخ دیکھ کر وہ فلم یاد آجاتی ہے۔
آزادی کے ساتھ ہی پاکستان کی جھولی میں بھی کچھ اسی طرح کے خون آشام جاگیردار اور سرمایہ دار خاندان آ گرے۔
یہ تمام خاندان آپس میں بہت متحد ہیں۔یہ باری باری اس قوم کی رگوں کا خون چوستے ہیں اور خون پی پی کر طاقتور ہوتے جا رہے ہیں۔یہ سب علم اور شعور کی روشنی سے سخت خوفزدہ ہیں۔قوم کو جہالت کے اندھیروں میں رکھنا چاہتے ہیں۔علم اور شعور کی روشنی پھیلنے سے ان کے وجود مٹی کا ڈھیر بن جائیں گے۔یہ تمام بہت متحد ہیں لیکن قوم کو تعصب کے جادو سے اِنہوں نے منتشر کر رکھا ہے۔ہماری آپس کی نفرت ہمیں ان کے خلاف متحد نہیں ہونے دیتی۔ جس کے باعث یہ کسی بھی خطرے سے محفوظ ہماری رگوں میں سے خون نچوڑ رہے ہیں۔
کب یہ نفرت پھیلانے والا جادو کرنا بھولیں گے؟
کب قوم متحد ہو گی؟
کب علم اور روشنی کا سورج طلوع ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔جس کی روشنی سے اِن کے وجود مٹی کا ڈھیر بن جائیں گے؟

دیوانہ مجنوں۔

10 November 2012

ایک پردیسی کی کہانی

پاکستان یا انڈیا میں جس بندے نے اچھے کلف لگے اکڑے ہوئے  کپڑے پہنے ہوں، بڑا صاف ستھرا بن کے بیٹھا ہو بقول شخصے ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دے، اس سے پوچھ کر دیکھیں کہ بھائی صاحب آپ کا کاروبار کیا ہے؟ تو زیادہ تر کا جواب ہو گا بھائی یا بیٹا باہر ہوتا ہے

یا یہ سوال کیا جائے ، بھائی آپ کیا کرتے هو؟
تو ان کا کوئی مصاحب پاس سے جواب دے گا جی پیسہ ان کے لیے مسئلہ ہی نہیں ہے، آپ نے سنا نہیں ہے کہ ان کے بھائی اور بیٹے باہر ہوتے ہیں.

یہ تحریر بھی اسی موضوع پر ہے۔ جو کہ ایک پردیسی اور اس کے گھر والوں کے مابین خطوط کی شکل میں ہے۔
شاید کچھ لمبی تحریر ہے لیکن پڑھیں گے تو اچھی لگے گی۔
 ----------------------------------------------------------------------------------

 پیارے ابو جان اور امی جان
مجھے آج ملک سے باہر پانچ سال ہو گئے اور میں اگلے ماہ اپنے وطن واپسی کا ارداہ کر رہا ہوں، میں نے اپنے ویزا کے لیے جو قرض لیا تھا وہ ادا کر چکا ہوں اور کچھ اخراجات پچھلی چھٹی پر ہو گئے تھے۔ تحفے تحائف لینے میں اور کچھ دیگر اخراجات۔ اب میرے پاس کوئی بڑی رقم موجود نہیں لیکن میری صحت ابھی ٹھیک ہے اور میں خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ پاکستان جا کر کوئی بھی اچھی نوکری کر سکوں اور گھر کے اخراجات چلا سکوں۔ یہ جگہ مجھے پسند نہیں ہے میں اپنے گھر رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں
آپکا پیارا – جمال

پیارے بیٹے جمال
تمھارا خط ملا اور ہمیں تمھاری چھٹی کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔باقی تمھاری امی کہہ رہی تھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور تم جانتے ہو برسات شروع ہونے والی ہے۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ گھر چونکہ پرانی اینٹوں اورلکڑیوں سے بنا ہے اس لیے اس کی مرمت پر کافی خرچ آئے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کنکریٹ اور سیمینٹ سے بنا ہوا گھر ہو تو بہت اچھا ہو۔ ایک اچھا اور نیا گھر وقت کی ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو یہاں کے کیا حالات ہیں اگر تم یہاں آ کر کام کرو گے تو اپنی محدود سی کمائی سے گھر کیسے بنا پاؤ گے۔ خیر گھر کا ذکر تو ویسے ہی کر دیا آگے جیسے تمھاری مرضی۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔

پیارے ابو جان اور امی جان
میں حساب لگا رہاتھا آج مجھے پردیس میں دس سال ہو چکے ہیں۔ اب میں اکثر تھکا تھکا رہتا ہوں، گھر کی بہت یاد آتی ہے اور اس ریگستان میں کوئی ساتھی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگلے ماہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر آجاؤں۔ دس سال کے عرصے میں الحمدللہ ہمارا پکا گھر بن چکا ہے اور جو ہمارے اوپر جو قرضے تھے وہ بھی میں اتار چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ اپنے وطن آ کر رہنے لگ جاؤں۔ اب پہلے والی ہمت تو نہیں رہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کر کے ، ٹیکسی چلا کے گھر کا خرچ چلا لوں گا۔ اس ریگستان سے میرا جی بھر گیا ہے۔ اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔
آپکا پیارا – جمال

پیارے بیٹے جمال
تمھارا خط ملا اور ہم پچھتا رہے ہیں اس وقت کو جب ہم نے تمھیں باہر جانے دیا، تم ہمارے لیے اپنے لڑکپن سے ہی کام کرنے لگ گئے۔ ایک چھوٹی سے بات کہنی تھی بیٹا۔ تمھاری بہنا زینب اب بڑی ہو گئی ہے ، اس کی عمر ۲۰ سے اوپر ہو گئی۔ اس کی شادی کے لیے کچھ سوچا ، کوئی بچت کر رکھی ہے اس لیے کہ نہیں۔ بیٹا ہماری تو اب یہی خواہش ہے کہ زینب کی شادی ہو جائے اور ہم اطمینان سے مر سکیں۔ بیٹا ناراض مت ہونا ، ہم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔

پیارے ابو جان اور امی جان
آج مجھے پردیس میں چودہ سال ہو گئے۔ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے۔ دن رات گدھے کی طرح کام کر کے میں بیزار ہو چکا ہوں، کمھار کا گدھا جب دن بھر کام کرتا رہتا ہے تو رات کو گھر لا کر اس کا مالک اس کے آگے پٹھے ڈال دیتا ہے اور اسے پانی بھی پلاتا ہے پر میرے لیے تو وہ بھی کوئی نہیں کرتا، کھانا پینا بھی مجھے خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ بس اب میں ویزا ختم کروا کر واپس آنے کا سوچ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ سالوں میں اللہ کی مدد سے ہم زندگی کی بیشتر آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ زینب بہنا کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے گھر میں سکھی ہے۔ اس کے سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے میں اکثر تحفے تحائف بھی بھیج دیتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے آپ لوگوں کو میں نے حج بھی کروا دیا اور کوئی قرضہ بھی باقی نہیں ہے۔ بس کچھ بیمار رہنے لگا ہوں، بی پی بڑھا ہوا ہے اور شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن جب گھرآؤں گا، گھر کے پرسکون ماحول میں رہوں گا اور گھرکا کھانا کھاؤں گا تو انشاء اللہ اچھا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی اگر یہاں مزید رہا تو میری تنخواہ تو دوائی دارو میں چلی جائے گی وہاں آ کر کسی حکیم سے سستی دوائی لے کر کام چلا لوں گا۔ اب بھی مجھ میں اتنی سکت ہے کہ کوئی ہلکا کام جیسے پرائیویٹ گاڑی چلانا کر لوں گا۔
آپکا پیارا – جمال

پیارے بیٹے جمال
بیٹا ہم تمھارا خط پڑھ کر کافی دیر روتے رہے۔ اب تم پردیس مت رہنا لیکن تمھاری بیوی زہرہ نے کچھ کہنا تھا تم سے ، اسکی بات بھی سن لو۔
(بیوی ) پیارے جانو جمال
میں نے کبھی آپکو کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا اور کسی چیز کے لیے کبھی ضد نہیں کی لیکن اب مجبوری میں کچھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے۔ آپکے بھائی جلال کی شادی کے بعد آپ کے والدین تو مکمل طور پر ہمیں بھول چکے ہیں ان کا تمام پیار نئی نویلی دلہن کے لیے ہے ، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ آبائی گھر جلال کو دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیے اگر آپ یہاں آ گئے اور مستقبل میں کبھی اس بات پر جھگڑا ہو گیا تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں جائیں گے۔ اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپ کو پتہ ہے سیمنٹ سریہ کی قیمتیں کتنی ہیں؟ مزدوروں کی دیہاڑی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ یہاں رہ کر ہم کبھی بھی اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔
آپکی پیاری جان۔ زہرہ

پیاری شریک حیات زہرہ
انیسواں سال چل رہا ہےپردیس میں، اور بیسواں بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہمارا نیا علیحدہ گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور گھرمیں آج کے دور کی تمام آسائشیں بھی لگ چکی ہیں۔ اب تمام قرضوں کے بوجھ سے کمر سیدھی ہو چکی ہے میری ، اب میرے پاس ریٹائرمنٹ فنڈ کے سوا کچھ نہیں بچا، میری نوکری کی مدت بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر کمپنی میرا ریٹائرمنٹ فنڈ جو کہ ۲۵۰۰ ہزار درہم ہے جاری کردے گی۔ اتنے لمبے عرصے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کے بعد میں بھول ہی گیا ہوں کہ گھر میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔بہت سے عزیز دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور بہت سوں کی شکل تک مجھے بھول گئی۔ لیکن میں مطمئن ہوں ، اللہ کے کرم ہے کہ میں گھر والوں کو اچھی زندگی مہیا کر سکا اور اپنوں کے کام آسکا۔ اب بالوں میں چاندی اتر آئی ہے اور طبیعت بھی کچھ اچھی نہیں رہتی۔ ہر ہفتہ ڈیڑھ بعد ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب میں واپس آکر اپنوں میں رہوں گا۔ اپنی پیاری شریک حیات اور عزیز از جان بچوں کے سامنے۔
تمھارا شریک سفر – جمال

پیارے جانو جمال
آپ کے آنے کا سن کر میں بہت خوش ہوں۔ چاہے پردیس میں کچھ لمبا قیام ہی ہو گیا لیکن یہ اچھی خبر ہے ۔ مجھے تو آپکے آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بڑا بیٹا احمد ہے نا، وہ ضد کر رہا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لے گا۔ میرٹ تو اس کا بنا نہیں مگر سیلف فنانس سے داخلہ مل ہی جائے گا۔ کہتا ہے کہ جن کے ابو باہر ہوتے ہیں سب یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سال چار لاکھ فیس ہے اور اگلے تین سال میں ہر سال تین تین لاکھ۔ اور ہم نے پتہ کروایا ہے تو یونیورسٹی والے انسٹالمنٹ میں فیس بھرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی ۳۰ تک فیس کی پہلی قسط بھرنی پڑے گی،
آپکے جواب کی منتطر ، آپکی پیاری جان۔ زہرہ

اس نے بیٹے کی پڑھائی کے لیے ساری رقم بھیج دی۔ بیٹی کی شادی کے لیے جہیز اور دیگر اخراجات بھیجے۔ مگر اب ستائیس سال ہو چکے تھے۔ وہ خود کو ائر پورٹ کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔ شوگر، بلڈ پریشر، السر ،گردے و کمر کا درد اورجھریوں والا سیاہ چہرا اس کی کمائی تھا۔ اسے اچانک اپنی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ ایک ان کھلا خط تھا۔
یہ وہ پہلا خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا ۔