This is default featured slide 1 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
This is default featured slide 2 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
This is default featured slide 3 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
This is default featured slide 4 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
This is default featured slide 5 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
5 September 2013
کاش اس وقت بھی فیس بک ہوتی
28 April 2013
وہ زہر جو دل میں اُتار لیا۔۔۔
وہ زہر جو دل میں اُتار لیا۔۔۔گلِ نوخیز اختر
میں نے کہا ’’بھائی میرے ۔۔۔مالش کروانی ہے …..کسی کی ہتہیا نہیں کروانی‘‘
وہ بحث و تمہید کرنے لگا ….. ابھی ہماری گفتگو جاری ہی تھی کہ اچانک ایک طرف سے لمبے لمبے بالوں اور الجھی ہوئی داڑھی والا ایک ادھیڑ عمر آدمی تیزی سے لپکا اور قریب آکر بولا ….. ’’ صاحب جی مجھے حکم کریں ‘میں سوروپے میں مالش کردوں گا؟؟؟‘‘
میں نے غور سے اسکی طرف دیکھا ….. اس سے پہلے کہ میں اسے کوئی جواب دیتا …… پہلے والے مالشیئے نے جلدی سے کہا …..’’صاحب جی ! اس کی بات پر نہ جائیں جی یہ تو باؤلا ہے اور …..‘‘
مالشیئے کی بات ابھی ادھوری ہی تھی کہ دوسرے مالشیئے نے شیشیاں زمین پر رکھ کر اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ جڑ دیا ….. ذرا سی دیر میں وہاں جنگ کا سماں پیدا ہو گیا ۔ اس روز مجھے پتا چلا کہ لڑنے والا’’ جانی باؤلا‘‘ ہے اور یہاں کا سب سے پرانا مالشیا ء ہے ۔تین چار جماعتیں پاس ہے اور اٹک اٹک کر اخبار وغیرہ پڑھ لیتا ہے۔ماں باپ‘ بہن بھائی اور رشتے داروں سے محروم ہے ‘ جہاں جگہ مل جائے سو جاتا ہے اور جو مل جائے کھا لیتا ہے لیکن لڑاکا بہت ہے‘ اس کی دو ہی خوبیاں مشہور ہے‘ پیار کرنے والوں پر جان دینا اور نفرت کرنے والوں کی جان عذاب میں ڈال دینا۔جانی باؤلا ایک عجیب و غریب شخصیت کا مالک ہے ۔ اگر کوئی اس سے مالش نہ کروائے تو یہ زبردستی پر اتر آتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ مالش اور پالش کے بغیر انسان انسان نہیں لگتا ۔ میں نے پوچھا …..’’ تم اپنی مالش کیوں نہیں کرتے ‘ اپنی پالش کیوں نہیں کرتے ….. ؟؟؟وہ غلیظ غلیظ دانت نکال کر ہنسنے لگا ….. ’’کھی کھی کھی کھی ….. میں کیوں کروں اپنی مالش ….. میں کوئی پاگل ہوں؟؟؟‘‘
’’اس کا مطلب ہے مالش کروانے والے پاگل ہوتے ہیں‘‘ میں نے اسے گھورا۔۔۔!!!
’’ہاںںںںںںں …..‘‘ اس نے لمبی سی ہاں کے ساتھ مجھے آنکھ ماری۔
میں نے کبھی اس شخص کو ٹینشن میں نہیں دیکھا ۔ عزت اور خودداری کا یہ عالم ہے کہ تین تین دن بھوکا رہ لے گا ….. مانگے کی روٹی نہیں کھائے گا۔ ایک دفعہ میں جیرے کے ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا ….. سڑک سے جانی گذرا ….. میں نے چونک کرآواز دی …..’’ جانی بھائی ….. آؤ کھانا کھا لو ….. !!!‘‘میری آواز سن کر وہ چونکا ….. پھر قریب آکر نقاہت کے باوجود دانت نکال کر بولا ….’’ نہیں پاء جی! ….. ابھی دو دن پہلے تو ڈٹ کے کھایا ہے …..‘‘ اور میری بے اختیار ہنسی نکل گئی۔۔۔میں نے بڑی کوشش کی کہ وہ میرے ساتھ بیٹھ کر ایک لقمہ ہی لگا لے‘ لیکن وہ بھی بڑا ڈھیٹ تھا‘ نہیں مانا۔ ہر دفعہ میرا بڑا دل چاہتا ہے کہ جانی کسی دن میرے ساتھ کھانا کھائے ….. لیکن نہ جانے کیوں وہ ہر دفعہ کنی کترا جاتا ہے ۔ جب اور کچھ نہیں بن پاتا تو میں جانی سے کہتا ہوں کہ میرے سر میں تیل ہی لگا دو ….. یہ بات جانی کے لیے قابل قبول ہوتی ہے لہذا وہ آسانی سے میرے سوروپے روپے قبول کر لیتا ہے ۔ ….. میں نے ایک دن اس سے پو چھا کہ لوگ تمہیں باؤلا کیوں کہتے ہیں ؟
دانت نکال کر بولا …..’’ بچپن میں مجھے ایک کتے نے کاٹ لیا تھا ….. بعد میں کتا مر گیا ….. !!!‘‘
’’کتا مر گیا؟؟؟….. یہ کیا بات ہوئی؟؟؟‘‘ میں حیران ہو گیا۔
اس نے مزیددانت نکالے ’’ ہاں جی ….. کتا مر گیا ….. اور میں باؤلا ہو گیا …..‘‘
’’لیکن تم تو بالکل ٹھیک ہو …..‘‘
’’نہیں جی ….. میں ٹھیک نہیں ہوں …. باؤلا ہوں ….. لوگ کہتے ہیں مجھ میں زہر آگیاہے ….. ہوٹل والے نے بھی میرے برتن الگ کیے ہوئے ہیں ….. صاحب! ….. آپ نے میرے ساتھ کھانا کھا لیا تو آپ بھی باؤلے ہو جائیں گے۔۔۔‘‘
’’یہ کیا بکواس ہے ….. انسان زہریلا نہیں ہو تا …..’’ میں نے اسے حوصلہ دیا۔
’’اچھا جی ….. ؟؟؟ ‘‘وہ مبہوت رہ گیا ….’’ تو کیا یہ سب جھوٹ کہتے ہیں ؟؟؟‘‘
’’ ہاں ….. جھوٹ کہتے ہیں‘‘ میں نے اس کے کندھے تھپتھپائے …..’’ بالکل جھوٹ کہتے ہیں ….. آؤ آج اکٹھے کھانا کھاتے ہیں …..‘‘
’’نن ….. نہیں ….. آ ….. آج ….. آج نہیں ۔۔۔‘‘ وہ پھر ڈر گیا۔۔۔!!!
’’کیوں ….. آج کیوں نہیں ….. ؟؟؟‘‘
’’بس ….. آج نہیں …..‘‘
’’بھئی کوئی وجہ تو ہوگی ناں؟؟؟‘‘ میں نے اصرار کیا۔۔۔!!!
’’آج ایک موت ہو گئی ہے ….. اس …. لیے ….. صاحب جی !جب کسی کی موت ہوتی ہے تو مجھ سے کھانا نہیں کھایا جاتا ‘‘۔اس نے دھیرے سے کہا اور چپ ہو گیا۔
’’موت؟؟؟ ….کس کی موت۔۔۔کون مرگیا ہے ….. ؟؟؟؟ میں پریشان ہوگیا۔
اس نے تھوڑی دیر سر نیچے رکھا ….. پھر اپنی بغل سے ایک مڑا تڑا اخبار نکالا ….. اسے کھولا اور میرے آگے کرتے ہوئے ایک تصویر پر انگلی رکھ دی۔ لکھا تھا ….. !!!
’’شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ ۔۔۔13بچے شہید ‘‘
میرا جسم یکدم سن ہو گیا ….. کچھ سوچنے سمجھنے کی تاب نہ رہی ….. ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے اور مجھے ایسا لگا جیسے میں بھی زہریلا ہو گیا ہوں!!!
4 December 2012
خون آشام بلائیں
10 November 2012
ایک پردیسی کی کہانی
یا یہ سوال کیا جائے ، بھائی آپ کیا کرتے هو؟
تو ان کا کوئی مصاحب پاس سے جواب دے گا جی پیسہ ان کے لیے مسئلہ ہی نہیں ہے، آپ نے سنا نہیں ہے کہ ان کے بھائی اور بیٹے باہر ہوتے ہیں.
یہ تحریر بھی اسی موضوع پر ہے۔ جو کہ ایک پردیسی اور اس کے گھر والوں کے مابین خطوط کی شکل میں ہے۔
شاید کچھ لمبی تحریر ہے لیکن پڑھیں گے تو اچھی لگے گی۔
آپکا پیارا – جمال
تمھارا خط ملا اور ہمیں تمھاری چھٹی کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔باقی تمھاری امی کہہ رہی تھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور تم جانتے ہو برسات شروع ہونے والی ہے۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ گھر چونکہ پرانی اینٹوں اورلکڑیوں سے بنا ہے اس لیے اس کی مرمت پر کافی خرچ آئے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کنکریٹ اور سیمینٹ سے بنا ہوا گھر ہو تو بہت اچھا ہو۔ ایک اچھا اور نیا گھر وقت کی ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو یہاں کے کیا حالات ہیں اگر تم یہاں آ کر کام کرو گے تو اپنی محدود سی کمائی سے گھر کیسے بنا پاؤ گے۔ خیر گھر کا ذکر تو ویسے ہی کر دیا آگے جیسے تمھاری مرضی۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔
میں حساب لگا رہاتھا آج مجھے پردیس میں دس سال ہو چکے ہیں۔ اب میں اکثر تھکا تھکا رہتا ہوں، گھر کی بہت یاد آتی ہے اور اس ریگستان میں کوئی ساتھی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگلے ماہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر آجاؤں۔ دس سال کے عرصے میں الحمدللہ ہمارا پکا گھر بن چکا ہے اور جو ہمارے اوپر جو قرضے تھے وہ بھی میں اتار چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ اپنے وطن آ کر رہنے لگ جاؤں۔ اب پہلے والی ہمت تو نہیں رہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کر کے ، ٹیکسی چلا کے گھر کا خرچ چلا لوں گا۔ اس ریگستان سے میرا جی بھر گیا ہے۔ اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔
آپکا پیارا – جمال
تمھارا خط ملا اور ہم پچھتا رہے ہیں اس وقت کو جب ہم نے تمھیں باہر جانے دیا، تم ہمارے لیے اپنے لڑکپن سے ہی کام کرنے لگ گئے۔ ایک چھوٹی سے بات کہنی تھی بیٹا۔ تمھاری بہنا زینب اب بڑی ہو گئی ہے ، اس کی عمر ۲۰ سے اوپر ہو گئی۔ اس کی شادی کے لیے کچھ سوچا ، کوئی بچت کر رکھی ہے اس لیے کہ نہیں۔ بیٹا ہماری تو اب یہی خواہش ہے کہ زینب کی شادی ہو جائے اور ہم اطمینان سے مر سکیں۔ بیٹا ناراض مت ہونا ، ہم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔
آج مجھے پردیس میں چودہ سال ہو گئے۔ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے۔ دن رات گدھے کی طرح کام کر کے میں بیزار ہو چکا ہوں، کمھار کا گدھا جب دن بھر کام کرتا رہتا ہے تو رات کو گھر لا کر اس کا مالک اس کے آگے پٹھے ڈال دیتا ہے اور اسے پانی بھی پلاتا ہے پر میرے لیے تو وہ بھی کوئی نہیں کرتا، کھانا پینا بھی مجھے خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ بس اب میں ویزا ختم کروا کر واپس آنے کا سوچ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ سالوں میں اللہ کی مدد سے ہم زندگی کی بیشتر آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ زینب بہنا کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے گھر میں سکھی ہے۔ اس کے سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے میں اکثر تحفے تحائف بھی بھیج دیتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے آپ لوگوں کو میں نے حج بھی کروا دیا اور کوئی قرضہ بھی باقی نہیں ہے۔ بس کچھ بیمار رہنے لگا ہوں، بی پی بڑھا ہوا ہے اور شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن جب گھرآؤں گا، گھر کے پرسکون ماحول میں رہوں گا اور گھرکا کھانا کھاؤں گا تو انشاء اللہ اچھا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی اگر یہاں مزید رہا تو میری تنخواہ تو دوائی دارو میں چلی جائے گی وہاں آ کر کسی حکیم سے سستی دوائی لے کر کام چلا لوں گا۔ اب بھی مجھ میں اتنی سکت ہے کہ کوئی ہلکا کام جیسے پرائیویٹ گاڑی چلانا کر لوں گا۔
آپکا پیارا – جمال
بیٹا ہم تمھارا خط پڑھ کر کافی دیر روتے رہے۔ اب تم پردیس مت رہنا لیکن تمھاری بیوی زہرہ نے کچھ کہنا تھا تم سے ، اسکی بات بھی سن لو۔
(بیوی ) پیارے جانو جمال
میں نے کبھی آپکو کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا اور کسی چیز کے لیے کبھی ضد نہیں کی لیکن اب مجبوری میں کچھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے۔ آپکے بھائی جلال کی شادی کے بعد آپ کے والدین تو مکمل طور پر ہمیں بھول چکے ہیں ان کا تمام پیار نئی نویلی دلہن کے لیے ہے ، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ آبائی گھر جلال کو دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیے اگر آپ یہاں آ گئے اور مستقبل میں کبھی اس بات پر جھگڑا ہو گیا تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں جائیں گے۔ اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپ کو پتہ ہے سیمنٹ سریہ کی قیمتیں کتنی ہیں؟ مزدوروں کی دیہاڑی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ یہاں رہ کر ہم کبھی بھی اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔
آپکی پیاری جان۔ زہرہ
انیسواں سال چل رہا ہےپردیس میں، اور بیسواں بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہمارا نیا علیحدہ گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور گھرمیں آج کے دور کی تمام آسائشیں بھی لگ چکی ہیں۔ اب تمام قرضوں کے بوجھ سے کمر سیدھی ہو چکی ہے میری ، اب میرے پاس ریٹائرمنٹ فنڈ کے سوا کچھ نہیں بچا، میری نوکری کی مدت بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر کمپنی میرا ریٹائرمنٹ فنڈ جو کہ ۲۵۰۰ ہزار درہم ہے جاری کردے گی۔ اتنے لمبے عرصے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کے بعد میں بھول ہی گیا ہوں کہ گھر میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔بہت سے عزیز دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور بہت سوں کی شکل تک مجھے بھول گئی۔ لیکن میں مطمئن ہوں ، اللہ کے کرم ہے کہ میں گھر والوں کو اچھی زندگی مہیا کر سکا اور اپنوں کے کام آسکا۔ اب بالوں میں چاندی اتر آئی ہے اور طبیعت بھی کچھ اچھی نہیں رہتی۔ ہر ہفتہ ڈیڑھ بعد ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب میں واپس آکر اپنوں میں رہوں گا۔ اپنی پیاری شریک حیات اور عزیز از جان بچوں کے سامنے۔
تمھارا شریک سفر – جمال
آپ کے آنے کا سن کر میں بہت خوش ہوں۔ چاہے پردیس میں کچھ لمبا قیام ہی ہو گیا لیکن یہ اچھی خبر ہے ۔ مجھے تو آپکے آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بڑا بیٹا احمد ہے نا، وہ ضد کر رہا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لے گا۔ میرٹ تو اس کا بنا نہیں مگر سیلف فنانس سے داخلہ مل ہی جائے گا۔ کہتا ہے کہ جن کے ابو باہر ہوتے ہیں سب یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سال چار لاکھ فیس ہے اور اگلے تین سال میں ہر سال تین تین لاکھ۔ اور ہم نے پتہ کروایا ہے تو یونیورسٹی والے انسٹالمنٹ میں فیس بھرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی ۳۰ تک فیس کی پہلی قسط بھرنی پڑے گی،
آپکے جواب کی منتطر ، آپکی پیاری جان۔ زہرہ
یہ وہ پہلا خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا ۔




















