Test Footer 2

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

Showing posts with label علمی. Show all posts
Showing posts with label علمی. Show all posts

20 January 2014

مقامِ محمود

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعا ہوتی ہے جو وہ کرتا ہے (اور وہ قبول ہوتی ہے) اور میں چاہتا ہوں کہ اپنی دعا آخرت میں امت کی شفاعت کیلئے محفوظ رکھوں۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1254


صحیح بخاری میں ایک طویل روایت ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے روز جب لوگ سخت مصیبت میں مبتلا ہوں گے تو یکے بعد دیگرے مختلف انبیائے کرام کے پاک جائیں گے اور عرض کریں گے: اے الله کے نبی! الله تعالیٰ کےحضور ہماری سفارش کر دیجیے ۔ انبیائے کرام یکے بعد دیگرے  معذوری ظاہر کریں گے۔ آخر کار لوگ رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور سفارش کی درخواست کریں گے۔ اس کے بعد کیا ہو گا وہ الله کے رسول کی زبانی ملاحظہ کیجیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کے پاس جائیں گے پھر سب سے پہلے حضرت آدم کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنی اولاد کے لئے شفاعت فرمائیں وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں سب لوگ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں مگر تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ وہ روح اللہ اور کلمة اللہ ہیں چنانچہ سب لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں لیکن تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔

 وہ سب میرے پاس آئیں گے میں ان سے کہوں گا کہ ہاں میں اس کا اہل ہوں اور میں ان کے ساتھ چل پڑوں گا اور اللہ سے اجازت مانگوں گا مجھے اجازت ملے گی اور میں اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کی ایسی حمد وثنا بیان کروں گا کہ آج میں اس پر قادر نہیں ہوں وہ حمد وثناء اللہ اسی وقت القاء فرمائیں گے اس کے بعد میں سجدہ میں گر جاؤں گا مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد اپنا سر اٹھائیے اور فرمائیے سنا جائے گا اور مانگئے دیا جائے گا اور شفاعت کیجئے شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے پروردگار میری امت میری امت ۔ تو پھر اللہ فرمائیں گے جاؤ جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو میں ایسے سب لوگوں کو دوزخ سے نکال لوں گا۔

 پھر اپنے پروردگار کے سامنے آکر اسی طرح حمد بیان کروں گا اور سجدہ میں پڑ جاؤں گا پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد اپنا سر اٹھائیے فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کیجئے شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت ۔ پھر اللہ پاک مجھے فرمائیں گے کہ جاؤ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو۔

میں ایسا ہی کروں گا اور پھر لوٹ کر اپنے رب کے پاس آؤں گا اور اسی طرح حمد بیان کروں گا پھر سجدہ میں گر پڑوں گا مجھ سے کہا جائے گا اے محمد فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کریں شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت۔ مجھ سے اللہ پاک فرمائیں گے کہ جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانہ سے بھی کم بہت کم اور بہت ہی کم ہو اسے بھی دوزخ سے نکال لو میں ایسا ہی کروں گا۔

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 479

میں ان کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا یہاں تک کہ دوزخ میں کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ، بجز ان کے جن کو قرآن نے روک رکھا ہوگا یعنی (قرآن کی رو سے) جن پر دوزخ میں ہمیشہ رہنا واجب ہے ۔ انس کا بیان ہے کہ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی

"عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا"۔ بنی اسرائیل 79
ترجمہ: یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا؟
  اور فرمایا کہ یہی مقام محمود ہے جس کا تمہارے نبی سے وعدہ کیا گیا تھا ۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2333

 





14 December 2013

سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب




مسلم دنیا کی تاریخ کے تین بڑے سانحے ہیں: سقوطِ بغداد، سقوطِ دلّی اور سقوطِ ڈھاکا۔ لیکن ان سانحوں میں سب سے بڑا سانحہ سقوطِ ڈھاکا ہے۔ اس کی چار وجوہ ہیں:
(1) سقوطِ بغداد اور سقوطِ دلّی داخلی کمزوری کا نتیجہ نہیں تھے لیکن سقوطِ ڈھاکا میں مقامی آبادی دشمن کے ساتھ کھڑی ہوگئی یا اسے ایسا کرنے پر مجبور کردیا گیا۔
(2) سقوطِ ڈھاکا میں مسلم فوجوں نے تقریباً لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے۔
(3) سقوطِ ڈھاکا کے نتیجے میں ہمارے 90 ہزار فوجی گرفتار ہوئے اور انہوں نے دشمن کی قید میں طویل مدت گزاری۔
(4) اس کے باوجود کہ پاکستان کا مغربی بازو پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر موجود رہا، تاہم 42 سال گزرنے کے باوجود نہ سقوطِ ڈھاکا کے ذمے داروں کا تعین ہوا اور نہ اس سلسلے میں کسی کو سزا دی گئی۔

لیکن یہ کہانی شروع کہاں سے ہوتی ہے؟
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا عجیب وغریب پہلو یہ ہے کہ ملک اقلیتیں توڑتی ہیں۔ وہ اکثریت کی شکایت کرتی ہیں اور ملک سے الگ ہونے کے لیے کوشاں ہوتی ہیں۔ لیکن مشرقی پاکستان میں اکثریت نے اقلیت سے الگ ہونے کی جدوجہد کی، حالانکہ یہ اکثریت برصغیر میں مسلمانوں کے مفادات کے لیے سب سے پہلے آواز بلند کرنے والی اور تحریکِ پاکستان میں سر دھڑ کی بازی لگا دینے والی اکثریت تھی۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ دلّی‘ لاہور‘ کراچی یا پشاور میں نہیں 1906ء میں ڈھاکا میں قائم ہوئی تھی اور اُس کے بانیوں میں بنگالی قائدین کی اکثریت تھی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ بنگال میں انگریزوں اور ہندوئوں کے جبر کا احساس شدید تھا اور بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بنگالی مسلمانوں میں سیاسی شعور کی سطح بلند تھی۔ بنگالیوں کا یہ سیاسی شعور تحریکِ پاکستان میں پوری طرح بروئے کار آیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جن بنگالیوں نے 1947ء میں پاکستان بنایا تھا وہ قیام پاکستان کے محض 24 سال بعد پاکستان سے الگ ہونے پر کیوں مائل ہوگئے؟

پاکستان کے ساتھ سب سے بڑا سانحہ یہ ہوا کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ قائداعظم کی اہمیت یہ تھی کہ وہ پاکستان بنانے والے تھے۔ پورے ملک کے عوام پر ان کا گہرا اخلاقی اور تاریخی اثر تھا اور عوام کی عظیم اکثریت ان سے محبت کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ قائداعظم پاکستان کی وحدت و سلامتی کی علامت تھے۔ وہ ہر طرح کی تقسیم سے بلند تھے اور ملک کے تمام طبقات ان پر بھروسا کرتے تھے۔ صرف قائداعظم میں یہ جرأت تھی کہ وہ ڈھاکا میں کھڑے ہوکر کہیں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی۔ عام طور پر جماعتیں رہنمائوں کے بعد ان کا نعم البدل بن جاتی ہیں، مگر مسلم لیگ کی حالت خستہ تھی اور قائداعظم کے بعد ان کی جگہ لینے کے لیے نہ کوئی شخصیت موجود تھی نہ جماعت۔ لیکن قائداعظم کی عدم موجودگی سے بھی بڑا سانحہ یہ ہوا کہ پاکستان جس نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا، 1948ء سے 1971ء تک اسے حقیقت بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی، بلکہ اس کے برعکس ملک کا اقتدار اُن لوگوں کے ہاتھ میں آگیا جو سیکولر تھے، لبرل تھے اور جن کو مذہب سے رتی برابر دلچسپی نہیں تھی۔چنانچہ مغربی اورمشرقی پاکستان کے درمیان قربت اور یگانگت کا وہ احساس پیدا ہی نہیں ہوسکا جو اسلام پیداکرتا ہے اور جس نے برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کو نسل، زبان، جغرافیہ اور فرقہ و مسلک سے بلند ہونے پر مائل کیا تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی کہانی ایک فقرے میں بیان کی جاسکتی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان مذہب کی قوت نے بنایا تھا اور مذہب کی قوت کی عدم موجودگی نے پاکستان کو دولخت کردیا۔ لیکن اس کا ذمہ دار مذہب نہیں وہ حکمران طبقہ ہے جس نے پاکستان میں اسلام کو اپنے امکانات ظاہر ہی نہیں کرنے دیے۔ اسلام دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست تخلیق کرسکتا تھا تو وہ اس ریاست کو سپر پاور بھی بناسکتا تھا۔ ریاست مدینہ کیا خلافتِ عثمانیہ تک اس کی ٹھوس مثال ہے۔ بعض لوگ مذہب کی اہمیت پر اس اصرار کو ’’مبالغہ آمیز‘‘ سمجھتے ہیں۔ اس کی دو وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ ان لوگوں کا مذہب سے تعلق ہی نہیں ہوتا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ مذہب کو صرف عقائد و عبادات اور اخلاقیات کا مجموعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور جب ا سلام پر عمل ہوتا ہے تو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا پورا سانچہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس کی ایک مثال اسلام کا تصورِ عدل ہے جس کے بغیر اسلامی معاشرے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، اور مشرقی پاکستان کے حوالے سے ہمیں کہیں بھی عدل نظر نہیں آتا۔

مشرقی پاکستان کی آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا 54 فیصد تھی اور مشرقی پاکستان کے لوگوں کو اسی اعتبار سے پاکستان کے معاشی اور سماجی کیک سے حصہ فراہم ہونا چاہیے تھا۔ لیکن مشرقی پاکستان کے لوگوں سے کہا گیا کہ تمہیں مساوات یا Parity کے اصول کو تسلیم کرنا ہوگا اور وسائل میں تمہارا حصہ 54 فیصد نہیں صرف 50 فیصد ہوگا۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کے لیے اس اصول کو تسلیم کرنا آسان نہ تھا لیکن حسین شہید سہروردی نے پاکستان کی وحدت کے لیے اس اصول کو تسلیم کرنے کی مہم چلائی اور وہ اپنی مہم میں کامیاب رہے۔ لیکن مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے مساوات کے اصول پر بھی عمل نہ کیا۔ یہاں تک کہ حسین شہید سہروردی کی عزیزہ شائستہ اکرام اللہ نے اپنی کتاب ’’پردے سے پارلیمنٹ تک‘‘ میں شکایت کی ہے کہ حسین شہید سہروردی نے مساوات کے اصول کے حق میں مہم چلا کر اپنے سیاسی کیریئر کو دائو پر لگایا لیکن مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے کبھی اُن کی اس خدمت کا اعتراف کرنا تک پسند نہ کیا۔ نتیجہ یہ کہ مشرقی پاکستان میں معاشی استحصال کی شکایات عام ہوگئیں۔ ان شکایات کو عملی زندگی کے تجربات سے تقویت فراہم ہوتی رہی۔ مثال کے طور پر بنگالی‘ آبادی کا 54 فیصد تھے لیکن برّی فوج میں ان کی موجودگی صرف آٹھ دس فیصد تھی۔ فضائیہ میں ان کی موجودگی زیادہ تھی مگر یہ بھی پندرہ بیس فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان ہجرت کرنے والے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اگر مشرقی پاکستان میں 50 تھانے تھے تو صرف پانچ چھ تھانوں کے سربراہ بنگالی تھے۔ باقی تھانوں کے ایس ایچ اوز پنجابی‘ پٹھان یا مہاجر تھے۔ پاکستان کی نوکر شاہی کا معاملہ بھی یہی تھا۔ بیوروکریسی میں بنگالیوں کی موجودگی آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ یہ صورت حال بنگالی 24 سال تک اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے، چنانچہ اُن میں مغربی پاکستان کے حکمرانوں کے خلاف ردعمل پیدا ہونا فطری بات ہے۔ جنرل یحییٰ خان نے فوج میں بنگالیوں کی کمی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی، مگر اُس وقت تک دیر ہوچکی تھی اور جنرل یحییٰ کے اضافے سے بھی بنگالیوں کا فیصد برّی فوج میں دس سے بڑھ کر پندرہ بیس فیصد ہوجاتا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ جیسے پاکستان‘ اس کی فوج‘ اس کی پولیس اور اس کی بیوروکریسی پنجابیوں‘ پٹھانوں اور مہاجروں کو ’’جہیز‘‘ میں ملی تھی اور اس جہیز میں بنگالیوں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم کاز کے لیے بنگالی 1906ء سے جدوجہد کررہے تھے جبکہ پنجاب میں1946ء تک یونینسٹوں اور صوبہ سرحد پر سرحدی گاندھی کا قبضہ تھا۔ لیکن ناانصافی سے بھی زیادہ افسوس ناک چیز بنگالیوں کی تذلیل اور تحقیر تھی۔

اس تحقیر کا ایک پہلو ’’مارشل ریس‘‘ کا نظریہ تھا جس کے تحت صرف چھ فٹ کے جوان فوج کے لیے موزوں سمجھے جاتے تھے، جبکہ بنگالی پستہ قد تھے، چنانچہ وہ پنجابیوں‘ پٹھانوں اور مہاجروں کے برابر ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ یہ تحقیر مغربی پاکستان کے حکمرانوں بالخصوص فوجیوں میں اوپر سے نیچے تک موجود تھی۔ ایم ایم عالم پاک فضائیہ کے بے مثال شاہین تھے۔ انہوں نے 1965ء کی جنگ میں دو منٹ میں بھارت کے چار جہاز گرائے تھے اور یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ چند سال پہلے وہ اے آر وائی پر انٹرویو دیتے ہوئے بتارہے تھے کہ جنرل ایوب کو جب میرے کارنامے کی اطلاع دی گئی تو وہ بہت خوش ہوئے لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ کارنامہ انجام دینے و الا بنگالی ہے تو اُن کا چہرہ سرخ سے سیاہ ہوگیا۔ یعنی انہیں یہ بات پسند نہ آئی۔ کرنل صدیق سالک نے اپنی کتاب ’’میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا‘‘ میں لکھا ہے کہ وہ سقوطِ ڈھاکا سے کافی عرصہ پہلے ڈھاکا پہنچے تو ہوائی اڈے پر ایک بنگالی نے ان کے لیے قلی کا کام انجام دیا۔ صدیق سالک نے اس بنگالی کو کچھ پیسے دینے چاہے تو ان کو ہوائی اڈے پر “Recieve” کرنے والے فوجی افسر نے کہا: ’’سر، ان حرام زادوں کا دماغ خراب نہ کریں‘‘۔ یعنی ہمارے فوجی افسر کے لیے ایک عام بنگالی ’’حرام زادہ‘‘ تھا۔ جنرل رائو فرمان علی مشرقی پاکستان کا ایک اہم کردار تھے۔ انہوں نے کئی برس پہلے ہفت روزہ تکبیر کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ مشرقی پاکستان کے بحران کے دوران میرے گھر میں کام کرنے والی ماسی نے مجھ سے کہا کہ صاحب آپ ’’غداروں‘‘ کا سر کچل دیں۔ یعنی بنگالیوں کے غدار ہونے کی داستان ان کے ’’غدار‘‘ بننے سے پہلے ہی عام کردی گئی تھی اور اس غداری کی اطلاع ’’ماسیوں‘‘ تک کو ہوگئی تھی۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بنگالیوں کی تذلیل کا کیسا سلسلہ مدتوں سے جاری تھا۔ اسلام نسل‘ رنگ‘ جغرافیے اور زبان کے جن بتوں کو توڑتا ہے پاکستان کے حکمران طبقے کے اراکین مشرقی پاکستان میں ان تمام بتوں کی پوجا کررہے تھے۔


مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ تھا مگر اس کے باوجود مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے یہ تصور عام کیا ہوا تھا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کیا جائے گا۔ چنانچہ مشرقی پاکستان میں وہ فوجی قوت موجود ہی نہ تھی جو مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے ناگزیر تھی۔ اس پہ طرہ یہ کہ مشرقی پاکستان میں تعینات فوجی مشرقی پاکستان کو اپنا گھر ہی نہیں سمجھتے تھے۔ صدیق سالک نے اپنی کتاب ’’میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا‘‘ میں لکھا ہے کہ میں ڈھاکا پہنچا تو مجھے میرے فوجی ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ رہنے کے لیے بھاری سامان نہ خریدنا کیونکہ پتا نہیں ہمیں کس وقت یہاں سے جانا پڑ جائے۔ چند برس پہلے جنرل (ر) حمیدگل سے ایک انٹرویو کے سلسلے میں ملاقات ہوئی تو وہ فرمانے لگے کہ ہماری فوج کا ڈسپلن بڑا زبردست ہے، یہ ٹوٹتا نہیں ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ کیسا ڈسپلن ہے کہ ملک ٹوٹ جاتا ہے مگر ڈسپلن نہیں ٹوٹتا! جنرل (ر)   حمیدگل نے ہمارا سوال سنا تو کہنے لگے کہ آپ کے سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ اس مثال کو مشرقی پاکستان کے حالات پر منطبق کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہتھیار ڈالنے والے 90 ہزار فوجیوں میں ایسے دس پندرہ ہزار فوجی تو ضرور ہونے چاہیے تھے جو کہتے کہ ہمارا ملک ٹوٹ رہا ہے اس لیے ہم مرجائیں گے مگر دشمن کے آگے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ لیکن ادھر جی ایچ کیو سے ایک حکم آیا اور اُدھر تمام فوجیوں نے ڈسپلن کی پاسداری کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔ بلاشبہ دس پندرہ ہزار فوجیوں کے ہتھیار نہ ڈالنے سے کچھ نہ ہوتا، لیکن ایک مثال تو قائم ہوتی اور ہم آج فخر سے کہتے کہ ہمارے کچھ فوجیوں نے مشرقی پاکستان کا دفاع ٹھیک اس طرح کیا جس طرح مادرِ وطن کا دفاع کیا جاتا ہے۔ اپنے گھر کا دفاع کیا جاتا ہے۔

جمہوریت کا اصول اکثریت ہے اور 1970ء کے انتخابات میں اکثریت شیخ مجیب الرحمن کو حاصل ہوگئی تھی، چنانچہ انہیں ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر اقتدار منتقل ہونا چاہیے تھا۔ لیکن نہ بھٹو نے اُن کی اکثریت کو تسلیم کیا، نہ جنرل یحییٰ نے۔ لیکن اس صورتِ حال کے اصل ذمے دار جنرل یحییٰ تھے۔ فوج ان کے ہاتھ میں تھی، اکثریت کا اصول ثابت ہوچکا تھا، چنانچہ اگر وہ بھٹو سے کہتے کہ شیخ مجیب کی اکثریت کو تسلیم کرو تو بھٹو کے پاس اُن کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا، بالخصوص اس صورت میں جب کہ بھٹو اور شیخ مجیب کے درمیان شیخ مجیب کے چھ میں سے ساڑھے پانچ نکات پر اتفاقِ رائے کی خبر گرم تھی۔ لیکن جنرل یحییٰ نے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ لوگ کہتے ہیں سقوطِ ڈھاکا کے ذمے دار تین لوگ ہیں: اندرا گاندھی، بھٹو اور یحییٰ۔ لیکن اگر ایسا ہے تو بھٹو اور یحییٰ پر کبھی ملک توڑنے کے الزام میں مقدمہ کیوں نہیں چل سکا؟ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو ایک شخص کے مشتبہ مقدمے میں سزائے موت دے دی لیکن ان پر سقوطِ ڈھاکا میں ملوث ہونے کا الزام کبھی نہیں لگایا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ جنرل ضیاء الحق بھٹو پر ملک توڑنے کا مقدمہ چلاتے تو پھر ان کے فوجی بھائیوں کا کردار بھی ضرور سامنے آتا۔ بلاشبہ بھارت کی مداخلت کے بغیر مشرقی پاکستان الگ نہیں ہوسکتا تھا مگر بھارت کی مداخلت کے لیے سازگار حالات ہمارے حکمرانوں نے خود پیدا کیے تھے۔ بھارت پہلے دن سے پاکستان کی تاک میں تھا اور مشرقی پاکستان میں ہندوئوں کی بڑی آبادی تھی، چنانچہ ہمیں مشرقی پاکستان کو زیادہ محبت‘ زیادہ انصاف اور زیادہ مہربان بن کر چلانا چاہیے تھا، لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس کے برعکس طریقے سے مشرقی پاکستان کو چلایا۔ المناک بات یہ ہے کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں خلیج حائل تھی اورہمارے ذرائع ابلاغ مشرقی پاکستان میں سب ٹھیک ہے کا سرکاری راگ الاپ رہے تھے، چنانچہ سقوطِ ڈھاکا ہوا تو مغربی پاکستان کے لوگ حیران رہ گئے۔

لیکن سقوطِ ڈھاکا کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اس کہانی کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ مغربی پاکستان کے حکمران طبقے نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو اس طرح فراموش کیا جیسے 16 دسمبر 1971ء کو ملک نہ ٹوٹا ہو، قمیض کا بٹن ٹوٹا ہو۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو متحدہ پاکستان کی جنگ صرف جماعت اسلامی نے لڑی۔ اس کے رہنمائوں اورکارکنوں نے ملک بچانے کے لیے 1971ء میں بھی قربانیاں دیں اور اس کے بعد فوج کا ساتھ دینے کے طعنے سہے، یہاں تک کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش میں آج بھی پاکستان کے تحفظ کی جنگ کی قیمت ادا کررہی ہے۔ شیخ حسینہ واجد کی حکومت اس کے رہنمائوں پر جھوٹے مقدمات چلارہی ہے اور خود ساختہ عدالتیں انہیں موت اور عمرقید کی سزائیں سنا رہی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی فوج اور حکومت جس طرح 1971ء میں جماعت اسلامی کو تنہا چھوڑ کر فرار ہوئی تھیں اسی طرح آج حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ ہمدردی تک کی توفیق فراہم نہیں۔ یہ سقوطِ ڈھاکا کا تسلسل نہیں تو اور کیا ہے؟

شاہنواز فاروقی


26 November 2013

علامہ اقبال کا طاہر القادری سے سوال




مسلم  ممالک میں غیر مسلم فوجیوں کے خلاف جوابی اقدامات بھی نہیں کے جا سکتے- طاہر القادری کا فتویٰ 






شیخ صاحب سے علّامہ اقبال کا سوال
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
فتویٰ ہے شيخ کا يہ زمانہ قلم کا ہے
دنيا ميں اب رہی نہيں تلوار کارگر

ليکن جنابِ شيخ کو معلوم کيا نہيں؟
مسجد ميں اب وہ وعظ ہے بےسود و بےاثر

تيغ و تفنگ دستِ مُسلماں ميں ہے کہاں
ہو بھی تو دل ہيں موت کی لذّت سے بے خبر

کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دِل
کہتا ہے کون اسے کہ مُسلماں کی موت مر

تعليم اس کو چاہئيے ترکِ جہاد کی
دنيا کو جس کے پنجۂِ خونيں سے ہو خطر

باطل کی فال و فر کی حفاظت کے واسطے
يورپ زرہ ميں ڈوب گيا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہيں شيخِ کليسا نواز سے
مشرق ميں جنگ شرہے تومغرب ميں بھی ہےشر

حق سے اگر غرض ہے تو زيبا ہے کيا يہ بات
اسلام کا محاسبہ ۔ يورپ سے درگذر

علّامہ محمد اقبال (ضرب کلیم)
▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄▄





19 November 2013

جہاں یہ خچر لے جائے!



’میرا کیا ارادہ؟جہاں یہ خچر لے جائے!‘

ابو نثر 




اسد اﷲ خان غالبؔ کو الطاف حسین حالیؔ نے ’’حیوانِ ظریف‘‘ قراردیاتھا۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بیگم اسد اﷲ خان غالب ؔ نے غالباً اِس دولفظی ترکیب کے لفظِ اوّل سے حرف بہ حر ف اتفاق کرلیا تھا۔ (اُن کے کھانے کے برتن وغیرہ الگ کر دیے تھے)۔ مگر ہم احتراماً صرف جزوِ دوم کی صداقت سے اتفاق کریں گے۔ 
وہ زمانہ تو شاید غالبؔ نے بھی نہ دیکھا ہو جب سفر کا واحد ذریعہ’ گیارہ نمبر کی بس‘ تھی۔ یعنی بے بسی کے ساتھ پاپیادہ سفر۔ پیاں پیاں منزلیں مارتے چلے جانا۔ بستر سے اُٹھے۔ کمر کسی۔زادِ سفر بغل میں دابا۔ اسبابِ سفر کی پوٹلی بانس میں باندھی۔بانس کندھے پر لٹکایا اورنکل کھڑے ہوئے کسی قافلے کی تلاش میں کہ جو منزلِ مقصود( یامنزلِ موہوم) کی طرف جانے کو تیار کھڑا ہو۔یہ نہ ہوا۔۔۔ یعنی تلاش میں نکلنے کو آدابِ کاہلی کے خلاف جانا۔۔۔ تو۔۔۔ کوئی میرتقی میرؔ ٹائپ کا ’ٹریول ایجنٹ‘ خود آکر مطلع کرگیا۔۔۔
کیاقافلہ جاتا ہے گر تُو بھی چلاچاہے!
راہِ سفر سے ناواقفیت کا حل یہ نکالاگیا کہ کسی واقفِ راہ کو۔۔۔ ’راہبر‘۔۔۔ بناڈالا گیا۔اب رہبر صاحب تیز تیز قدموں سے لپکتے جھپکتے چلے جارہے ہیں اورقافلہ اُن کے آگے پیچھے، دائیں بائیں یا بالکل ہی پیچھے پیچھے ہانپتاکانپتابھاگتا چلاجارہاہے۔ بھلااتنے بڑے ہجوم میں ہم جیسا (عقل سے بھی) پیدل رہرو اپنے (ہرطرح سے) پیدل رہبر کو کیسے پہچان سکتا ہے؟ پس ظریف الطبع غالب نے بھی اُسے پہچاننے کی کوشش میں بڑی بھاگ دوڑ کی اور اِسیبھاگڑ کے بعد اپنی پھولی ہوئی سا نسوں کے ’مابین‘بتایا:
چلتاہوں تھوڑی دُور ہراِک تیز رَو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
آج جب کہ رہرو انِ جہاں،آواز سے بھی تیز رفتار طیاروں کو رہوارِسفر بنائے ہوئے اُڑے جارہے ہیں ہیں، ہم چچاغالبؔ کے بھتیجے اب بھی سفر زندگی کی ہر سڑک پر دیکھتے ہیں کہ۔۔۔ ’دِوادَو ہر طرف بھاگڑ مچی ہے‘ ۔۔۔ ہم اب بھی ’رہبر‘ کی تلاش میں ہیں اور ہم میں سے ہر شخص آج بھی چچا غالبؔ کا مندرجہ بالا شعر جھوم جھوم کر گنگنائے جارہا ہے۔
سوچیے تو سہی۔۔۔ کہ اگر رہبر نامعلوم ہوں تو منزل کسے معلوم ہوگی؟مگرہمیں تو منزل معلوم تھی پھر بھی نہ پہنچ سکے۔۔۔ ارے بھائی! :
کیسے منزل پہ پہنچتا کوئی
راہ میں راہ نُما بیٹھے تھے
ہمارے راہ نُماکہنے کو تویہ کہتے ہیں کہ ہماری منزل جمہوریت ہے۔۔۔سو وہ بھی کیا معلوم؟۔۔۔اگرپوچھیے کہ اِس منزلِ موہوم کی طرف ہماری رہبری ورہنمائی کون فرمائے گا؟۔۔۔تو وہ بھی نا معلوم۔۔۔حد تو یہ ہے کہ ہمارے رہبروں کا بھی یہی حال ہے کہ انھوں نے جہاں کسی کو ذرا تیز قدموں سے چلتے دیکھاتُر تُر تُر تُراُس کے پیچھے پیچھے دوڑلیے۔(قریبی تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں)۔ پیاسے کو کسی طرف سے بھی پانی کی جھلک دکھائی دیتی ہے تو وہ اِس حیص بیص میں نہیں پڑتا کہ یہ سراب تو نہیں؟ بس دوڑ پڑتاہے! خواہ بعد میں خشک ’لٹ پٹاتی‘ زبان باہر نکال کرمزید ہانپنا کیوں نہ پڑجائے۔ ہم نے بڑے بڑے دانشوروں کے۔۔۔ ’مُنھ کو اگرچہ لٹکا دیکھا ‘۔۔۔ مگر اُنھیں کوئے سیاست کے شب نوردوں سے یہی آس لگائے۔۔۔’ بِھیڑ میں کھاتے جھٹکا دیکھا‘ ۔۔۔کہ ہمیں ہماری منزل تک یہی شب نورد پہنچاآئے گا۔ ان شب نوردوں میں بعض شیوخ بھی شامل ہوئے۔۔۔(اوران شیوخ میں ایک عدد’شیخ الاسلام‘ بھی !)۔
اکبرؔ کو اطلاع ملی تھی کہ۔۔۔’خلافِ شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں‘۔۔۔ مگراب تو پہلے پوچھنا پڑتاہے کہ :’’ شرع الشیخ‘‘ ہے کیا ؟ شرعِ پیغمبر یا شرعِ فرنگ؟ میخانۂ مغرب کے نرالے دستور کے تحت سرور میں آنے کے لیے وہ اندھیرے اُجالے میں چوکتا بھی نہیں۔اُس کی اِسی چُوک سے عام آدمی کو ایسی شدید غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ اسے دور کرنے اور سمجھانے کے لیے پروفیسر اقبال عظیم کو آنا پڑتاہے:
شیوخِ شہر کو تُم دیکھ کر پلٹ آئے؟
کسی سے پوچھ تو لیتے یہ میکدہ ہی نہ ہو
جہانِ مغرب کے میکدوں میں جہانِ مشرق کے میخواروں کوعموماً ’خواجگی کے خواب‘ دکھائے جاتے ہیں۔اوراکثر یہ خواب ’ہاتھی والے‘ ہی دکھاتے ہیں( ’اصحاب الفیل)۔بھلاہاتھی پر بیٹھ کر ’خواجہ بلندبام‘ بننے کا شوق کسے نہیں ہوتا۔ مگر جب نادرشاہ دُرّانی نے ہاتھی پر بیٹھ کر سواری کی لگام طلب کی تو اُس کوبریفنگ دی گئی :
’’ یہ سواری بے لگام ہے۔ اس کی ڈرائیونگ کے لیے ’ڈرائیور‘ الگ سے رکھنا پڑتا ہے۔ جسے’ فیل بان‘ کہتے ہیں۔ اسٹیئرنگ اُسی کے ہاتھ میں رہتا ہے‘‘۔
جہاں بان اور جہاں دیدہ نادرشاہ دُرّانی نے ایسی سواری پربیٹھنے سے انکار کردیا جس کی لگام اپنے ہاتھ میں نہ ہواور جس کا اسٹیئرنگ دوسرا کنٹرول کرتا رہے۔
مگرہمارے رہبرتو ایک مدت سے اپنی نامعلوم اور موہوم منزل کی طرف سفر کرنے کے لیے بیٹھتے ہی ایسے اونٹ پر ہیں جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔اوراونٹ بھی وہ، جسے ’ شتر بے مہار‘ کہاجاتا ہے۔اب انھیں یہ اونٹ جہاں چاہے لے جائے۔ یہ ٹھمک ٹھمک چلتے چلے جائیں گے۔ ادھر عوام انتظار فرمائیں گے کہ دیکھیں یہ اونٹ کب اور کس کروٹ بیٹھتاہے۔اسی عمل کو ہم اپنے یہاں ’جمہوریت‘ کہتے ہیں۔
آیت اﷲ مطہری نے اپنی دس تقاریر کے مجموعہ ’’دَہ گفتار‘‘ میں’ جمہوریت‘ کی مثال ملانصرالدین کے خچر سے دی ہے۔ ملا کو خچر پر بیٹھ کر جاتے دیکھا تو کسی نے پوچھا:
’’ملاصاحب!کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘
ملانے جواب دیا:
’’اجی حضرت!میرا کیا ارادہ؟جہاں یہ خچر لے جائے!‘‘
مطہری کا کہناہے کہ مغربی جمہوریت بھی ملانصرالدین کا خچر ہے۔ ’’جہاں چاہے لے جائے‘‘۔ اقبالؔ نے جمہوریت کوخچر نہیں سمجھا، اُنھوں نے گدھے کی مثال دی۔فرمایا:۔۔۔ ’کہ از مغزِ دو صدخر فکرِ انسانے نمی آئد۔۔۔(دو سو گدھے مل کر بھی ایک انسان کی طرح نہیں سوچ سکتے) ۔۔۔ پہلے مصرع میں اقبالؔ ہمیں ’طرزِ جمہوری سے حذرکر کے ‘ سرکارِ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کے ’’غلامے پختہ کارے‘‘ بننے کی تلقین کرتے ہیں۔
صاحبو!آج کل وطن عزیز میں جو ’جمہوری تماشا‘ ہورہاہے، یہ کبھی نہ ہوتا اگر ہمارا اعرابی ’انگلستان‘ کے رستے پر بھٹکتے پھرنے کے بجائے مکہ کی راہ پر چل پڑا ہوتا۔ ایسی سواری پر بیٹھنا عاقبت اندیشی نہیں‘جس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں نہ ہو۔۔۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر خطرناک بات ۔۔۔ کہ جس کا کنٹرول نامعلوم اور غیرمرئی ہاتھوں میں ہو۔


13 November 2013

شہید کون از علامہ ابتسام الہی ظہیر



 Tags:
شہید کون از علامہ ابتسام الہی ظہیر
shaheed kon by Allama ibtisaam Ilahi Zaheer
hakeem ullah mehsood, pakistan army, martyr, killed

who is shaheed.

1 November 2013

امریکہ کا فضل



عرب میں ایک عورت تھی اس کا نام اُم جعفر تھا۔ انتہائی سخی تھی۔ لوگوں میں ایسے تقسیم کرتی تھی کہ دائیں کو بائیں ہاتھ کا پتا نہ چلے۔ کچھ دنوں سے وہ ایک راستے سے گزرنے لگی۔ اس راستے پر دو اندھے بیٹھے ہوتے۔ یہ دونوں صدائیں لگاتے۔ ایک کی صدا ہوتی: "الٰہی! مجھے اپنے فضل و کرم سے روزی عطا کر۔ " دوسرا اندھا کہتا: "یا رب مجھے ام جعفر کا بچا ہوا عطا کر۔"

ام جعفر ان دونوں کی صدائیں سنتی اور دونوں کو عطا کرتی۔ جو شخص الله کا فضل طلب کر رہا تھا، اسے دو درہم دیتی جبکہ "ام جعفر" کے فضل کے طلبگار کو ایک بھنی ہوئی مرغی عطا کرتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسے مرغی ملتی، وہ اپنی مرغی دوسرے اندھے کو دو درہم میں بیچ دیتا۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن ام جعفر اس اندھے کے پاس آئی جو ام جعفر کا فضل طلب کرتا تھا اور اس سے سوال کرتا تھا اور اس سے سوال کیا: "کیا تمہیں سو دینار ملے ہیں؟" اندھا حیران ہو گیا۔ اس نے کہا: "نہیں! مجھے صرف ایک بھنی ہوئی مرغی ملتی تھی جو میں دو درہم میں بیچ دیتا تھا"۔ ام جعفر نے کہا: "جو الله کا فضل طلب کر رہا تھا، میں اسے دو درہم دیتی اور تمہیں بھنی ہوئی مرغی میں دس دینار ڈال کر دیتی رہی۔" اندھے نے اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ چیخنے اور چلانے لگا: "ہائے میری کمبختی، کاش میں ایسا نہ کرتا۔ میں مارا گیا۔" ام جعفر نے کہا: "یقینا اللہ کا فضل طلب کرنے والا کامیاب ہے اور انسانوں کے فضل کا طلبگار محروم ہے۔"

لاریب! جو الله کے فضل کے سوا دیگر راستے تلاش کرتے ہیں، انھیں دنیا میں گھاٹا ملتا ہے اور آخرت میں رسوائی نصیب ہوتی ہے۔ کم ہی ایسے ہوں گے جو فاقوں سے مر جاتے ہوں گے۔ اس کے باوجود اس دنیا میں ایسوں کی کمی نہیں جو درہم و دینار کی خاطر ایمان تک بیچ دیتے ہیں۔ حکمران اپنی قوموں کا سودا کر لیتے ہیں۔ بیٹوں کو ڈالروں کے عوض بیچ کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ نتیجے میں کیا ملتا ہے؟ ذلت و رسوائی اور دنیا بھر کی پھٹکار! 64 سال ہو گئے، ہم الله کے فضل کو چھوڑ کر ملکوں اور شخصیات کے فضل تلاش کرنے میں لگے رہے۔ جب انتخابات کا موسم آتا ہے، ہر سیاستداں یہی کہتا ہے کہ آئندہ کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے۔ کشکول توڑ دیں گے۔ "الله کے فضل" کے سوا کسی سے فضل کے طلبگار نہیں ہوں گے، مگر حقیقت کی دنیا میں دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ پیشروئوں سے زیادہ "بھکاری پن" کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور بدقسمتی سے امریکہ میں یہ محاورہ بن گیا کہ پاکستانی ڈالر کی خطر اپنی ماں بھی بیچ دیتے ہیں! خصوصا نائن الیون کے بعد پرویز مشرف نے ڈالر کے لیے جو کچھ کیا، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ بدلے میں کیا ملا؟ معاشی خوشحالی؟؟ نہیں! رسوائی، جگ ہنسائی اور معاشی بدحالی۔  دس سال بعد دامن کو دیکھیے۔ پورا تار تار ہے اور اس میں بھیک کے چند دانوں کے سوا کچھ نہیں۔ گزشتہ دنوں اخبارات میں ایک رپورٹ آئی ہے جس سے امریکہ کا "فضل" تلاش کرنے والوں کی آنکھیں اب تو کھل جانی چاہئیں۔

بتایا گیا کہ قیام پاکستان سے2012  تک 64 برسوں میں امریکہ نے پاکستان کو 68 ارب ڈالر کی امداد دی۔ 1948 میں پہلی بار7  لاکھ 70 ہزار ڈالر کی رقم معاشی امداد کی صورت میں ملی۔ بدلے میں امریکہ نے سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے پاکستان کے ہوئی اڈے استعمال کرنے کی فرمائش کی۔ ایوب خان کا دور آیا تو ڈھائی ارب ڈالر ملے۔ جب روس کے خلاف نہتے افغانوں نے جہاد شروع کیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا عہد کیا اس وقت امریکہ بھی اس میں کود پڑا۔ جہاد کے اثرات زائل کرنے کے لیے ایک بار پھر پاکستان کو امداد دی گئی۔

چنانچہ1983  سے1988  تک پاکستان کو ہر سال ایک ارب ڈالر امداد دی گئی۔ امریکہ نے افغان جہاد کے ثمرات سمیٹنے کے بعد آنکھیں پھیر لیں۔ 10 سال تک مختلف بہانوں سے پابندیاں لگائے رکھیں۔ 2001 میں اسے پھر ضرورت ہوئی اور امداد بحال ہو گئی جو 2012 تک مجموعی طور پر محض25  ارب ڈالر بنتی ہے۔

یہ امریکی امداد کی تفصیلات ہیں، لیکن امریکہ کی اس دوستی میں جتنا نقصان پاکستان کا ہوا، وہ اس امداد سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ ان دس برسوں میں امریکہ کے "فضل" کے نتیجے میں پاکستان کو100  ارب ڈالر سے زیادہ معاشی نقصان پہنچ چکا ہے۔ انسانی جانوں کا جو ضیاع ہوا، اسے اعداد و شمار کے دائرے میں لانا ممکن نہیں۔ ان دس برسوں میں بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا۔ ہمارے ان قبائلیوں کو جنہوں نے ہمیشہ مفت کے سپاہیوں کا کردار ادا کیا، اپنے ہی اداروں کے ساتھ لڑا دیا گیا۔ اسی "امریکی فضل" کے نتیجے میں ہمارے ہزاروں لوگ اپنے گھروں سے بےگھر ہوئے۔ اپنے ہی ملک میں مہاجرت کی زندگی پر مجبور ہوئے۔ سوات کے وہ قافلے آج بھی یاد آتے ہیں تو آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ وہ عزت مآب مائیں جنھیں کبھی آسمان نے بھی بے پردہ نہیں دیکھا تھا، اس "امریکی فضل" کے نتیجے میں بےپردہ ہوئیں۔ وزیرستان کی کتنی کلیاں ہیں، جو اس "امریکی فضل" کے نتیجے میں کھلنے سے پہلے ہی مسل دی گئیں۔ ان دنوں وزیرستان کے چند لوگ امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کی رودادوں نے وہاں لوگوں کو رلا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تو اس "امریکی فضل" کا بہت معمولی نظارہ ہے۔ اس امریکی فضل نے ہمارے اداروں کو متنازع بنا دیا۔ وہ جنھیں دیکھ کر عقیدت کے آنسو چھلک پڑتے تھے، اسی امریکی فضل نے لوگوں کی نظروں سے گرا دیا۔

ہمارا روشن خیال طبقہ بار بار ہمیں تعنے دیتا ہے کہ امریکہ کی امداد کھاتے ہو۔ ان کے ڈالروں پر پلتے ہو اور ان کے خلاف زبانیں بھی کھولتے ہو۔ کاش! وہ تعصب کی عینک اتار کر تجزیہ کریں کہ امریکہ کی امداد کے نتیجے میں ہم نے کتنی بربادیاں سمیٹیں؟ اپنے ملک کو کتنے مسائل کا شکار کیا؟ سب سے بڑھ کر اس امداد کے نتیجے میں امریکہ اور دنیا میں ہمارا کیا مقام بنا؟ ابھی چند دن قبل جب پاکستانی وزیراعظم امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھ رہے تھے، اخبارات میں تصویر آئی اور خبر میں بتایا گیا کہ ان کے استقبال کے لیے دو تین ادنیٰ درجے کے امریکی اہلکار موجود ہیں۔ آنکھوں کے سامنے وہ ویڈیو گردش کرنے لگی جب صدر ایوب خان امریکہ کے دورے پر گئے تھے۔  اس وقت ان کے استقبال کے لیے امریکی صدر بذات خود موجود تھا۔ پھول اور پتیاں نچھاور ہو رہی تھیں، لیکن آج دیکھیے اس "امریکی فضل" نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ امریکہ میں ہی نہیں، پوری دنیا میں ہماری کوئی ساکھ نہیں بچی۔ آپ عام زندگی میں دیکھ لیجیے۔ جو شخص ہر وقت مانگتا رہتا ہو، اس کی معاشرے میں کتنی عزت رہ جاتی ہے! چنانچہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ آج اگر ہمارے حکمران یہ فیصلہ کر لیں کہ امریکہ کا فضل تلاش نہں کریں گے، اپنی قوم اور ملک کے وسائل بروئے کار لائیں گے، کسی ملک اور شخص کے "فضل" کے بجائے صرف الله کا فضل تلاش کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ ہم دنیا میں کیسے اپنا مقام بنا لیتے ہیں۔

نقش جمال
جمال عبداللہ عثمان

12 October 2013

امن کا نوبل انعام


ملالہ اور عبیرقاسم حمزہ الجنابی


جب تک ملالہ نوبل انعام کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی، اس ملک کے میڈیا میں ایک شور برپا تھا” ہمارا سر فخر سے بلند ہے، ایک بچی جس کی جدوجہد علم کیلئے تھی، جو خواتین کے حقوق کی پاسداری کیلئے نکلی تھی اور آج پوری دنیا میں ہمارے ملک کا نام روشن کررہی ہے۔ پوری دنیا اس کی جرات کو سلام کررہی ہے، اس کے مشن کو جاری رکھنے اور تعلیم کو عام کرنے کیلئے سرمایہ دے رہی ہے“۔ اس ملک کے”عظیم“ اور”باشعور“دانشوروں کے یہ نعرے میرے کانوں میں گونجتے تھے اور میں سوچتا تھا کہ وہ امن کا نوبل انعام، جسے یہ قوم عزت کا تاج سمجھ رہی ہے، کیسے کیسے ظالموں، قاتلوں اور انسانیت کے دشمنوں کے سر سجتا رہا ہے۔

ملالہ کا سب سے بڑا وکیل گورڈن برائون وہی ہے جس نے عراق پر حملہ کرنے کیلئے نہ صرف برطانوی پارلیمنٹ میں ووٹ دیا بلکہ دھواں دار تقریر بھی کی تھی ۔ عراق پر وہ جنگ مسلط کی گئی جس نے لاکھوں لوگوں سے صرف تعلیم کا نہیں بلکہ زندگی کا حق بھی چھین لیا۔عورتوں کے حقوق کے یہ عالمی چمپین وہ ہیں جن کے ہاتھ مظلوم عورتوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور سروں میں عورتوں کی عزت سے کھیلنے کی ہوس رچی ہوئی ہے۔

12مارچ 2006 کو ملالہ کی ہم عمر عمر چودہ سالہ عبیر قاسم حمزہ جو عراق کے چھوٹے سے قصبے المحمدیہ میں رہتی تھی، اس پر کیا بیتی؟ دل تھام کر پڑھیے: عبیر کا والد قاسم حمزہ رحیم اور ماں فخریہ طہٰ محسن اپنی اس بیٹی عبیر،6 سالہ بیٹی حدیل،9 سالہ احمد اور 11 سالہ محمد کے ساتھ اپنے گھر میں خوش و خرم رہ رہے تھے۔ عبیر کو اس کے والدین بہت کم گھر سے باہر جانے دیتے کہ سامنے گورڈن براؤن کے جمہوری ووٹ سے شروع ہونے والی عراق جنگ کے سپاہیوں کی چیک پوسٹ تھی جس پر چھ سپاہی پاول کورٹر، جیمز بارکر، جیسی سپل مین، برائن ہاورڈ، سٹیون گرین اور انتھونی پرایب موجود تھے۔ جب کبھی یہ بچی باہر نکلتی تو وہ اسے چھیڑتے اور وہ گھبرا کر اندر بھاگ جاتی۔ ایک دن یہ ان کے گھر گھسے، تلاشی لی اور عبیر کے گال پر سٹیون گرین نے انگلی پھیری جس نے سارے گھر کو خوفزدہ کر دیا۔ جب کبھی وہ اپنے والدین کے ساتھ باہر نکلتی، وہ اس کی طرف دیکھ کر غلیظ اشارہ کرتے ہوئے ویری گڈ کہتے۔ 12مارچ 2006 کی صبح وہ شراب پینے میں مشغول تھے کہ عبیر کے دونوں بھائی سکول کے لیے روانہ ہوئے۔ عبیر کو اس لیے سکول سے اٹھا لیا گیا تھا کہ والدین ان سپاہیوں سے خوفزدہ تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ مکان میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ماں باپ اور چھوٹی بہن کو ایک کمرے میں بند کیا اور عبیر کو دوسرے کمرے میں۔ سٹیون گرین نے اس کے ماں باپ اور چھوٹی بہن کو ایک کمرے میں لے جا کر قتل کر دیا اور دوسرے کمرے میں باقی دو سپاہی اس چودہ سالہ بچی سے زیادتی کرتے رہے۔ اس کے بعد گرین کی آواز آئی، میں نے انہیں قتل کر دیا اور پھر وہ بھی عبیر پر پل پڑا۔ اس کے بعد ان سپاہیوں نے اس کے سر پر گولی مار کار قتل کر دیا۔ جاتے ہوئے ایک سپاہی نے اس کے زیر جامے کو لائٹر سے آگ دکھائی اور کمرے میں پھینک دیا۔ گھر سے دھواں نکلا تو پڑوسی دوڑے ہوئے آئے اور انہوں نے جس حالت میں اس مظلوم چودہ سالہ بچی کو دیکھا وہ ناقابل بیان ہے۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا اور چودہ سالہ عبیر قاسم حمزہ الجنابی کی تصویر دیکھی تو کئی راتیں بے چینی اور اضطراب سے سو نہ سکا تھا۔

نوبل پرائز دینے والوں اور ملالہ یوسف زئی  کی وکالت کرنے والوں کے ہاتھ عبیر جیسی بے شمار معصوم لڑکیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جو ان کے خوف سے گھروں سے نہیں نکلتی تھیں۔ جنہوں نے ان کی بدمعاش اور غلیظ نظروں کے خوف سے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا۔ عبیر تو ان کے خلاف کوئی ڈائری بھی تحریر نہیں کر رہی تھی جو دنیا کا کوئی بڑا چینل نشر کرتا۔ اس نے تو انھیں ظالم، تعلیم کے دشمن اور انسانیت کے قاتل بھی نہیں کہا تھا۔ اس کا والد کسی این جی او کا سربراہ یا کارپرداز نہیں تھا کہ اپنی بیٹی تو ان سپاہیوں کے خلاف اکساتا، اس کی ایک فرضی نام سے ڈائری لکھنے میں مدد کرتا اور پھر دنیا بھر میں داد سمیٹتا۔ عبیر کو اس ظلم کی وجہ سے سہم سی گئی تھی۔ اس کے زندہ بچ جانے والے بھائیوں نے بتایا کہ جس دن سٹیون گرین نے اس کے گال پر انگلی پھیری، ہمارے والد نے اسی دن اسے اسکول سے اٹھا لیا تھا۔ وہ اس دن بہت روئی۔ اسے گھر کے باہر لگی ہوئی سبزیوں کو پانی دینے، دیکھ بھال کرنے کا بہت شوق تھا، لیکن اس دن کے بعد سے وہ بس کھڑکی سے انھیں دیکھتی رہتی۔

اس عالمی یا مقامی میڈیا میں کوئی ایسا شخص ہے جس کے سینے میں دل ہو، جس کے دل میں بیٹی کی محبت جاگتی ہو، جس کی آنکھ سے ظلم پر آنسو نکل آتے ہوں؟ وہ اٹھے اور کہے، آؤ ہم مل کر ایک اور امن انعام کا آغاز کرتے ہیں، ان بچوں کے لیے جوصابرہ و شطیلہ میں مارے گئے، ان مظلوموں کے لیے جو ٹینکوں تلے کچل دیے گئے، ان قیدیوں کے لیے جن پر کتے چھوڑے گئے، ان بہنوں کے لیے جو ان درندوں کے ہاتھوں اس وقت تک درندگی کا شکار ہوتی رہیں جب تک ان کا سانس باقی تھا، عبیر کے لیے جس سے اس کا اسکول چھوٹ گیا، جس کے لیے گھر سے نکلنا عذاب ہو گیا۔

لیکن ہم بے حس ہیں۔ نوبل انعام کی چکا چوند نے ہماری غیرت کے بچے کچے گھروندے کو بھی ملیامیٹ کر دیا ہے۔ اٹھارہ کروڑ کی قوم نے ایک مغربی چینل کے پروگرام میں اپنی اس ہونہار بیتی کا یہ فقرہ کیسے سن لیا کہ ہم عورتیں وہاں قیدیوں کی طرح ہیں، ہم مارکیٹ نہیں جا سکتیں۔ کراچی سے پشاور اور گوادر سے گلگت تک کیا پاکستان یہ ہے جس کی تصویر ملالہ نے اس پروگرام میں پیش کی؟ اس نے کہا، ایسے لگتا تھا ہم جیل میں ہیں۔ میں نے بلوچستان کے دور دراز گائوں سے لے کر لاہور، کراچی، پشاور اور چھوٹے چھوٹے قصبوں تک عورتوں کو ہر موڑ اور ہر مقام پر دیکھا ہے۔ کھیتوں اور کھلیانوں میں، دفتروں اور فیکٹریوں میں، بازاروں اور ہوٹلوں میں۔ کیا یہ ہے ملالہ کا قیدخانہ؟ کیا یہ کالک ہے جو وہ اس قوم کے منہ پر مل کر نوبل انعام کی سیڑھی پر چڑھنا چاہتی ہے؟ اس قوم کا ہر’دانشور‘،’مفکر ‘ اور اینکر پرسن عوام کو خوشخبری سناتا ہے، اسے پاکستان کا وقار بلند ہونے کی نوید قرار دیتا ہے۔ ملالہ نوبل امن انعام حاصل کرنے والوں کی صف میں ہی ٹھیک تھی جس میں اسرائیل کے تین قاتل وزرائے اعظم بیگن، اسحق رابین اور شمعون پیرس بھی کھڑے ہیں۔ نوبل انعام لیتے ہوئے ان کے ہاتھ ہزاروں معصوم فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ اس فہرست میں ڈرون حملوں سے معصوموں کی جانیں لینے والا بارک اوباما اور مسلم امہ کا سب سے بڑا دشمن ہنری کسنجر بھی کھڑا ہے۔ یہ غیرت کے سودے ہوتے ہیں جو غیرتمند قوموں کے غیرت مند افراد کیا کرتے ہیں کہ ایسے امن انعامات پر لعنت بھیج دیتے ہیں۔ ویتنام کا لیڈر لوڈو تھو (LU DUE THO) امریکہ سے امن مزاکرات کر رہا تھا۔ جب اسے ہنری کسنجر کے ساتھ امن کا انعام دیا تھا تو اس نے انکار کر دیا۔ ژاں پال سارتر کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا تو اس نے بھی یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے اپنے نام کے ساتھ نوبل انعام یافتہ لکھ کر اپنے ساتھ گھٹیا مذاق نہیں کرنا۔

پاکستان کی ایک مسلمان بیٹی کو مغرب کے قاتل حکمران ہمارے منہ پر کالک ملنے کیلئے استعمال کرتے رہے، اس کے سر پر ایسے ہاتھ امن کا تاج پہنانا چاہتے ہیں جن کے ہاتھ عبیر قاسم جیسی کئی مسلمان بچیوں سے رنگے ہوئے ہیں، یہ بچیاں جنہیں ان ظالموں کے خوف سے گھروں میں قید ہونا پڑا، ان کا اسکول چھوٹ گیا، وہ گھروں میں قید ہوگئیں لیکن پھر بھی وہ ان کی ہوس سے اپنی عفت بچا سکیں نہ زندگی۔

اوریا مقبول جان