This is default featured slide 1 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
This is default featured slide 2 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
This is default featured slide 3 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
This is default featured slide 4 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
This is default featured slide 5 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.
21 December 2013
Disposable America soldiers
18 December 2013
جنرل صاحب نے یہ کیا کہہ دیا؟ اوریا مقبول جان
tags:
oria maqbool jaan, Lieutenant-General Shahid Aziz, Tanzeem e islami,
sawat, aarmy operation, video, sawat peace deal, who broke,
ghazala javaid, taliban, secular, media, islam, pakistan,
25 September 2013
مذاکرات کیے جائیں یا مقابلہ؟--- ابو نثر
امریکا اگر افغانستان کے طالبان سے اُسی وقت مذاکرات کا قائل ہوگیا ہوتا جس وقت ملا عمر نے امریکا سے مطالبہ کیا تھا کہ اُسامہ بن لادن کے خلاف دہشت گردی کے عدالتی ثبوت فراہم کردیے جائیں تو ہم اُنھیں امریکاکے حوالے کردیں گے۔ تب ہمارے دانشور بھی امریکا اور افغانستان میں مذاکرات کے قائل ہی ہوتے۔ مذاکرات کے ایجنڈے کے طور پر دوسرا مطالبہ ملا عمر نے یہ کیا تھا کہ (امریکا کی طرف سے اُنھیں عدالتی ثبوت فراہم نہ کرنے کی صورت میں) اگر کسی مسلمان ملک میں اُسامہ بن لادن پر مقدمہ چلایا جائے تب بھی ہم اُسامہ بن لادن کو اُس مسلمان ملک کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر امریکا اُس وقت زعمِ خدائی کے نشے میں دھت تھا۔ اپنے آپ کو وحدہٗ لاشریک طاقت سمجھتاتھا۔ ’طالبان‘ نے سارا نشہ ہرن کردیا۔اُس وقت اُس کا خیال یہ تھا کہ ’طالبان‘ سے مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں۔ اُن پر صرف حملے کی ضرورت ہے۔سواُس نے حملہ کر دیا۔ ملا عمر نے حکومت چھوڑ دی مگر جس شخص کو ’پناہ‘ میں لیا تھا اُسے چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ نہ اپنے ہاتھوں سے اُسے دشمن کے حوالے کیا۔اُنھوں نے اقبالؔ ؒ کی اِس ہدایت پر حرف بہ حرف عمل کیا کہ:
تو احکامِ حق سے نہ کر بے وفائی
تم ہم سے اگر کہتے، ہم سے نہ سنا جاتا
’’بیگن بھی کیا عمدہ ترکاری ہے!‘‘
یہ سن کرایک دانشور بولا:
’’ہاں سرکار! رنگ دیکھیے کتنا خوش نُماہے‘‘۔
دوسرابولا:
’’اس کی جلد کیسی چمکیلی، ملائم اور نرم ہے‘‘۔
تیسرابولا:
’’دیکھیے سرکار کہ اُس کے سرپرکتنا خوب صُورت تاج سجایاگیا ہے‘‘۔
اِتنے میں بادشاہ نے اپنا ذہن بدل لیا۔بولا:
’’مگر اِس کے کھانے سے قبض ہوجاتاہے‘‘۔
پہلا دانشور بولا:
’’تب ہی تو رُوسیاہ ہے!‘‘
دوسرا دانشور بولا:
’’اس کایہ پھسلواں پھسلواں چھلکا۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ چھال ہے یا ربڑ؟‘‘
تیسرے دانشور نے نقص نکالا:
’’جی سرکار! تبھی تو قُدرت نے اسے شاخ پر اُلٹالٹکایا ہواہے‘‘۔
بادشاہ بھڑک اُٹھا:
’’تُم کیسے دانشور ہو؟ ایک بات پر قائم نہیں رہتے۔ میں بیگن کی تعریف کروں تو تعریف کرتے ہو۔ میں تنقیص کروں تو تم بھی نقائص نکالنے لگتے ہو‘‘۔
پہلادانشور ہاتھ جوڑ کربولا:
’’حضور! ہم سرکار کے نمک خوار ہیں، بیگن کے نہیں!‘‘
یہ قصہ ہم نے خان صاحب کو سنایا تو کہنے لگے:
’’اصل میں یہ سب ’چڑھے ہوئے سورج‘ کے پجاری ہیں۔ایک محاورے کے پشتو ترجمہ کے مطابق کامیابی کے سینکڑوں باپ اورہزاروں خاوند ہوتے ہیں، جب کہ ناکامی نہ صرف یتیم و یسیرہوتی ہے بلکہ مطلقہ بھی ‘‘۔
11 September 2013
امریکہ کی جنگ کو گود لینے والے
24 June 2013
غیرت تو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے-اوریا مقبول جان























