Test Footer 2

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

Showing posts with label افغانستان. Show all posts
Showing posts with label افغانستان. Show all posts

21 December 2013

Disposable America soldiers


 

 “قابل تلف”("Disposable")امریکن فوجی!
 مریم عزیز
 
بات کچھ تفصیل طلب ہے مگر ہم تلخیص کیے دیتے ہیں۔ڈسپوزبل کا لفظ دراصل ٹشو پیپر جیسی چیزوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔مغرب میں کئی چیزیں اسی مقصد کیلئے بنائی جاتی ہیں کہ ایک بار استعمال کے بعد ردی کردی جائے تاکہ ’maintenance‘ یعنی دیکھ بھال کے ’اخراجات‘ میں کمی لائی جاسکے۔پنٹاگون کے بتائے گئے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق امریکی فوجیوں میں ذہنی امراض میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ہر دس میں سے ایک امریکی فوجی دماغی امراض کیلئے ہسپتال میں داخل ہے۔امریکی سیکریٹری آف ڈیفنس رابرٹ گیٹس کے الفاظ میں امریکی فوجیوں کے نفسیاتی مسائل کے علاج معالجے پرآنے والے اخراجات ”دفاعی محکمے کو سالم نگل رہے ہیں“!۔امریکی فوج نے حال ہی میں ایسے فوجیوں کے علاج پر”تین ہزار ڈالر روزانہ“کے خرچے کا رونا رویا۔ 
قارئین کرام، بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی بات یہاں سے شروع ہوتی ہے ان طریقوں کی جن کو استعمال کرکے امریکی دفاعی محکمہ ’خرچے کم‘کرنے کی کوشش کررہا ہے۔جیویش ٹائمز نامی اخبار میں مصنفہ جوائس ایس اینڈرسن ؛دی نیشن نامی میگزین میں جوشوا کورزکے چھپنے والے مضامین کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کی وجہ سے شور تو بہت اٹھا تھا مگرمعاملے کودبا دیا گیا۔مضامین کا عنوان تھا“Disposable Soldiers!” ۔جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2001ء سے اب تک ساڑھے بائیس ہزار امریکی فوجیوں کو یہ کہہ کر فوج سے بے دخل کردیا گیا ہے کہ وہ ’پہلے سے‘ذہنی مریض تھے اور فوج کیلئے بے کار ہیں۔ حقیقت تو یہ تھی کہ یہ فوجی داخلے کے وقت صحتمند قرار دیے گئے تھے مگر جب جنگ کے دوران کھائی جانے والی مرئی و غیر مرئی چوٹوں(جیسے تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سر کا یاجسم کاشدید درد، کانوں میں سماعت کے مسائل،بینائی کے مسائل وغیرہ)کیلئے علاج کیلئے درخوست گزار ہوئے تو ان کو خبطی ،پہلے سے دماغی امراض کا شکاراور ڈرامہ باز قرار دے کر فوج سے رخصت کردیا گیا۔
 ایسی رخصت کے نتیجے میں پھر نہ صر ف ان کو علاج کی سہولت سے محروم کردیا گیا بلکہ دیے گئے بونس میں سے موٹی رقم کی واپسی بھی اس میں شامل ہے۔چنانچہ قابل تلف معمولی استعمال کی اشیاءکی طرح ان امریکی فوجیوں کودیکھ بھال کے اخراجات میں کمی کیلئے ’ردی ‘کردیا گیاہے۔ایک دو تحقیقاتی کمیٹیاں بھی بنیں مگر انہوں نے بھی مہینوں بعد فیصلہ سنایا کہ فوج کے ڈاکٹروں کی تشخیص صحیح تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ تحقیق کے لئے ان میں سے کسی فوجی سے براہ راست کوئی گفتگو نہیں کی گئی۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق اب بھی اس نظام میں تبدیلی نہیں لائی گئی ہے اوراسی طرح کئی ہزارامریکی فوجی عضو معطل کی طرح کاٹ پھینکے جاتے ہیں! اپنی طرز حکومت اور ویلفیر سوسائٹی کے ماڈل کو بزور قوت دنیا میں نشر کرنی والی سپر پاور کا جو حشر ہو رہا ہے وہ دنیا کے لئے ایک تازیانہ ہے۔خوش حالی میں حقوق انسانی کا راگ الاپنا اور غریب ممالک کو انسانیت کا سبق سکھانا بہت آسان ہے۔ لیکن کسی کے ظرف کو ناپنے کا پیمانہ برے وقت میں اس کا طرز عمل ہوتا ہے۔

 

18 December 2013

جنرل صاحب نے یہ کیا کہہ دیا؟ اوریا مقبول جان






جنرل صاحب نے یہ کیا کہہ دیا؟
اوریا مقبول جان

میڈیا کےکیمرے اس سیمینار میں نہیں تھے۔ اسلام آباد کے سرد موسم میں دسمبر کی ایک صبح مشہور زمانہ لال مسجد اور مرحوم جامعہ حفصہ کے قریب ایک ہوٹل کے زیر زمین حال میں شہر کے لوگوں کا جم غفیر تھا۔ تنظیم اسلامی نے دہشت گردی کے سدباب کے عنوان سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا تھا۔ دو مقررین کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقے سے تھا اور وہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کے اہم ستون یعنی بیوروکریسی کے اعلیٰ ترین عہدوں پرفائز رہ چکے تھے۔

تیسرے مقرر پرویز مشرف کے دست راز ریٹائرڈ لفٹیننٹ  جنرل شاہد عزیز تھے۔ افغانستان پر امریکی حملے کے وقت وہ چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر متمکن تھے، ایک ایسا عہدہ کہ جب اس ملک سے افغانوں پر حملے کرنے کے لیے مکمل مدد فراہم کی جا رہی تھی، اس عہدے کی آنکھیں ان تمام واقعات کی گواہ بنتی رہیں۔ دسمبر 2003 سے اکتوبر 2005 تک وہ لاہور کے کور کمانڈر رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد نیب کے چیرمین بنے۔ یوں تو اس دور میں بہت سے لفٹیننٹ جنرل رہے لیکن اپنے ضمیر کی خلش سے بیقرار ہو کر اور خاموشی توڑ کر کتاب صرف جنرل شاہد عزیز نے لکھی۔ اس کتاب میں لکھا جانے والا سچ اس قدر کڑوا تھا کہ اس نے بھونچال کھڑا کر دیا۔ ان کی کتاب "یہ خاموشی کب تک" پر بہت عرصہ اخباروں اور ٹی وی کے ٹاک شوز میں تبصرہ ہوتا رہا ۔ پرویز مشرف نے غصے میں لال بھبھوکا ہوتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ شاہد عزیز کا دماغ چل گیا ہے۔ اس سیمینار میں قبائلی امور کے باقی دونوں ماہرین اور خود قبائلی پس منظر رکھنے والے اعلیٰ بیوروکریٹس نے بہت سی ایسی باتیں کیں جنھیں اس ملک کا میڈیا بیان نہیں کرتا اور شاید مدتوں نہیں کرے گا۔ سیمینار میں جنرل شاہد عزیز نے ایک حیران کن انکشاف کیا اور یہ ایسی حقیقت ہے جسے سوات کا بچہ بچہ جانتا ہے لیکن نہ یہ میڈیا پر نشر ہوتی ہے اور نا ہی اسے کوئی سیاستدان، دانشور یا تبصرہ نگار بیان کرنے کی جرات کرتا ہے۔ جنرل شاہد عزیز نے، جو اپنی لکھی ہوئی تحریر پڑھ رہے تھے اور جس کی ریکارڈنگ تنظیم اسلامی کے پاس موجود ہے اور ہو سکتا ہے چند دنوں میں وہ ان کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہو، کہا :
 
"سوات میں امن معائدہ حکومت اور فوج نے امریکہ کے دباؤ پر توڑا اور اس کا الزام طالبان پر لگا دیا"۔

یہ فقرہ ایسا تھا جس سے پورے کا پورا ہال سناٹے میں آ گیا۔ اس فقرے کی گونج میں اگر ہم میڈیا پر گزشتہ پانچ سال کی گرجتی برستی آوازوں اور دانشوروں کے قلم سے نکلے ہوئے زھرخند جملوں کو یاد کریں تو یوں لگتا ہے کہ کئی سال پوری کی پوری قوم ایک جھوٹ کے الاؤ میں جلتی رہی۔ پاکستان کی پوری سیاسی قیادت، جو سوات آپریشن کے وقت برسراقتدار تھی، میں سے کسی بیان یا ٹی وی پر تبصرہ نکال کر دیکھ لیں، ایسے لگے گا جیسے یہ لوگ امن کی فاختائیں اڑا رہے تھے اور طالبان کی طرف سے انھیں ذبح کر دیا جاتا تھا۔ یہ اس قدر صابر تھے کہ انہوں نے امن کی ہر کوشش کی لیکن اسے طالبان نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔ اس سوال کا جواب تو شاہد عزیز ہی دے سکتے ہیں کہ فوج کی ایسی کیا مجبوری تھی کہ وہ امن جو مزاکرات کی میز پر وقوع پذیر ہو گیا تھا اسے ایک فوجی آپریشن میں کیوں بدل دیا گیا جس کے آج تک ہم زخم چاٹ رہے ہیں۔ آج بھی دبی دبی آوازیں سوات کے بازاروں میں سنائی دیتی ہیں اور صرف ایک وقت کا انتظار ہے کہ جب قصبوں، محلوں اور دیہاتوں میں سنائی جانے والی کہانیاں میرے ملک کے طول و عرض میں بیان ہونے لگیں گی؛ پھر کوئی معافی، غلطی کا کوئی اعتراف ان زخموں کو مندمل نہ کر سکے گا۔ اس سارے کھیل تماشے میں جو  تھیٹر میڈیا پر سجا اور آج بھی سجا ہوا ہے اس نے قوم کو نفسیاتی مریض بنایا ہوا ہے۔ آج بھی دلیل یہ دی جاتی ہےاور کتنے زوروشور سے دی جاتی ہے کہ طالبان پر بھروسہ کیسے کریں، وہ تو سوات میں معائدہ توڑ  دیتے ہیں۔ طالبان کو جس طرح میڈیا میں گالی بنایا گیا وہ صرف سوات کے امن معائدے کے ایک واقعے سےنہیں بلکہ اس میڈیا نے ہر اس قتل کو طالبان کے کھاتے میں ڈال کر دوکان سجائی جو کہیں کسی اور جگہ بھی ہوتا رہا۔ سوات ہی کی مشہور گلوکارہ غزالہ جاوید جب اپنے باپ کے ہمراہ قتل ہوئی تو کتنے دن میڈیا یہ ماتم کرتا رہا کہ شدت پسندی اور طالبان کی سوچ نے اس خوبصورت گلوکارہ کی جان لے لی۔
[گلوکارہ غزالہ جاوید کا قاتل اس کا سابق شوہر تھا، جسے ابھی دو دن قبل ہی عدالت نے دو بار سزائے موت اور 7 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے:  خبر ]

ابھی سوات میں لڑکی کے کوڑوں والی ویڈیو ٹی وی کی سکرینوں پر نہیں آئی تھی کہ اس سے تقریبا دو ہفتے قبل ایک پروگرام میں انسانی حقوق کی ترجمان ثمر من الله نے کہا کہ دیکھنا کچھ عرصے بعد ایک ویڈیو سامنے آنے والی ہے جو طالبان کی حقیقت آشکار کر دے گی۔ اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر طالبان سے اس قدر دشمنی کیوں ہے؟ اس ملک میں اور بھی تو شدت پسند گروہ بستے ہیں۔ شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے والے تو بلوچستان میں بھی ہیں۔ قتل و غارت کا بازار گرم کرنے والے تو کراچی میں بھی کسی کو چین سے بسنے نہیں دیتے ۔ ایسی ایسی بوری بند لاشیں برآمد ہوتی ہیں کہ جن کی ہڈیوں میں ڈرل سے سوراخ کیا گیا ہوتا ہے، ناخن کھینچے گئے ہوتے ہیں۔ ان کے لواحقین پر کیا گزرتی ہو گی جب وہ یہ لاشیں دیکھ کر سوچتے ہوں گے کہ ان کے پیاروں نے زندگی کے آخری لمحے کس اذیت سے گزارے ہوں گے۔پھر بھی میڈیا پر صرف ایک ہی شدت پسند گروہ کے "ترانے" کیوں گئے جاتے ہیں۔ یہ مرض بہت پرانا ہے، یہ حربہ اور  ہتھکنڈا  بہت پراثر ہے اس لیے کہ اس کا ہدف طالبان نہیں اسلام ہوتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی عرب ریاستوں میں سے اکثریت پر سیکولر ڈکٹیٹر برسر اقتدار تھے، ان کا اسلام یا اس کے اصول زندگی سے دور دور کا بھی واسطہ نہ تھا لیکن دنیا بھر کے اخبارات یا ٹی وی پروگرام اٹھالیں، انھیں سیکولر ڈکٹیٹر نہیں مسلمان ڈکٹیٹر کہا جاتا تھا۔ کسی نے جرمنی کے ہٹلر، سپین کے فرانکو یا فلپائن کے مارکوس کو آج تک عیسائی ڈکٹیٹر نہیں کہا اور نا ہی لکھا ۔ 

اسلام کو اور مسلمانوں کو ہدف بنا کر جس قدر تسکین دنیا بھر کے میڈیا اور میرے ملک کے "عظیم" دانشوروں کو ہوتی ہے اس کا اندازہ آپ صرف کسی نیوز روم میں بیٹھ کر لگا سکتے ہیں، وہ نیوز روم جہاں کسی دھماکے، قتل یا ایسے کسی جرم کی خبر آ چکی ہو اور ٹی وی پر چل بھی رہی ہو متلاشی نظریں اور کان بےچینی سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں،  تجسس میں ایک دوسرے سے سوال کیے جاتے ہیں:
"طالبان نے ذمہ داری قبول نہیں کی ابھی تک؟ پتا تو کرو، عالمی میڈیا کو دیکھو، کسی ویب سائٹ پر ڈھونڈو" اور اگر ذرا بھی تاثر مل جائے تو پھر دیکھیں اگلے چوبیس، اڑتالیس یا بہتّر  گھنٹے کی نشریات کے لیے موضوع مل جاتا ہے۔ خبر چلاؤ اور رگڑ دو شرعی قوانین کو، اسلام کی شرعی حیثیت کو اور خود اسلام کو۔

اوریا مقبول جان 


tags:
oria maqbool jaan, Lieutenant-General Shahid Aziz, Tanzeem e islami,
sawat, aarmy operation, video, sawat peace deal, who broke,
ghazala javaid, taliban, secular, media, islam, pakistan, 

25 September 2013

مذاکرات کیے جائیں یا مقابلہ؟--- ابو نثر


بڑی دلچسپ بریکنگ نیوز ہے۔ ہمارے کئی دانشور جو ہر قسم کے ’طالبان‘ سے مذاکرات کے مخالف تھے کہ ۔۔۔ ’’دہشت گردوں سے مذاکرات کے کیا معنی؟‘‘۔۔۔ اب وہ ’افغان طالبان‘ سے مذاکرات کے حامی ہوگئے ہیں۔کیوں نہ ہوں؟ افغانستان کے طالبان کے ساتھ بارہ تیرہ برس سے جنگ کر کر کے ’’عسکری اور اقتصادی سطح پر زخم زخم‘‘ ہوجانے والا امریکا جو، ان سے مذاکرات کرنے کاقائل ہوگیا ہے۔ایک صاحب نے تو ایک دن سویرے سویرے یہ اطلاع بھی دے دی کہ افغانستان کے طالبان ’’مجاہدینِ آزادی‘‘ ہیں۔ اُن کے ملک پر ’’غیر ملکی افواج‘‘ قابض ہیں۔ (’غیر ملکی افواج‘ کا نام لے لینے سے نکاح ٹوٹ جانے کا خطرہ اب بھی لاحق ہے)۔ اپنے ملک کو غیر ملکی قبضے سے چھڑانا افغانوں کا حق بنتا ہے۔(اطلاع ختم ہوئی) ہم ’افغان طالبان‘ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ وہ جو ’مجاہدین‘ سے ’دہشت گرد‘ ہوگئے تھے، اب ہمارے دانشوروں نے اُن کا سابقہ لقب بحال کردیا ہے۔ وہ ایک بار پھر ’مجاہدین‘ کے منصب پر فائز ہو گئے ہیں۔ ’مجاہدین آزادی‘ کے منصب پر۔

امریکا اگر افغانستان کے طالبان سے اُسی وقت مذاکرات کا قائل ہوگیا ہوتا جس وقت ملا عمر نے امریکا سے مطالبہ کیا تھا کہ اُسامہ بن لادن کے خلاف دہشت گردی کے عدالتی ثبوت فراہم کردیے جائیں تو ہم اُنھیں امریکاکے حوالے کردیں گے۔ تب ہمارے دانشور بھی امریکا اور افغانستان میں مذاکرات کے قائل ہی ہوتے۔ مذاکرات کے ایجنڈے کے طور پر دوسرا مطالبہ ملا عمر نے یہ کیا تھا کہ (امریکا کی طرف سے اُنھیں عدالتی ثبوت فراہم نہ کرنے کی صورت میں) اگر کسی مسلمان ملک میں اُسامہ بن لادن پر مقدمہ چلایا جائے تب بھی ہم اُسامہ بن لادن کو اُس مسلمان ملک کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر امریکا اُس وقت زعمِ خدائی کے نشے میں دھت تھا۔ اپنے آپ کو وحدہٗ لاشریک طاقت سمجھتاتھا۔ ’طالبان‘ نے سارا نشہ ہرن کردیا۔اُس وقت اُس کا خیال یہ تھا کہ ’طالبان‘ سے مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں۔ اُن پر صرف حملے کی ضرورت ہے۔سواُس نے حملہ کر دیا۔ ملا عمر نے حکومت چھوڑ دی مگر جس شخص کو ’پناہ‘ میں لیا تھا اُسے چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ نہ اپنے ہاتھوں سے اُسے دشمن کے حوالے کیا۔اُنھوں نے اقبالؔ ؒ کی اِس ہدایت پر حرف بہ حرف عمل کیا کہ:

اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے!
تو احکامِ حق سے نہ کر بے وفائی

ایک ایسا شخص جس پر کسی عدالت سے جرم ثابت ہی نہیں ہوا، اُس پر سے اپنی پناہ اُٹھا کراُسے شقی القلب کفار کے حوالے کیوں کیا جائے؟ امریکا کے جرائم البتہ ثابت ہوتے چلے آرہے ہیں۔ جن لوگوں کو کنٹینروں میں ’’دم گھونٹ گھونٹ‘‘ کر گوانتا نامو بے لے جایا گیا اُن میں سے بھلا کس پر جرم ثابت ہوا؟ جرم نہیں ثابت ہوا مگر اُنھوں نے کیسی کیسی بھیانک سزائیں بھگتیں؟ہر شخص کی الگ الگ داستان ہے اور ہر داستان کا ہر صفحہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔پرویز مشرف نے ’’جنیوا کنونشن‘‘کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو ’’سفارتی استثنا‘‘ رکھنے کے باوجود خود گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا اور امریکا عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑاتا ہوا اُن کو گوانتا نامو بے لے گیا۔ وہ چار سال کے شدید اور اذیت ناک عذابِ مسلسل کے بعد ’’بے گناہ‘‘ قرارپائے اوررہا کردیے گئے۔ اُن کی داستان، جس کا ترجمہ عبدالصمد صافی نے ’’اژدہا کے منہ میں چار سال‘‘ کے عنوان سے کیا ہے ،پڑھیے تو پڑھی نہ جائے۔ملا ضعیفؔ نے جو کچھ پیش لفظ میں لکھا ہے اُس کا لب لباب بقولِ کلیم عاجزؔ یہ ہے :

گزری ہے جو کچھ ہم پر، گر تم پہ گزر جاتی
تم ہم سے اگر کہتے، ہم سے نہ سنا جاتا

بغیر عدالتی ثبوت کے اور بغیر مقدمہ چلائے کسی کو محض امریکا کے کہے پر مجرم سمجھ کر اُسے امریکا کے حوالے کردینے کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ہم اس وقت ایک ایسے خوفناک ’’استعماری دور‘‘ سے گزر رہے ہیں جس کا خاتمہ ہونا باقی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ جب اس دور کا خاتمہ ہوگا تو ہمارے بہت سے دانشوروں کا نام تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق کے ناموں کے ساتھ Enlist کیا جائے گا۔ مذکورہ دونوں ’دانشوروں‘ کو بھی غالباً یقین نہ تھا کہ یہ قابض و غاصب ’گورے آقا‘ کبھی زوال کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔ ابھی تو امریکا نے صرف ایک پلٹا کھایا ہے تو ہمارے دانشورساتھ ساتھ پلٹ گئے۔اگر وہ پلٹیوں پر پلٹیاں کھانے لگا تو ان کا بھی یہی حال ہوگااوران کے اِس رقصِ بسمل کا تماشا سب دیکھیں گے۔

کیا آپ نے نہیں سنا اُس بادشاہ کا قصہ جس نے اپنے دربار میں کچھ ایسے ہی دانشور پال رکھے تھے۔بادشاہ ایک روزکہنے لگا:
’’بیگن بھی کیا عمدہ ترکاری ہے!‘‘
یہ سن کرایک دانشور بولا:
’’ہاں سرکار! رنگ دیکھیے کتنا خوش نُماہے‘‘۔
دوسرابولا:
’’اس کی جلد کیسی چمکیلی، ملائم اور نرم ہے‘‘۔
تیسرابولا:
’’دیکھیے سرکار کہ اُس کے سرپرکتنا خوب صُورت تاج سجایاگیا ہے‘‘۔
اِتنے میں بادشاہ نے اپنا ذہن بدل لیا۔بولا:
’’مگر اِس کے کھانے سے قبض ہوجاتاہے‘‘۔
پہلا دانشور بولا:
’’تب ہی تو رُوسیاہ ہے!‘‘
دوسرا دانشور بولا:
’’اس کایہ پھسلواں پھسلواں چھلکا۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ چھال ہے یا ربڑ؟‘‘
تیسرے دانشور نے نقص نکالا:
’’جی سرکار! تبھی تو قُدرت نے اسے شاخ پر اُلٹالٹکایا ہواہے‘‘۔
بادشاہ بھڑک اُٹھا:
’’تُم کیسے دانشور ہو؟ ایک بات پر قائم نہیں رہتے۔ میں بیگن کی تعریف کروں تو تعریف کرتے ہو۔ میں تنقیص کروں تو تم بھی نقائص نکالنے لگتے ہو‘‘۔
پہلادانشور ہاتھ جوڑ کربولا:
’’حضور! ہم سرکار کے نمک خوار ہیں، بیگن کے نہیں!‘‘

یہ قصہ ہم نے خان صاحب کو سنایا تو کہنے لگے:

’’اصل   میں یہ سب ’چڑھے ہوئے سورج‘ کے پجاری ہیں۔ایک محاورے کے پشتو ترجمہ کے مطابق کامیابی کے سینکڑوں باپ اورہزاروں خاوند ہوتے ہیں، جب کہ ناکامی نہ صرف یتیم و یسیرہوتی ہے بلکہ مطلقہ بھی ‘‘۔



11 September 2013

امریکہ کی جنگ کو گود لینے والے



جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں فرمایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ ہماری جنگ ہے اور ہم نے اس جنگ میں شرکت کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔
مثل مشہور ہے ’’ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں‘‘۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ طاقتور کا ساتھ سب ہی دیتے ہیں، خواہ طاقت ور کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو۔ دنیا میں جتنی باطل طاقتیں رہی ہیں ان کی حمایت کرنے والے اسی ذہنیت کے حامل تھے۔ نمرود میں اس کے سوا کوئی خوبی نہ تھی کہ وہ طاقتور تھا۔ فرعون میں اس کے سوا کوئی حسن نہ تھا کہ وہ قوی تھا۔ لیکن یہ انسانی ذہن کی پستی کی انتہا نہیں ہے۔ انسانی ذہن کی پستی کی انتہا یہ ہے کہ اگر تم دشمن کو شکست نہیں دے سکتے تو اس کے ساتھ مل جائو۔ پاکستان کے جرنیلوں نے امریکہ کے حوالے سے یہی کیا ہے۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد جنرل پرویزمشرف کے سامنے سات مطالبات رکھے تو اس کا خیال تھا کہ جنرل پرویزمشرف ان میں سے تین چار مطالبات تسلیم کریں گے، مگر جنرل پرویزمشرف نے سات کے سات مطالبات کو تسلیم کرلیا۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ بزدلی ایک ذہنی و نفسیاتی عارضہ ہے۔ بلاشبہ ایسا ہی ہے مگر اس عارضے کی جڑیں بھی اخلاقیات میں پیوست ہوتی ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے ملا عمر کے سامنے بھی دو ہی صورتیں رکھی تھیں: تم یا تو ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف ہو۔ ملا عمر نے صاف کہا کہ ہم نہ تمہارے ساتھ ہیں نہ تمہارے خلاف ہیں۔ ہم حق کے ساتھ ہیں اور باطل کے خلاف ہیں۔ ان کو جنرل پرویزمشرف کے بھیجے ہوئے علماء نے بھی سمجھایا کہ ایک اسامہ بن لادن کے لیے پوری ریاست کو دائو پر لگادینا ٹھیک نہیں۔ مگر ملا عمر کی اخلاقی بنیاد مستحکم تھی، چنانچہ انہوں نے کہا کہ اسامہ کو حوالے کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ان کے خلاف ٹھوس شہادت پیش کی جائے، بصورت ِدیگر ہم اسلامی تعلیمات کی رو سے اپنے مہمان کو ہرگز امریکہ کے حوالے نہیں کریں گے خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ اقبال نے کبھی کہا تھا ؎

اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے جائے
تُو احکام حق سے نہ کر بے وفائی

ملا عمر نے اقبال کے اس مثالیے یا Idealکو 20 ویں صدی میں حقیقت بناکر دکھادیا۔ لیکن جنرل پرویز امریکہ کی ایک دھمکی پر دبک اور پچک کر رہ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی شخصیت کی اخلاقی بنیادیں یا تو موجود ہی نہیں تھیں، یا انتہائی کمزور تھیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ا گر جنرل پرویزمشرف امریکہ سے ’’تعاون‘‘ نہ کرتے تو امریکہ پاکستان کو واقعتاً پتھر کے دور میں واپس بھیج دیتا۔ پہلی بات تو یہ کہ جنرل پرویز نے امریکہ کے ساتھ ’’تعاون‘‘ نہیں کیا۔ وہ امریکہ کے لیے کرائے کے قاتل کا کردار ادا کرنے لگے، یہاں تک کہ یہ کردار برسوں پر محیط ہوگیا۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ بہادروں کا ساتھ دیتا ہے۔ بہادر کمزور بھی ہو تو اللہ اسے قوی کردیتا ہے، اور بزدل طاقتور بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اسے کمزور بنادیتا ہے۔ امریکہ نے جنرل پرویزمشرف کو دھمکی دے کر ان پر ایک نفسیاتی اور اعصابی حملہ کیا تھا، اور جنرل پرویز ایک ہی حملے میں ڈھیر ہوگئے۔ وہ امریکہ کی مزاحمت کرتے تو امریکہ پاکستان کو نشانہ بنانے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور ایٹمی ملک کو ناراض کرنے کے مضمرات ہولناک ہوسکتے تھے۔ امریکہ اچھی طرح جانتا تھا کہ پاکستان کے بغیر وہ نہ افغانستان میں داخل ہوسکتا ہے، نہ وہاں طویل جنگ لڑسکتا ہے۔ پاکستان اُس وقت 17کروڑ لوگوں کا ملک تھا اور اس کے عدم استحکام کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور پورے وسطی ایشیاء پر مرتب ہوتے۔ جنرل پرویز مزاحمت کرتے تو امریکی ان تمام اندیشوں میں مبتلا ہوتے۔ مگر جنرل پرویز نے ایک ٹیلی فون کال پر ہتھیار ڈال کر امریکہ کو ہر اندیشے اور ہر خطرے سے بے نیاز کردیا۔
لیکن امریکہ کی جنگ کو گود لینے کے حوالے سے دیکھا جائے تو جنرل کیانی کا معاملہ جنرل پرویز سے بھی ابتر ہے۔ کیا جنرل کیانی کو اندازہ نہیں ہے کہ انہوں نے امریکہ کی جنگ کو گود لے کر کن کن چیزوں کی خلاف ورزی کی ہے؟ انہوں نے کن کن چیزوں کو پامال کیا ہے؟

اسلام کہتا ہے کہ اگر تمہارے پڑوس میں اہلِ ایمان جبر کا شکار ہوں تو ان کی مدد کرو خواہ تم کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ مگر پاکستان کے جرنیلوں نے پڑوس میں آباد اہلِ ایمان کی مدد کرنے کے بجائے باطل کی ہرممکن اعانت کی۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ اسلامی ملک کا ایک انچ کافروں کے حوالے کرنا حرام ہے، مگر پاکستان کے حکمرانوں نے پورا ملک امریکہ کے حوالے کردیا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جنرل کیانی باطل کی پشت پناہی کو اپنی جنگ قرار دے رہے ہیں۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان محض اپنی عزت و تکریم کی خاطر بھی جبر و استبداد کی مزاحمت کرتا ہے۔ ویتنام ایک لادین ملک تھا مگر اس نے امریکہ کے خلاف دس سال تک جنگ لڑی اور اسے جیت کر دکھایا۔ کیوبا ایک کمیونسٹ ملک ہے اور پاکستان کے مقابلے پر اس کی حیثیت ایک نقطے سے زیادہ نہیں، مگر اس کے باوجود اُس نے آج تک امریکہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ لیکن پاکستان کے جرنیلوں کے لیے انسان کی عزت اور تکریم کا بھی کوئی مفہوم نہیں ہے۔ انہیں ایک ایسی پُرتعیش زندگی بسر کرنے کی عادت ہے جس کے آگے کسی چیز کی کوئی حیثیت نہیں۔

جو شخص مذہب‘ اخلاق اور انسان کی تکریم کو نہیں مانتا وہ کم از کم فائدے اور نقصان کا تو قائل ہوتا ہی ہے۔ لیکن پاکستان کے جرنیل تو امریکہ کی جنگ کے حوالے سے فائدے اور نقصان کے بھی قائل نہیں رہے۔ یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ امریکہ کی جنگ میں شریک ہوکر ہم نے اپنی آزادی اور خودمختاری کا سودا کیا اور پوری قوم کو ذلت کے شدید احساس میں مبتلا کیا، اور یہ ایک بہت ہی بڑا قومی نقصان ہے۔ ہم نے اس جنگ میں 30ہزار شہریوں اور 5 ہزار فوجیوں کی قربانی دی ہے، اور یہ اتنا بڑا نقصان ہے کہ بھارت کے ساتھ دو بڑی جنگوں میں بھی ہمارا اتنا جانی نقصان نہیں ہوا۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس جنگ نے ہمیں دس برسوں میں 70 ارب ڈالر سے زیادہ کا مالی نقصان پہنچایا ہے۔ ہم نے اس جنگ کے نتیجے میں چالیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ہی ملک کے اندر ’’بے گھر‘‘ کیا ہے۔ اس جنگ نے پاکستان کو دنیا بھر کے خفیہ اداروں کی چراگاہ بنادیا ہے۔ اس جنگ نے پوری قوم بالخصوص خیبرپختون خوا اور قبائلی عوام کی نظروں میں فوج کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود بھی جنرل کیانی کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ ’’ہماری‘‘ جنگ ہے! سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے جرنیل فائدے اور نقصان کے فہم سے بھی نیچے کھڑے ہیں؟

امریکہ اور اس کی جنگ کا ایک پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر میں امریکہ سب سے زیادہ پاکستان میں غیر مقبول ہے۔ پاکستان کے 80 فیصد سے زیادہ لوگ امریکہ کی پالیسیوں کی وجہ سے اسے پسند نہیں کرتے۔ یہی معاملہ دہشت گردی کے خلاف امریکی نام نہاد جنگ کا ہے۔ پاکستان کے لوگوں کی عظیم اکثریت پہلے دن سے آج تک اس جنگ کو ناپسند کرتی ہے۔ لیکن جنرل کیانی کے نزدیک ان حقائق کی بھی اہمیت نہیں۔ اگر ہوتی تو وہ امریکہ کی جنگ کو گود میں لے کر لوریاں نہ سنا رہے ہوتے۔
اس جنگ کے ساتھ تازہ ترین حادثہ یہ ہوا ہے کہ خود امریکہ نے اپنی جنگ کو ’’الوداع‘‘ کہہ دیا ہے۔ امریکی کہہ رہے ہیں کہ جب طالبان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں تو جنگ کیوں کی جائے؟ یہ جنگ اور طالبان کے حوالے سے امریکہ کے مؤقف میں 180 ڈگری کی سطح کی تبدیلی ہے۔ لیکن جنرل کیانی امریکہ سے بھی زیادہ امریکہ کے وفادار بن کر کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ ہماری جنگ ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو جنگ کے سلسلے میں امریکہ کے مؤقف میں تبدیلی پر ہمارے جرنیلوں کو کہنا چاہیے تھا کہ جان بچی سو لاکھوں پائے، لوٹ کے بدھو گھر کو آئے… مگر جنرل اشفاق پرویزکیانی کے بیان سے ظاہر ہورہا ہے کہ ہم نہ جان بچانا چاہتے ہیں، نہ لاکھوں پانا چاہتے ہیں اور نہ لوٹ کر گھر کو آنا چاہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟

اس سوال کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے جرنیلوں کا تکبر۔ اگر ہمارے جرنیل یہ تسلیم کرلیں کہ ہم نے گزشتہ دس برسوں میں اپنی نہیں امریکہ کی جنگ لڑی ہے تو انہیں قوم کے سینکڑوں سوالات کا جواب دینا پڑ جائے گا، چنانچہ جنگ کے جس بچے کو امریکہ نے گود سے اتار پھینکا ہے جنرل کیانی اسے بھی گود میں اٹھائے پھررہے ہیں، بلکہ وہ قوم کو یقین دلارہے ہیں کہ ہم نے اس بچے کو گود لے کر تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے۔ لیکن تاریخ بہت سفاک ہوتی ہے، وہ بڑے بڑوں کا حساب بے باق کردیتی ہے۔ چنانچہ وہ دن دور نہیں جب تاریخ فیصلہ کرے گی کہ امریکہ کی جنگ کو گود لے کر ہمارے جرنیلوں نے کیا کیا تھا۔

شاہنواز فاروقی

24 June 2013

غیرت تو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے-اوریا مقبول جان


غیرت تو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے

چاروں جانب خوشی کے شادیانے بج رہے تھے ۔ اخباری نمائندے اپنے کیمروں کے ساتھ ویران کابل میں نیٹو افواج کے ساتھ داخل ہو رہے تھے۔ دنیا کے تمام ممالک کے حکمرانوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے چالیس سے زیادہ عالمی طاقتوں کو ایک نہتے، کمزور اور بے سروسامان ملک پر دہشت گردی کا لائسنس دیا تھا اور آج اس لائسنس کے تحت ہونے والی دہشت گردی کی فتح کا دن تھا۔ دنیا بھر کا میڈیا اور میرے  ملک کے ٹیکنالوجی اور طاقت سے مرعوب ہونے والے دانشور طالبان کی شکست پر جس لذت بھرے لہجے میں تبصرے کرتے تھے اور انھیں فرسودہ، دقیانوس، کم عقل، ناسمجھ اور نہ عاقبت اندیش ثابت کرنے میں مگن تھے وہ دیدنی تھا۔ ایسے میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف کو دانا، عقل مند، ملک و قوم کا خیر خوا  اور وقت کی نزاکت کو سمجھ کر امریکہ کے سامنے سربسجود ہو کر پاکستانی قوم کو بچانے والا بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ بڑے سے بڑا سیاسی لیڈر اور عظیم تبصرہ نگار بھی یہی کہتا”اگر ہم ڈٹ جاتے  تو ہمارا تورا بورا بنا دیا جاتا“۔ کابل میں بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہونے کو ایسے پیش کیا جا رہا تھا جسے امریکی جن تھے جنھیں دیکھتے ہی سب خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلے۔ اس دوران ایک پچیس سالہ نوجوان کی آواز گونجی :”طالبان کو شکست نہیں ہو سکتی۔ ہم نے شمالی علاقوں کو حکمت عملی کے تحت چھوڑا  ہے تا کہ ہم اپنی طاقت کو جنوبی علاقوں..... غزنی، قندھار، ہلمند، ارزگان اور زابل میں جمع کریں اور موت تک اس جنگ کو جاری رکھیں۔ ہمیں اسامہ بن لادن کو اپنی سرزمین پر مہمان رکھنے پر کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ اس نے افغانستان کو کمیونسٹ روس سے آزاد کرانے میں ہمارے ساتھ خون بہایا ہے۔“
یہ آواز تھی ملا عمر کے ذاتی سیکرٹری طیب آغا کی۔ یہ وہی شخص ہے جو آج بارہ سال بعد قطر کے شہر دوحہ میں عزت و توقیر کے ساتھ میز پر ایک جانب بیٹھا ایک شکست خوردہ عالمی طاقت اور اس کے حواریوں سے مزاکرات کر رہا ہو گا، وہ طاقت جس کے خوف سے میرے ملک کے عظیم رہنمائوں کے دل آج بھی کانپ اٹھتے ہیں۔ طیب آغا جس کا بچپن اور جوانی کوئٹہ کی گلیوں میں بسر ہوئی، ابھی تین سال کا تھا کہ اس کے ملک پر کمیونسٹ روس کی افواج چڑھ دوڑیں۔ ثور انقلاب کی کمیونسٹ سیاسی پارٹیوں”پرچم “ اور”خلق“کے افغانی دھڑے ان کے ہمرکاب تھے۔ کوئٹہ میں وہ ایک مہاجر بچے کی حیثیت سے آیا  کیونکہ اس کا والد ملا سدوزئی اپنے ملک کے دفاع کی جنگ میں مصروف تھا۔ کوئٹہ کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم اس نوجوان نے کمپیوٹر کلاسوں اور انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنا شروع کی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں یہ نوجوان عربی، انگریزی، اردو، پشتو اور فارسی میں اس قدر ماہر ہو چکا تھا کہ اس پر شک ہونے لگتا کہ کہیں یہ اسکی مادری زبانیں تو نہیں ہیں۔ اسی عالم شباب میں 1994 کی گرمیوں میں اس کے والد کے شاگرد ملا محمد عمر نے افغانستان میں کرپشن، بھتہ خوری، خونریزی اور سمگلنگ سے کمائی گئی رقم سے ہونے والی قتل و غارت اور جنگ و جدل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو جو پہلے 53 نوجوان ملا عمر کے ساتھ تھے ان میں اٹھارہ سالہ طیب آغا بھی شامل تھا۔ طالبان سے پہلے کا افغانستان بھی سب کو یاد ہے جب وہاں خون اور دہشت کے سائے تھے۔ چمن سے قندھار تک پچاس کے قریب بھتہ خوری کی چیک پوسٹیں تھیں جو ہر گزرنے والے سے مجاہدین کے نام پر تاوان وصول کرتی تھیں۔ طالبان کے بعد کا افغانستان بھی لوگوں کو یاد ہے جب کوئٹہ، پشین اور چمن جیسے مقامات سے لوگ اپنے مقدمات ان کے پاس فیصلوں کے لیے لے کر جاتے تھے کہ انصاف ملے۔ ایک ایسا  افغانستان جس میں صدیوں پرانی افیون کی کاشت صرف ایک حکم نامے پر ختم ہو گئی۔ اس دور کے افغانستان کی تفصیل دنیا بھر کے میڈیا پر موجود ہے لیکن امن و آشتی سے بھرپور یہ پانچ سال بہت سے لوگوں کے لیے جہاں حیرت کا باعث ہیں وہاں ان کے دلوں میں بھرے ازلی و ابدی بغض کے بھی عکاس ہیں جو چند چھوٹے چھوٹے واقعات کی بنیاد پر افغانستان میں تباہی و بربادی اور قتل و غارت کے بعد امن و امان کے قیام کو کوئی کارنامہ قرار ہی نہیں دیتے۔

لیکن اصل معاملہ تو گیارہ ستمبر کے بعد کا ہے۔ طالبان کے پاس بھی وہی دو راستے تھے جو پرویز مشرف اور اسکی حکومت کے پاس تھے۔ افغانستان کا کوئی شخص براہ راست گیارہ ستمبر کے واقعات میں ملوث نہ تھا اور پاکستان کے کسی شہری کا نام بھی اس فہرست میں شامل نہ تھا۔ دونوں پر عالمی برادری کی مسلمہ دہشت گردی اور غنڈہ گردی مسلط کی جا رہی تھی۔ ایک جانب غیرت سے زندہ رہنے کا فیصلہ کرنے والے وہ لوگ تھے جو اللہ پر توکل رکھتے تھے اور دوسری جانب مادی وسائل کے غلام اور ٹیکنالوجی کے پرستار۔ ایک ہماری سرحد کے اْس پار رہتے تھے اور دوسرے میرے ملک کے حکمران۔ اقبال نے اس تقسیم کو کس خوبصورتی سے واضح کیا ہے:
اللہ کو  پامردیِ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

لیکن میرے ملک کے حکمرانوں کو اندازہ نہیں تھا کہ اللہ کی نصرت اور مدد تو  ہر ٹیکنالوجی سے بالاتر ہے۔ یہ جنگ بھی عجیب تھی۔ دنیا کی تمام طاقتور قوتیں ایک جانب، کوئی پڑوسی طالبان کے ساتھ نہ تھا۔ پاکستان سے ستاون  ہزار  مرتبہ امریکی جہاز اڑے اور ان نہتوں پر بم برسائے۔ ایران ساتھ نہ تاجکستان بلکہ تاجکستان کی سرزمین سے تو امریکی فوج داخل ہوئی۔ امریکہ کے ساتھی شمالی اتحاد کو  ہر طرح کی امداد  ایران نے فراہم کی۔ ایسے میں یہ مرد کوہستانی اور بندگانِ صحرائی گیارہ سال تک لڑے۔ ہم نے یہ گیارہ سال گزارے اور حامد کرزئی نے بھی۔ دونوں نے اپنے آقا  امریکہ کو خوش کر کے اور اس کی آشیر باد کو طاقت کا سرچشمہ سمجھ کر گزارے ۔ ہم نے روز لاشیں اٹھائیں۔ مارنے والے بھی کلمہ گو اور مرنے والے بھی کلمہ گو۔ طالبان کو کم از کم ایک اطمینان اور یقین ضرور تھا کہ وہ جس سے جہاد کرنے نکلے ہیں وہ اللہ کا منکر ہے۔ دنیا کی ہر اخلاقیات کے حساب سے وہ ان کے ملک پر قابض ہے۔ ان کی جنگ اسلام کے حوالے سے بھی حق پر تھی اور قوم پرستی کے حوالے سے بھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاتھ میں ریمنڈ ڈیوس آتا ہے اور ہم اپنی انا  اور خودداری بیچ کھاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ ایک امریکی سارجنٹ آیا تھا اور آج اس کے بدلے وہ گوانتاناموبے سے اپنے ساتھ چھڑوا   رہے ہیں ۔ کس قدر منٹ سماجت سے ان سے کہا جا رہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کا پرچم ذرا کم نمایاں کر لیں، اس لیے کہ ہمارے پالتو حامد کرزئی کو تکلیف ہوتی ہے۔ کوئٹہ کی گلیوں میں کمپیوٹر سیکھنے والا شخص طیب آغا جس نے قرآن و حدیث اسی شہر کے مدرسے میں پڑھی امریکی وزیر خارجہ کے مقابل بیٹھے گا۔ اس شخص کی آنکھوں میں چمک دیکھتا ہوں تو طالبان کی قید میں رہ کر کر مسلمان ہونے والی ایون رڈلی کی بات یاد آتی ہے۔

اس نے قید سے رہائی کے فورا  بعد کہا تھا:”یہ لوگ مجسم انسانیت تھے۔ یہ حیران کن لوگ تھے، کالی داڑھیوں اور زمرد جیسی سبز رنگ آنکھوں والے جو خوبصورت سے خوبصورت یورپی عورت کو پگھلا کر رکھ دیں۔ حیرت ہے کہ ان کی آنکھوں میں شرم اور حیاء اس قدر تھی کہ میرے سامنے کسی مجرم کی طرح جھکی رہتیں۔ بموں کی یلغار میں نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ خود بھوکے رہتے، مجھے کھلاتے۔ یہ کیا لوگ ہیں، یہ تو اس جہاں کے لوگ ہیں ہی نہیں“۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ وعدہ کرتا ہے کہ ہم ان کی نصرت کے لیے فرشتے نازل کرتے ہیں۔ گیارہ سال بعد اس مملکت خداداد پاکستان میں بیٹھا سوچ رہا ہوں، تورابورا کس کا بنا، ہمارا  یا  طالبان کا؟  غیرت سے کون زندہ رہا؟ عزت سے کون سرفراز ہوا؟ یہ سوال اب تاریخ کا نہیں بلکہ آج کا ہے۔ اللہ کی نصرت ثابت کرنے کے لیے اب کسی کو عمر ابن خطاب کے زمانے کی جنگ قادسیہ میں ایران کی شکست دکھانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے کھول کر اپنی نشانی دکھا دی۔ اب کوئی ایمان نہ لائے تو اس کے نصیب۔
  

اوریا مقبول جان