Test Footer 2

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

Showing posts with label غزوہ بدر. Show all posts
Showing posts with label غزوہ بدر. Show all posts

5 August 2012

غزوہ بدر: جب ایک معرکہ برپا ہوا۔

 غزوہ بدر: جب ایک معرکہ برپا ہوا۔ (فریال یاور)
٭....٭....٭
سولہ تاریخ کاپورا چاند آسمان پر روشن ہے جس کی چاندنی صحرا اورمیدانوں کو بھی روشن کیے ہوئے ہے ....اس کی روشنی میں یہ میدان بھی بالکل صاف نظرآرہاہے جہاں اللہ کے نیک بندوں کا ایک چھوٹا سا مجمع اس وقت موجودہے ، انہیں رات کی خاموشی اپنی طرف متوجہ کرتی ہے نہ چاندنی رات کاحسن ....اس وقت یہ نیک بندے عشاءکی نماز کے بعد نوافل اورذکرالٰہی میں مشغول ہیں ....کوئی بہت خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کررہاہے تو کوئی ہچکیوں کے ساتھ دعاکررہاہے ....کوئی سجدے میں سررکھے گڑگڑارہاہے، غرض سب ایک اللہ کے آگے اپنی التجا اپنے اپنے انداز سے کررہے ہیں۔

 یہاں سے کچھ ہی دورکفار اپنے خیموں میں موجود ہیں ۔ ان کے خیموں کی اورہی صورتحال ہے ۔ بُھنے گوشت کی دعوت اڑائی جارہی ہے، شراب کے پیالے چھلکائے جارہے ہیں، قہقہے پہ قہقہے پڑرہے ہیں ، خاندانی بہادری کے قصے سنائے جارہے ہیں اورغرور وتکبر کے ساتھ بڑے بڑے دعوئے کیے جارہے ہیں ، ساتھ ہی بدتمیز نوجوان کاشوروغل ،جب پیٹ بھنے گوشت سے بھرگئے،شراب نے ہوش وحواس گم کردئیے اورسب شوروغل مچارکر تھک گئے تو خراٹے لینے لگے، آدھی سے زیادہ رات بیت چکی ہے مسلمانوں نے بھی جب نمازیں پڑھ لیں اوردعائیں مانگ چکے تو دل میں اللہ کی مدد کی امید رکھ کرسوگئے ۔ اب ہرطرف خاموش ہے اور اس خاموشی کوکوئی پرندہ بھی نہیں توڑتا۔
 ٭....٭....٭
کمان پوسٹ کے دروازے پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہرہ پر موجود ہیں اورکمان پوسٹ کے اندر سے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ سے التجا کرنے کی آواز اس گہری خاموشی میں صاف سنائی دے رہی تھی:”اے اللہ ! یہ قریش کے لوگ اپنے غرور وتکبر کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کوجھوٹا ثابت کریں، خدا وند جس مدد کا تونے مجھ سے وعدہ کیاتھا اب وہ آجائے، اے اللہ! اگر تیری یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہوگئی تو روئے زمین پر کہیں تیری عبادت نہ ہوگی، اے اللہ! کل ان لوگوں کاکام تمام کردے ۔ اے اللہ! اس امت کافرعون ابوجہل بچ کرنہ جائے۔“ یہ روحانی تذکرہ غزوہ بدرکاہے جسے قرآن میں ”یوم فرقان“( یعنی حق وباطل کے درمیان فرق کادن) فرمایاہے۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعاکو بہت خاص اہمیت حاصل ہے، یہ دعا اس والہانہ طریقے سے مانگی گئی کہ کندھے سے چادر گرپڑتی تھی اورریش مبارک آنسوﺅں سے لبریز ہوگئی پھراچانک پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی خوشی کے عالم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومخاطب کرتے ہیں کہ:”اے ابو بکر ! خوشخبری سن لوکہ جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ آئے ہیں،اللہ کاوعدہ پوراہوگیا اوردعائیں قبول ہوگئی۔“

بدر مکہ معظمہ سے سو ، دوسو یا اسّی میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاﺅں ہے مگریہاں حق وباطل کی اس جنگ نے اسے ہمیشہ کےلئے محترم بنادیا۔
 غزوہ بدر میں کفارکی فوج کی تعداد ایک ہزار یا اس سے کچھ زیادہ تھی ....ادھر مسلمانوں میں مہاجرین وانصار کو ملاکر کل تعداد تین سو تیرہ تھی اورصرف تین گھڑسوارتھے جب کہ باقی لوگ ستر اونٹوںپرباری باری سوارہوتے تھے، ساٹھ آدمیوںکے پاس زرہیں تھیں،اوراسلحہ بھی تھوڑاساتھاخودرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ باری باری ایک اونٹ پرسوار ہوتے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے گلے میں بندھی ہوئی گھنٹیاں بھی اتروادیں تھیں تاکہ سفر خاموشی سے طے ہو۔

یہ ماہ رمضان کی مبارک گھڑیاں تھیں اوراس سال روزے فرض ہوئے تھے اس لئے بعض صحابہ کرامؓ روزے سے تھے،پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھاتھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا کہ روزہ داربھی روزہ کھول لیں کیونکہ دشمن سے مقابلہ کےلئے قوت کی ضرورت ہے۔

جب میدان بدر پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونچی جگہ خیمہ لگانے کاارادہ کیالیکن ایک صحابی حضرت خباب بن المنذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمے اس جگہ لگائے ، جہاں بدرکے کنویں تھے تاکہ پانی پر کفار قبضہ نہ کرسکیں ....اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان بدر کا ایک چکر لگایا اورایک نیزے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان کے مختلف حصوں میں دائرے بنائے ، فرمایا :”یہاں ”ابو جہل “ قتل ہوگا، یہاں”عتبہ “ قتل ہوگا، یہاں ”شیبہ “ یہاں فلاں فلاں.... جنگ کے دن ان دائروں سے کوئی بھی ایک انچ اِدھر اُدھر قتل نہیں ہوا۔

دوسرے دن جنگ سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی صف بندی کی اورلوگوں کوجنگ سے متعلق حکمت عملی سمجھائی ۔ جب صفیں درست ہورہی تھیں تو جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوبصورت واقعہ پیش آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت سواربن غزیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صف سے باہرنکلے ہوئے ہیں ....آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لکڑی سے حضرت سوار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیٹ کو ہلکے سے ٹہوکا دیا اورصف کے اندر ہونے کو کہا ۔ حضرت سوار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آ پ کو انصاف دیکر بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تکلیف پہنچائی آپ مجھے اس کا بدلہ (قصاص) دیں، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لکڑی حضرت سوار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دی کہ وہ بدلہ لے لیں اورپیٹ پرسے کرتا اٹھادیا، حضرت سوار رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اورمحبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شکم مبارک کوچوما اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اورکہاکہ : ”میںنے چاہا کہ جانے سے پہلے آپ کوچومنا اورآپ کے جسم مبارک کو چھونا نصیب ہوجائے اس لیے میں نے اپنی خواہش پوری کرلی۔“

اس کے بعد جنگ اس طرح شروع ہوئی کہ پہلے تین بہادر کفار کی طرف سے باہرنکلے ۔ ”عقبہ بن ربیعہ “ اس کا بھائی ”شیبہ بن ربیعہ “ اورعتبہ کا بیٹا ”ولید بن عتبہ “ اورانہوںنے مقابلے کا اعلان کیا تو مسلمانوں میں سے تین بہادر معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (حضرت عفرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے) اورحضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقابلے پر آئے، عتبہ نے تینوں سے ان کام نام اورخاندان پوچھا انہوںنے بتایاکہ وہ انصار مدینہ میں سے ہیں اس پر عتبہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام دیاکہ اپنے خاندان والوں کو ہم سے مقابلے کےلئے بھیجو۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان میں حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدالمطلب اورحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب کو مقابلے کے لیے ، نام لیکر بھیجا۔ انہوںنے جاکر عتبہ کو اپنے نام ونسب بتایا تو ان کی تسلی ہوئی ....پھرمسلمانوں اورکفارکے ان تینوں بہادروں کا باہم مقابلہ ہوا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جھپکتے میں اپنے دشمنوں کو ختم کردیا لیکن عتبہ اورحضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیرتک ایک دوسرے پر حملہ کرتے رہے اس دوران دونوں بری طرح زخمی ہوئے اورحضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عتبہ کو قتل کیا اورحضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی حالت میں خیمے میں لے کرآئے جب کفارکے یہ تینوں سورما مارے گئے تو انہیں خوب غصہ آیا کیوںکہ یہ ان کے سب سے زیادہ بہادر لوگ تھے.... انہوںنے غصے میں آکرمسلمانوں پرحملہ کردیا اوراس طرح عام جنگ شروع ہوئی ....جس میں مسلمانوں نے بہت بہادری سے مقابلہ کیا اورفتح حاصل کیں اورپھرکئی ایسے عوامل بھی تھے جو مسلمانوں کی فتح میں اہم ثابت ہوئے۔ 

۱۔ ایک ہزار کالشکر اللہ نے مسلمانوں کو تھوڑا دیکھایا اورکفارکو تین سو تیرہ کا ممجع بڑا کرکے دیکھایا ....یوں تھوڑے سے لشکر کودیکھ کر مسلمانوں کا حوصلہ بلند رہا اوروہ بے خوف لڑے جبکہ کفارکا معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ 
۲۔ اللہ نے مسلمانوں کی مدد فرشتوں کے ذریعے کی جیساکہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے پہلے ایک ہزار فرشتوں کو حضرت جبرائیل کے ہمراہ آسمان سے اترتے دیکھا تھا۔ جنگ کافیصلہ ہوچکا کم سامان جنگ ہونے کے باوجود مسلمانوں کو فتح ہوئی اورغرور کے مارے کفارکوبری شکست ہوئی ....ان کے اشراف کی جڑیں کٹ چکی تھی کچھ قتل ہوئے کچھ قید ہوئے اوربعض نے بھاگ کرجان بچائی۔

جس طرح تاریخ میں غزوہ بدر کی اہمیت وعظمت ہے ، اسی طرح صحابہ کرام میں بدری صحابہ کو بھی فضلیت حاصل ہے اورساتھ ہی ان فرشتوں کو بھی جنہوںنے غزوہ بدر کے موقع پر جبرائیل کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیا....عام فرشتوں پرفضلیت حاصل ہے۔ حضرت رافعرضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خدیج فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل، رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اورسوال فرمایا :”جو لوگ آپ میں سے جنگ بدر میں شریک ہوئے آپ کے نزدیک کس مرتبہ پرفائزہیں۔“ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ ہم میں بہترین درجہ کے حضرات ہیں۔“ تو حضرت جبرائیل نے فرمایا:”اسی طرح ہمارے ہاں بھی وہ فرشتے بہترین درجہ پرفائز ہیں (جوجنگ بدر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام کی مددکرنے کےلئے نازل ہوئے تھے)(سنن ابن ماجہ،صحیح بخاری)۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہفرماتے ہیں (جنگ بدر میں)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے داہنے میں حضرت جبرائیل ایک ہزار فرشتے لیکرنازل ہوئے اورحضرت مکائیل بھی ایک ہزار فرشتے لیکر نازل ہوئے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے بائیں، حضر ت اسرافیل ایک ہزار فرشتے لیکرنازل ہوئے۔“ اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ بدرمیں فرشتوں کی علامت سفید پگڑیاں تھیں ، جن کا کنارہ انہوںنے اپنی پشتوں پرچھوڑ ہواتھا اوران کے گھوڑے سیاہ اورسفید نشان کے تھے اوران کی پشانیوں اوردموں پر اون تھی(ابن جریر) یہاں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ سب سے پہلے اون جنگ بدر میں پہنی گئی کیونکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ” اون پہناکروکیونکہ(جنگ بدر) میں فرشتوں نے اون پہنی ہے اوراسی طرح فرشتوں کی ضرب کانشان بھی علیحدہ پہچان رکھتا تھا ۔ فرشتے جب کسی کافرکو ضرب لگاتے وہ جلے ہوئے کانشان چھوڑتا(ابن جریر)۔ مسلمانوں نے اسی طرح ضرب کے ذریعے پہچانا کہ کس کافر کو فرشتے نے ہلاک کیاہے۔

 واقعہ بدر کی عظمت اوراس کا تذکرہ قرآن پاک کی سورة انفال میں بھی آیا ہے اورحق وباطل کی یہ لڑائی اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ اس میں مسلمان صرف اپنے قوت ایمانی پرلڑے کہ جس نے ایک ہزار کے لشکر کو شکست دی اورمجاہدین کی قلیل تعداد اورکم سامان جنگ کے باوجود فتح عظیم حاصل ہوئی۔

آج جب لادین عناصر کھلم کھلا دشمنی پر اترآئے ہیں تو ہمیں اس تنگی اورعظیم امر سے سوائے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے اورکوئی چیز نہیں نکال سکتی۔
 ”اے اللہ ! ہمارے سامنے حق کو ظاہر کراوراس کی اتباع کی توفیق عطا فرما اورباطل کو باطل ظاہر کراوراس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ “ آمین

غزوہ بدر کا پیغام


غزوہ بدر کا پیغام

غزوہ بدر کا پیغام :  17رمضان المبارک 2ھجری وہ دن ہے جب کفرواسلام کا پہلا معرکہ پیش آیاتھا۔بدرکا میدان اس معرکہ میں اہل ایمان کی کامیابی اور اہل کفرکی شکست فاش کا گواہ ہے۔یہ وہ دن ہے جب اپنی ”عددی اکثریت“ ، ”اسلحہ کی فراوانی “ اور ”مادی وسائل سے مالامال“ ہونے کے غرور میں کفار نے یہ سوچا کہ وہ یثرب کی چھوٹی سی بستی جو کہ اب مدینة النبی بن گئی ہے اس پر چڑھائی کرکے اسلام کے چراغ کو گل کردیاجائے تاکہ جہالت کی تاریکی کبھی دورنہ ہو اور دنیاایمان کی روشنی سے منور نہ ہونے پائے۔ لیکن بقول شاعر
نورِ خدا ہے کفرکی حرکت پہ خندہ زن۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایانہ جائے گا۔

معرکہ بدر تاریخی واقعہ ہے جس کو مورخ کسی بھی طور نظراندازنہیںکرسکتا۔ایسا معرکہ جس میں اسلام نے کفر کو،اقلیت نے اکثریت کو ،اورایمان نے اسلحہ کو شکست دیدی تھی۔غورکیجئے کہ ایک طرف 1000کا طاقتور لشکر ہے۔ جس کے پاس مکمل اسلحہ ،مادی وسائل،تھے اور ساتھ ہی مختلف قبائل کااتحاد بھی تھا۔اس کے برعکس دوسری جانب اہل ایمان کے لشکر میں محض313جانثارتھے۔ یہ لشکر بے سروسامانی کی حالت میں تھا۔فاقہ کشوںکے اس لشکرکے پاس مکمل سامان حرب بھی نہیں تھا۔ 313کے لشکر میں صرف دو گھوڑے تھے اور ستّراونٹ تھے جن پر تمام لشکری باری باری سواری کرتے تھے۔ لیکن اس لشکرکے پاس ایمان کی طاقت تھی اور سینوں میں سرفروشی کاجذبہ موجزن تھا۔

جنگ شروع ہونے قبل رات کو اہل کفار کے لشکر میں ہنگامہ ہاﺅہوتھا،عیش ونشاط کی محفلیں تھیں، راگ رنگ ناچ گانا ہورہاتھا ۔اوردوسری جانب اللہ کے نبیﷺ اللہ کے دربار میں سرکو جھکائے ہوئے ہیں اورنہایت عاجزی سے دعائیں مانگ رہے ہیں اورآپﷺ کی چادرآپکے کندھوںسے ڈھلک ڈھلک جاتی تھی،یار غار اوررفیق سفر حضرت ابوبکرؓ باربار اس چادرکو درست کررہے ہیں۔ پیارے نبیﷺ نے اللہ تعالی کے دربارمیں دعاکی کہ”اے خدا! یہ قریش سامان ِغرورکے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھوٹاثابت کریں۔ اے اللہ اب تیری وہ مددآجائے جس کا تونے مجھ سے وعدہ فرمایا۔اے اللہ! اگرآج یہ مٹھی بھرجماعت بھی ہلاک ہوگئی توپھرروئے زمین پرتیری عبادت کہیں نہیں ہوگی“ اور پھراللہ تعالیٰ نے اس جنگ میںاہل ایمان کی غیب سے مددکی قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوںکو مسلمانوں کی نصرت کے لئے بھیجا۔سورہ انفال میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے۔”اور وہ موقع جب تم اپنے رب سے فریادکررہے تھے جواب میں اس نے فرمایاکہ میں تمہاری مدد کے لئے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں،یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لئے بتادی کہ تمہیں خوشخبری ہواور تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں،ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔یقیناً اللہ زبردست اوردانا ہے( سورہ الانفال آیت 9-10 )

جب جنگ شروع ہوئی توکفارکے سرغرور سے تنے ہوئے تھے اور اکڑتے ہوئے چلتے تھے انکا خیال تھا کہ محض ایک زورکا جھٹکا لگے گا اورمدینہ کی نوزائیدہ ریاست زمین بوس ہوجائے گی اور اسلام کا نام ونشان مٹ جائے گا (نعوذ باللہ )لیکن جب جنگ کا اختتام ہواتو غرور سے تنے ہوئے سرندامت سے جھکے ہوئے تھے،تکبر سے اٹھتے قدموں کے بجائے مرے مرے قدم تھے اورطاقتور جسم یا توخاک میں مل چکے تھے یا زخم خوردہ ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے غرورکوتوڑکر رکھ دیا،اس غزوہ میں 14مسلمان شہید ہوئے جبکہ کفار کے 70 افراد ہلاک ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لئے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں مکہ کے کئی سرداراور بااثرافراد بھی تھے جن میں سرفہرست ابوجہل ہے جو کہ دوکم عمرصحابہ کرام حضرت معاذؓ اور حضرت معوذ ؓ کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا۔اس کے علاوہ عتبہ بن ربیعہ،شیبہ،ولید بن عتبہ،امیہ بن خلف جیسے مشہور سرداران قریش بھی اس جنگ میں کام آئے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار

غزوہ بدر میں اللہ اہل ایمان کو رہتی دنیا تک کے لئے ایک سبق دیدیا کہ اگر دلوں میںکامل ایمان ہو،دین پر مرمٹنے کا جذبہ ہو،اوراللہ پرتوکل ہوتوباطل کی بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ عددی اکثریت اور مادی وسائل کی کمی کے باوجود اہل ایمان ہی کامیاب ہونگے ۔اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔9ھجری میں ہونے والا غزوہ تبوک اس کی واضح مثال ہے جب رومیوں کے ایک لاکھ کے لشکر کے مقابلے پر تیس ہزار مسلمان تھے ،دیکھا جائے تو یہاںبھی غزوہ بدر کی طرح ایک اور سات کی نسبت تھی لیکن جب مسلمانوںنے اللہ پر توکل کیا،جذبہ جہاد سے سرشار ہوکر اپنی دنیاوی مال ومتاع اور کھیتی و فصلوںکو اللہ کی راہ میں چھوڑ دیا اور دین پر جان لٹانے کا عزم کیا تو اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور وقت کی ”سپر پاور“روم کو مقابلے پر آنے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔مسلمانوں کا لشکر مدینہ سے نکل کر تبوک کے میدان میں خیمہ زن ہوگیا اور دشمن کا انتظار کرتا رہا لیکن اللہ نے” سپر پاور“کے دل میں مسلمانوں کا ایسا خوف بٹھا دیا کہ لشکر کو مقابلے پر آنے کی ہمت ہی نہیںہوئی۔البتہ یہاں نام نہاد مسلمانوں درحقیقت منافقین کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا۔منافقین نے نہ صرف یہ کہ خود اس جہاد میں حصہ نہیں لیا بلکہ دیگر مسلمانوں کا حوصلہ بھی توڑنے کی کوشش کی ۔ان کو ڈرایا کہ روم جیسی طاقت سے ٹکرلینا کسی کے بس کی بات نہیں اس لئے جہاد پر جانے کے بجائے اپنے گھروالوں کی فکر کی جائے۔ کچھ کا خیال تھا کہ یہ وقت ایسا ہے کہ کھجوریں پک گئیں ہیں اور اگر ان کو چھوڑ دیا گیا تو نقصان ہوگا اور ہماری معیشت تباہ ہوجائے گی،ہم بھوکے مرجائیں گے۔وغیرہ وغیرہ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح یاب کیا اور منافقین کی ساری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا۔لیکن دوستو کیا آج بھی یہی صورتحال نہیں ہے

زیادہ دورکیوں جائیں ابھی ماضی قریب میں بھی وقت کی ایک ”سپر پاور“ روس نے طاقت کے نشے میں افغانستان میں لشکر کشی کردی۔ اس وقت بھی اللہ پر توکل کرنے والے میدان عمل میں نکل آئے قرآن کی اس آیت کی تفسیر بن کر کہ ”نکلو اللہ کی راہ میں خواہ ہلکے ہو یا بوجھل “اس لئے سچے اہل ایمان دستیاب وسائل کے ساتھ مقابلے پرکھڑے ہوگئے۔ اس وقت بھی نام نہاد مسلمانوں درحقیقت منافقین نے نہ صرف یہ کہ خود جہاد میں حصہ نہیں لیا بلکہ دیگر لوگوں کا حوصلہ توڑنے کی بھی کوشش کی۔کہا گیا کہ کہاں سپر پاور روس اورکہاں یہ خستہ حال افغان، ان کا اور روس کا توکوئی جوڑ ہی نہیںہے۔ شکست ان کا مقدر ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ مقابلے کے بجائے روس سے شکست مان لی جائے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ سفید ریچھ (روس) جس ملک میں داخل ہوا وہاں سے کبھی نہیں نکلا بلاوجہ اپنی جان کو جوکھوں میںنہ ڈالو۔ لیکن میرے رب نے ایک بار پھر اقلیت کو اکثریت پر فتح دی۔ ایک بار بھر اہل کفار کو شکست اور اہل ایمان کو فتح نصیب ہوئی۔ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ان عقلیت پرستوں ،روشن خیالوں نے روس کی اس شکست کا ایک جواز تراش کر مجاہدین کے کارنامے کو دھندلانے کی کوشش کی۔کہاگیاکہ آئی ایس آئی نے مجاہدین کو سپورٹ کیا اور امریکہ نے مجاہدین کا ساتھ دیا اس لئے روس کو شکست ہوئی وگرنہ مجاہدین کوکبھی کامیابی نہیں ملتی۔
اس کے محض گیارہ بارہ سال بعد ہی اللہ نے ایک بار پھر سچے اہل ایمان کی مدد کی ۔ ایک بار پھر افغانستان میدان جنگ بنا۔اوراس بارسپر پاورامریکہ اپنے 22 اتحادیوں سمیت مجاہدین کے مقابلے پرتھا۔ اس بارآئی ایس آئی یا پاکستانی فوج بھی مجاہدین کی پشت پر نہ تھی۔اپنی خستہ حالی اوربے سروسامانی کے باوجود اہل ایمان مقابلے پر ڈٹ گئے ۔اس بار بھی روشن خیالوں ۔عقل پرستوں کا گروہ مجاہدین کو دیوانہ کہہ رہا تھا۔ اس بار بھی روشن خیال مفکرین دنیا کو یہ باور کرا رہے تھے کہ ”اگر امریکہ سے ٹکر لی تو وہ ہمیں پتھر کے دور میں بھیج دے گا“ امریکہ سپر پاور ہے،ایٹمی طاقت ہے،اس کے ساتھ اتحادی ہیں ہم اس سے ٹکر نہیں لے سکتے اس لئے بہتر یہی ہے کہ امریکہ سے جنگ کرنے کے بجائے شکست تسلیم کرلی جائے اور امریکہ کے آگے جھک جائیں “ لیکن !

لیکن میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔ جو کیفیت غزوہ بدر وتبوک میں تھی وہی کیفیت یہاں بھی تھی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہی امریکہ جس نے افغانستان میں فوج کشی کے وقت ”صلیبی جنگ “ کا نعرہ بلند کیا اور مجاہدین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا،جب غیر انسانی سلوک پر احتجاج کیا گیا تو امریکہ نے رعونت سے کہا تھا کہ ہ انسان ہی نہیں ہیں بلکہ وحشی درندے ہیں ان پر انسانی قوانین لاگو نہیں ہوتے “ وہی امریکہ آج مجاہدین سے مذاکرات کررہا ہے۔ آج اس کے اتحادی بددل ہیں۔فوج شکست خوردہ ہے،امریکہ مجاہدین سے باعزت واپسی کا راستہ مانگ رہا۔وہ لوگ جنہیں انسان ہی نہیں سمجھا گیا تھا آج ان کو حکومت میں شامل کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
دنیا کو قرضے اور امداد دینے والے امریکہ کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔آج اس کی کریڈٹ ریٹنگ کم ہوتی جارہی ہے ۔آج امریکہ کے آمدنی اور قرضوں کا حجم برابر ہوگیا ہے یعنی اس کی جتنی بھی آمدنی ہے وہ اس کے قرضوں کی ادائیگی میں ختم ہوجائےگی اور اس کو اپنی معیشت کو چلانے کے لئے مزید قرضے لینے ہونگے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار!یاد کیجئے ماضی قریب میں جب روس نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی تو گیارہ سال کی جنگ میںاس کی فوج کو بعد میں شکست ہوئی تھی اس کی معیشت پہلے تباہ ہوئی تھی،لوگ معاشی طور پر تباہ ہوگئے تھے،بیروزگاری بڑھ گئی تھی۔ بھوک کا یہ حال تھا کہ لوگ پھپوندی لگی ڈبل روٹی کے لئے بھی بیکری کے سامنے قطاروں میں کھڑے ہوتے تھے۔آج امریکہ بھی اسی انجام سے دوچار ہونے والا ہے۔یہ وقت کس کی عونت پہ خاک ڈال گیا۔ یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔
ایسا کیوں ہوا؟ پہلے روس اور اب امریکہ کو شکست کیوں ہورہی ہے؟ وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ مجاہدین نے دنیا کے دھوکے میں آنے کے بجائے اللہ پر توکل کیا،جذبہ جہاد کو زندہ کیا اور دین پر مرمٹنے کا عزم کیا تو اللہ نے فتح ان کی جھولی میں ڈال دی۔دراصل غزوہ بدر میں ہمارے لئے یہی سبق ہے کہ مادی وسائل اور دشمن کی عددی برتری کے باوجود اگر مسلمان اللہ پر توکل کریں تو فتح ان کی ہی ہوگی

فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو — اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی