Test Footer 2

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

19 April 2012

پرچے اور تماشے

پرچے اور تماشے

آج کل میں اپنے آفس بوائے کو چوتھی دفعہ میٹرک کروا رہا ہوں اور یقین کامل ہے کہ یہ سلسلہ مزید پانچ چھ سال تک جاری رہے گا، ہر دفعہ وہ پوری تیاری سے پیپر دیتا ہے اور بفضل خدا، امتیازی نمبروں سے فیل ہوتا ہے- اس دفعہ بھی پیپرز میں وہ جو کچھ لکھ آیا ہے وہ یقینا تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا- اسلامیات کے پرچے میں سوال آیا کہ ”مسلمان کی تعریف کریں؟“ موصوف نے جواب لکھا کہ مسلمان بہت اچھا ہوتا ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، وہ ہوتا ہی تعریف کے قابل ہے، اس کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے، جو اس کی تعریف نہیں کرتا وہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے، میں بھی اٹھتے بیٹھتے ہر وقت اس کی تعریف کرتا رہتا ہوں، مسلمان کی تعریف کرنے سے بڑا ثواب ملتا ہے، ہم سب کو ہر وقت مسلمان کی تعریف کرتے رہنا چاہیے “-

اسی طرح مطالعہ پاکستان المعروف”معاشرتی علوم“ کے پرچے میں سوال آیا کہ پاکستان کی سرحدیں کس کس ملک کے ساتھ لگتی ہیں، موصوف نے پورے اعتماد کے ساتھ لکھا کہ ”پاکستان کے شمال میں امریکہ، مشرق میں افریقہ، مغرب میں دبئی اور جنوب میں انگلستان لگتا ہے“-

سائنس کے پرچے میں سوال تھا کہ ”الیکٹران اور پروٹان میں کیا فرق ہے؟“ عالی مرتبت نے پورے یقین کے ساتھ جواب لکھا کہ ”کچھ زیادہ فرق نہیں، سائنسدانوں کو دونوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے“-


اردو کے پرچے میں ساغر صدیقی کے اس شعر کی تشریح پوچھی گئی ”زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے……جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں“- جواب میں لکھا ”اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ویسے تو میں نے بہت سے جرم کیے تھے، چوری بھی کی، ڈاکا بھی ڈالا، دہشت گردی بھی کی، لڑکیوں کو بھی چھیڑا، دو تین بندے بھی قتل کیے، لیکن یہ جو مجھے جج صاحب نے سزا دی ہے اس کا مجھے بالکل بھی پتا نہیں چل رہا کہ یہ کون سے والے جرم کی سزا ہے؟


انگلش کے پرچے میں سوال تھا کہ اس جملے کی انگلش بنائیں ”جاؤ میرا سر مت کھاؤ“- جواب لکھا  “Go, do not eat my head”-

مجھے بےاختیار اپنا میٹرک کا زمانہ یاد آ گیا جب ڈیٹ شیٹ گوند لگا کر الماری کے ساتھ چپکا دی جاتی تھی اور ایک کونے میں بیٹھ کر کتابوں کے درمیان ”عمران سیریز“رکھ کر پورے خشوع و خضوع کے ساتھ دن رات پڑھائی شروع کر دی جاتی تھی، ماں صدقے واری جاتی تھی کہ میرا بچہ تین گھنٹے سے مسلسل پڑھ رہا ہے- پانی تک پینے کے لیے نہیں اٹھا- صبح پیپر دینے کے لیے اٹھتے تھے تو دل کانپ جاتا تھا، تا ہم ایسے مواقع پر ماں جی سورہ یٰسین پڑھ کر پھونک دیا کرتی تھیں اور دل مطمئن جو جاتا تھا کہ اب کوئی مسئلہ نہیں- گھر سے نکلنے سے پہلے امتحانی گتے کے ہمراہ کافی سارے پین اور روشنائی کی شیشی ہمراہ رکھ لی جاتی تھی مبادا پرچے کے دوران یہ سارے پین ختم ہو جائیں- امتحانی مرکز میں پہنچتےہی کوئی کمینہ سا لڑکا اچانک یہ کہہ کر”تراہ“ نکال دیتا تھا کہ ”فلاں سوال آ رہا ہے“- یہ سنتے بھی ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے اور جلدی سے کسی لڑکے سے کتاب پکڑ کر ”فلاں سوال“پر ایک نظر ڈال لی جاتی تھی کہ کچھ نہ کچھ تو ذہن میں رہ جائے- پیپر شروع ہوتا اور جونہی سوالیہ پرچہ سامنے آتا فوراًالٹا کر کے رکھ لیا جاتا تھا، پہلے تین چار سورتیں پڑھ کے دعائیں مانگی جاتی تھیں، پھر پرچے کو آہستہ آہستہ الٹ کر دیکھا جاتا تھا، سوال مرضی کے ہوتے تو ٹھیک ورنہ جواب مرضی کے لکھنا پڑ جاتے تھے- جس سوال کا جواب دینا ہوتا تھا اس پر پین سے نشان لگا دیا جاتا، سب سے پہلے مارکر سے حاشیے لگائے جاتے، پھر سرخ مارکر سے سوال لکھ کر جواب کا رخ کیا جاتا، کوشش کی جاتی کہ جو سوال پوچھا جا رہا ہے وہ جواب کے شروع میں تفصیلاً دہرا دیا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ صفحہ بھرا جا سکے، مثلاً اگر سوال ہوتا کہ ”قائداعظم کے چودہ نکات بیان کریں“تو جواب کچھ یوں شروع کیا جاتا

جیسا کہ سوال میں پوچھا گیا ہے کہ قائداعظم کے چودہ نکات بیان کریں تو یہ چودہ نکات تفصیل سے بیان کیے جا رہے ہیں کیونکہ ان چودہ نکات کی بڑی اہمیت ہے، لہذا قائداعظم کے چودہ نکات باری باری درج کیے جا رہے ہیں، سوال میں پوچھے گئے قائداعظم کے چودہ نکات کا پہلا نکتہ یہ ہے….. “

ایسے میں پرچہ شروع ہوئے بمشکل آدھا گھنٹہ ہی گزرتا تھا کہ کونے سے کسی لڑکے کی آواز آتی ”سر ایک شیٹ دے دیں“- اور دل اچھل کر حلق میں آ جاتا تھا، سمجھ نہیں آتی تھی کہ کمبخت نے آدھے گھنٹے میں ایسا کیا لکھ لیا ہے کہ آٹھ صفحے بھر گئے ہیں، ایسے لڑکے پرچے کے بعد فخر سے بتایا کرتے تھے کہ وہ دس شیٹیں ایکسٹرا لگا کر آئے ہیں، میری حسرت ہی رہی کہ کاش میں کم از کم ایک شیٹ ہی ایکسٹرا لگا سکوں، لیکن ایسی نوبت کبھی نہ آ سکی، الٹا جب میں پرچہ ختم کرتا تو ایک صفحہ خالی رہ جاتا-

پرچہ شروع ہونے کے مراحل بھی بڑے دلچسپ ہوا کرتے تھے، جیسے ہی سوالیہ پرچہ تقسیم ہو جاتا، قرب و جوار کے لڑکوں میں سر گوشیاں شروع ہو جاتیں، سب کا ایک دوسرے سے ایک ہی سوال ہوتا تھا ”یار! صرف پہلا لفظ بتا دو“- کسی لڑکے کو اگر اتفاق سے سارے سوالوں کے جوابات یاد ہوتے تو وہ”فرعون“ بن جاتا تھا، اس کا سگا بھائی بھی اس کی منتیں کرتا تو اس کی ایک نہ سنتا بلکہ شان بے نیازی سے کندھے اچکا کر رہ جاتا، بلکہ کئی دفعہ تو نگران کو بھی کہہ دیتا کہ سر! ”یہ دیکھیں یہ مجھے تنگ کر رہا ہے“-

پیپر کے دوران ”بوٹیاں“ لگانے کا رواج عام تھا تاہم اس دور میں بڑی ”دیسی“ قسم کی بوٹی لگائی جاتی تھی، مثلاً باتھ روم میں کتاب رکھ دی اور بعد میں ہر دو منٹ بعد ایک پھیرا لگا آئے، یا قمیض کی اندر والی سائیڈ پر کچی پنسل سے کچھ ”نوٹس“ لکھ لیے، کچھ بے باک لڑکے کاغذوں کی چٹیں بھی چھپا کر لے آتے تھے- میرا ایک دوست ایک دفعہ اسی طرح چٹ سے نقل لگاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، لیکن اول درجے کا ہوشیار تھا، اس سے پہلے کہ نگران ثبوت کے طور پر اس سے چٹ چھینتا، اس نے جلدی سے کاغذ کا گولا بنایا اور منہ میں ڈال کر نگل لیا، نگران منہ پھاڑے دیکھتا ہی رہ گیا- سب سے دلچسپ پیپر ریاضی کا ہوتا تھا، سوال بیشک کسی کو نہ آتے ہوں، لیکن سب اپنے جواب ضرور ملا لیا کرتے تھے، اس مقصد کے لیے کلاس کے سب سے ہونہار لڑکے سے سرگوشی میں پوچھا جاتا تھا کہ جواب کیا آیا ہے؟ اگر وہ کہتا کہ 56، تو تھوڑی دیر میں سب کے پرچوں پر 56 تحریر ہو چکا ہوتا تھا- جو لڑکا سب سے پہلے پرچہ ختم کر کے اٹھتا، اسے پکا پکا فیل تصور کر لیا جاتا تھا- مزے کی بات یہ کہ ایسے تمام تر جوابات لکھنے کے باوجود لڑکوں کی اکثریت 33 نمبر لے کر پاس ہو جاتی تھی کیونکہ الحمدللہ پیپر چیک کرنے والے بھی ہماری طرح کے ہوتے تھے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ ”گٹھیں“ ناپ کر نمبر دیتے ہیں- اللہ ان سب کی مغفرت کرے کہ انہی کی بدولت آج میرے جیسے بہت سے جاہل، عزت دار بنے ہوےٴ ہیں-

Qaisar o kasra





قیصر و کسریٰ
Qasir o kasra 
By
Naseem Hijazi

Complete DOWNLOAD


Download in parts

Part-1
 DOWNLOAD

LINK-2
 
Part-2

Part-3

Part-4




 
(¯`v´¯)
 `•.¸.•´`•.¸.¸¸.•*¨¨*•.¸¸❤`•.¸.¸¸.•*❤ ❤`•.¸.¸¸.•*❤
♥♥.....Join Us on facebook............. *• ♥♥♥♥♥♥
http://www.facebook.com/wakeup.muslimz

12 April 2012

bewaqoof kon

بیوقوف کون
 

دخل طفل صغير لمحل الحلاقة
بچہ نائی کی دکان میں داخل ہوتا ہے
فهمس الحلاق للزبون
حجام گاہک سے سرگوشی کرتا ہے
هذا أغبى طفل في العالم...إنتظر وأنا أثبت لك
''یہ دنیا کا بیوقوف ترین بچہ ہے دیکھو میں یہ ثابت کیے دیتا ہوں. 
وضع الحلاق دولارا بيد و 25 قرشا باليد الاخرى
حجام نے ایک ہاتھ پر ایک روپے کا نوٹ رکھا اور دوسرے ہاتھ پر 25 پیسے کا سکہ
نادى الولد وعرض عليه المبلغين
بچے کو آواز دی اور دونوں ہاتھ آگے کر دیئے
أخذ الولد ال 25 قرشا ومشى
بچے نے 25 پیسے لیے اور چل دیا
قال الحلاق
حجام کہنے لگا
وفي كل مرة يكرر نفس الامر
یہ ہر دفعہ ایسے ہی کرتا ہے
وعندما خرج الزبون من المحل
گاہک باہر نکلتا ہے
قابل الولد خارجاً من محل الآيس كريم
آیس کریم کی دکان کے پاس اُسے وہی بچہ ملتا ہے
ساله
وہ اس سے پوچھتا ہے
لماذا تأخذ ال25 قرشا كل مرة ولا تأخذ الدولار ؟؟؟
تم ہر دفعہ25 پیسے کیوں اٹھاتے ہو ، روپیہ کیوں نہیں اُٹھاتے
قال الولد
بچہ کہتا ہے
لانه فى اليوم الذي آخذ فيه الدولار سوف تنتهي اللعبة
وہ اس لیے کہ جس دن میں نے ایک روپے کا نوٹ اُٹھا لیا
اُس دن کھیل ختم


الغبي هو الذي يعتبر نفسه ذكي
بیوقوف وہ ہے جواپنے آپ کو زیادہ عقلمند جانے

11 April 2012

منی کی بدنامی سے شیلا کی جوانی تک

 

منی کی بدنامی سے شیلا کی جوانی تک


میرے ایک دوست فرمانے لگے کہ بھئی میرا بیٹا تو منی بدنا م ہوئی  کے گانے پر بہت اچھا ڈانس کرتا ہے۔ انہی کے برابر ایک اور صاحب بھی بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ” جناب اب تو یہ گانا پرانا ہوگیا ، میرا بیٹا تو شیلا کی جوانی پر تھرکتا ہے اور ہم سب اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں”۔ میں ان کی باتیں سن کر چپ نہ رہ سکا۔ میں نے کہا ” جناب اگر کل آپ کے بیٹے جوان ہو کر کسی اصلی شیلا اور حقیقی منی کی محفلوں میں تھرکتے نظر آئیں تو برا مت مانئے گا۔
 
اس وقت منی اور شیلا کے گانےہماری اکثریت کے علامتی ٹائٹل سونگز ہیں۔لوگ ان گانوں پر تھرکتے، ان طوائفوں کی عریانی سے آنکھیں سیکتے، شراب و سرور کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور فحش کلام سے محظوظ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن جب اس ماحول میں تربیت پا کر ان کی بہنیں منی بنتیں ، بیٹیاں شیلا کی جوانی میں ڈھلتیں اور لڑکے آوارہ عورتوں کو آئیڈیل بناتے ہیں تو یہی لوگ شور مچاتے ، روتے ، چلاتے ، ماحول کو بر ا کہتے اور مقدر کو کوستے دکھائی دیتے ہیں۔
 
اس مسئلے کے دو حل نظر آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ یا تو سوسائٹی میں اخلاقیات کو ختم کرکے ہر شخص کو عریاں، بے حیا اور بے اخلاق کردیا جائے تاکہ کسی کو اپنے ننگے پن کا احساس ہی نہ ہو۔ ظاہر ہے یہ حل تو مغرب میں بھی ممکن نہیں ہو پایا کیونکہ خدا کی بنائی ہوئی فطرت کو مسخ تو کیا جاسکتا ہے لیکن مٹایا نہیں جاسکتا۔دوسرا حل یہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور انفرادی و اجتماعی سطح پر کوششیں کی جائیں۔
 
اس مسئلے کو اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو بے اخلاقی اور بے راہ روی کے اسباب جاننا لازم ہے۔ سوسائٹی میں بے راہ روی کے کئی اسباب ہیں لیکن سب سے اہم پہلو میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلز کا ہے۔ آج کی تاریخ تک بیسیوں چینلز پاکستان میں اپنی خبریں، ڈرامے، فلمیں، گانے اور اسپورٹس کے پروگرام نشر کررہےہیں۔ ان تمام چینلز کا اثر معاشرے پر بہت زیادہ ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس وقت عملی طور پر قوم کی تربیت، ذہن سازی، ثقافت، طرز فکر غرض ہر اہم تربیتی پہلو ان چینلز ہی کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ ان کی بے راہ روی پوری قوم کو گمراہ کر سکتی ہے۔ا ن چینلز کی اخلاقیات کا جائزہ لینے کے لئے چند مثا لوں پر غو ر کرتے ہیں ۔
 
۱۔ پہلا مسئلہ ایڈورٹز مینٹ یعنی اشتہارات کا ہے۔ منافع کمانے کی تگ و دومیں کمپنیز کسی بھی حد تک جانے پر تلی ہوئی ہیں۔ چنانچہ نوجوان لڑکے اورلڑکی کو ساری رات بات کرنے پر ترغیب ، عریانی کا غیر محسوس طریقے سے فروغ ، فحش گفتگو کی روزمرہ میں شمولیت ، جھوٹ اور لفاظی سے اشیاء کی فروخت اور مادہ پرستانہ سوچ کا ملبوسات اور دیگر ذرائع رواج وہ چند منفی پہلو ہیں جو اخلاق باختہ اشتہار بازی سے جنم لیتے ہیں ۔
 
۲۔ دوسرا پہلو ٹی وی ڈرامے اور فلمیں ہیں۔ آج پاکستانی ڈرامے کسی طور انڈیا کے غیر اخلاقی پروگراموں سے پیچھے نہیں ۔ ان ڈراموں میں طوائفوں کی سرگرمیوں ،شادی شدہ افراد کے خفیہ معاشقوں اور نوجوانوں کی ناآسودہ خواہشات کا پرچار کرکے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہر دوسر ے گھر میں یہی سب کچھ ہورہا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ مادہ پرستی، جھوٹ، بد دیانتی، جرائم اور جنسیات کو ایک مختصر لباس میں پیش کردیا جاتا ہےتاکہ دیکھنے والے خود ہی اس جامے کو چاک کرکے عریانیت سے ملبوس ہوجائیں ۔
 
۳۔موسیقی کے چینلز تو آرٹ کے نام پر کسی بھی حد سے گذرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ چنانچہ بے ہنگم طور پر تھرکتے ہوئے لڑکے اور لڑکیاں ایک طرف تو مایوسی ، افسردگی اور بے ترتیبی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب وہ اس سے چھٹکارہ پانے کےلئے کپڑوں کو مختصر کرتے، اچھل کود سے مصنوعی ولولہ پیدا کرتے اور شہوانی جذبات جو برانگیختہ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ موسیقی اور بے ہودہ شاعری کے ذریعے ہر شہوانی جذبے کو محبت کے نام سے منسوب کیا جاتا اور غلاظت پر پردہ ڈالنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
 
۴۔ سب سے اہم پہلو رول ماڈل کی پیروی کرنا ہے۔ میڈیا گلوکاروں، اداکاروں، کھلاڑیوں اور اینکرز کو غیر ضروری طور پر فرش سے عرش تک پہنچاتا ہے۔ چنانچہ لوگوں کے آئڈیل مختصر لباس والی اداکارائیں، وجیہہ شکل کے فنکار، مادیت میں لتھڑے ہوئے گلوکار اور تعلیم و تربیت سے عاری کھلاڑی ہوتے ہیں ۔ ان سب لوگوں کی حیثیت ماضی میں بندر کا ناچ دکھا کر محظوظ کرنے والے مداری سے زیادہ نہیں ہوتی تھی ۔ لیکن آج پوسٹ ماڈرنزم کی بنا پر یہ لوگوں کے رول ماڈل بن جاتے ہیں ۔ اس طرح سائینس دان ، فلسفی، اساتذہ ، مفکرین اور دیگر سنجیدہ اور تعمیری طبقے پس پشت چلے جاتے اور سرخی پائوڈر سے مزین جدید بھانڈ نوجوانوں کی منزل بن جاتے ہیں۔
 
اس بحث سے یہ نتیجہ نکلا کہ یہ چینلز قوم کی اخلاقی تربیت میں ناکام دکھائی دیتے بلکہ مزید اخلاقی انحطاط کا سبب بنتے نظر آتے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب ایک تو یہ ہے کہ ان چینلز کے مالکان کا بنیاد مقصد منافع میں اضافہ کرنا ہے نا کہ اخلاقیات کا درس دینا دوسری وجہ ٹی وی کے ذمہ داروں کی اپنی تربیت نہ ہونا شامل ہیں۔
 
ان مسائل کے حل پر اگر غور کیا جائے تو درج ذیل ہدایات پر عمل کرنا لازمی نظر آتا ہے ۔
 
۱۔انفرادی طور پر ہم سب کو چاہئے کہ برائی کو برائی سمجھیں ۔ دقیانوسیت اور اخلاقی اقدار میں تفریق کریں۔گناہ کا سبب بننے والے گانوں ، مناظر، فلموں اور گفتگو سے اسی طرح نفرت کریں جیسے بدن پر لگنے والی کیچڑ سے کرتے ہیں۔
 
۲۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط اور کمی کریں۔ نیز خود کو اور اپنی اولاد کو برائی سے محفوظ رکھنے کے لئے ٹی وی یا کمپیوٹر کو بیڈ روم سے نکال کر لائونج یا کسی مناسب جگہ پر رکھا جائے تاکہ ہر آنے جانے والا دیکھتا رہے کہ کیا دیکھا جارہا ہے۔
 
۳۔ اجتماعی سطح پر حکومت کے ذریعے سنسر بورڈ بنایا جائے جس کے ممبران کم علم دینی علماء کی بجائے پڑھے لکھے مذہبی اور سوشل اسکالرز ہوں۔
 
۴۔ اجتماعی سطح پر ٹی وی کے حکام یہ فیصلہ کریں کہ وہ کوئی ایسا اشتہار یا پروگرام نشر نہیں کریں گے جو اخلاقی بگاڑ کا باعث بنے۔
 
۵۔ انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر تہیہ کرلیں کہ آج سے کسی بھی ایسے پروگرام ،گفتگو، تفریح یا محفل کا حصہ نہیں بننا جو غیر اخلاقی ہو اور جس سے اللہ کی ناراضگی کا خدشہ ہو۔



(¯`v´¯) 
`•.¸.•´`•.¸.¸¸.•*¨¨*•.¸¸❤`•.¸.¸¸.•*❤ ❤`•.¸.¸¸.•*❤
 ♥♥.....Join Us on facebook............. *• ♥♥♥♥♥♥ 
Munni ki badnamis e shela ki jawani tak
professor aqeel

تاتاری حملہ اور علماءِ بغداد کے مناظرے



تاتاری حملہ اور علماءِ بغداد کے مناظرے


بات کچھ اسطرح ہے کہ مجھے بچپن سے ہی پڑھنے کا بڑا شوق تھا جو اب صرف کتابیں جمع کرنے تک ہی رہ گیا ہے ، میرا ایک دوست کہتا ہے کہ جیسے مردوں سے چھپانے کے لیے عورتوں کو برقع پہنایا جاتا ہے ایسے ہی انکل ٹام سے چھپانے کے لیے کتابوں کو برقع پہنا دو ، مجھے یاد ہے کسی اخبار میں ہر بدھ یا جمعرات کو ایک بچوں کا صفحہ آیا کرتا تھا ، اور جب ابو گھر آتے تھے جاب سے تو میں بھاگا بھاگا ابو کی طرف جاتا تھا ، او جی ابو سے جپھی ڈالنے نہیں بلکہ وہ صفحہ لینے کیونکہ ابو وہ صفحہ لایا کرتے تھے ، ایک دفعہ میں نے اُس صفحے میں آنے والی پہیلی کا جواب بھی بھیجا تھا ، اور ایک دفعہ ان لوگوں نے میرا نام بھی چھاپ دیا تھا کسی وجہ سے جو کہ اب یاد نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ خیر کچھ عرصہ بعد پتا نہیں کیا وجہ بنی کہ ابو نے وہ صفحہ لانا بند کر دیا ۔  مجھے یاد ہے اتوار کو جب ہفتے کی سبزی وغیرہ خریدنے جاتے تھے تو اپنے بھائیوں کے برخلاف میں کھلونا خریدنے کی بجائے ٹھیلے سے ملنے والی ایک روپے کی ٹارزن کہانی خرید کر خوش ہوا کرتا تھا جو گھر تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی تھی ۔

ہمارے ہمسائے میں بچوں کا ایک مہنامہ آیا کرتا تھا شاید تعلیم و تربیت  تو انسے اُدھار لے کر وہ بھی پڑھا کرتے تھے ، پھر کچھ عرصہ بعد امی نے وہ گھر بھی لگوا دیا تھا ، پھر کچھ عرصہ بعد چھڑوا دیا ، تو میرا محلے کا ایک دوست تھا میں اور وہ مل کر  خریدا کرتے تھے۔ پھر بچوں کا اسلام شروع ہوا تو ساتھ میں وہ بھی آنے لگا ۔ ہائی سکول میں میری کلاس کا ایک لڑکا عمران سیریز پڑھا کرتا تھا ، اُدھار میں اُس سے لے کر عمران سیریز بھی پڑھی ۔ میں نے کینیڈا میں آکر یہاں دوسرے بہت سے مصنفین کو بھی پڑھا ہے کے ہمارے گھر کے پاس ایک بڑی لائبریری ہے جس میں اُردو کی کتابوں کا (میرے نزدیک تو  نہیں، لیکن خیر ) ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔

نانی اماں کے گھر ایک کمرے میں ماموں کی کتابیں ہوا کرتی تھیں ، وہاں سے بھی بہت سی اُٹھا کر پڑھی ہیں ، طارق اسماعیل ساگر، نسیم حجازی ،  وغیرہ وغیرہ کی کتابیں بھی پڑھی ہیں  ۔ بلکہ  میں جب نانی اماں کے گھر جاتا تھا تو نانی اماں کتابیں چھپا دیتی تھیں ، کیونکہ اُنکے نزدیک یہ کتابیں میری عمر سے کہیں زیادہ بڑی تھیں ، بلکہ داستان ایمان فروشوں کی نامی ناول کو پڑھنے کے لیے میڑک پاس ہونے کی شرط عائد کی گئی تھی ۔ میرے پڑھنے کی رفتار کافی حد تک اچھی ہو گئی تھی ، ایک دفعہ میں نانی اماں کے گھر گیا تو وہاں نسیم حجازی کا ایک نیا ناول دیکھنے کو ملا ، اور میں پڑھنے بیٹھ گیا ، رات کو ماموں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر کے اندر داخل ہو رہے تھے جب میں اُسکو رکھنے جا رہا تھا، ماموں نے مجھ سے پوچھا پڑھ لیا ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا ، انہوں نے کافی حیرانگی سے دیکھ کر کہا کہ ابھی کل ہی تو لایا ہوں میں یہ اور میں نے تو خود پورا نی پڑھا ۔

یہ ساری کہانی سنانے کا مقصد یہ تھا کہ کیسے ایک انسان پر مختلف ادوار آتے ہیں کہ اُسکا مطالعہ کا درجہ بڑھتا جاتا ہے ، کبھی میں ٹارزن کو غیر انسانی مخلوقوں سے لڑتا دیکھا کرتا تھا ، جب میں نے عمران کو ایکس ٹُو کا کردار نبھاتے دیکھا تو مجھے ٹارزن کہانیوں پر ہنسی آنے لگی ، پھر میں طاہر بن یوسف کو بغداد کی جامع مسجد میں لوگوں کو جہاد کے لیے تیار کرنے کے لیے کی جانی والی پُرجوش تقاریر کرتے دیکھتا اور کبھی بدر بن مغیرہ کو ہسپانیہ کے جنگلوں میں گھوڑا دوڑاتے دیکھا کرتا تھا ۔
ایک دن میں انگلش کی کلاس میں بیٹھا موریس بوکائیے کی کتاب ، قرآن ، بائیبل اور سائنس کے انگریزی ترجمہ کا مطالعہ کر رہا تھا تو میرے پاس بیٹھی ایک لڑکی مجھ سے پوچھنے لگی کہ تم کتاب کا مقدمہ بھی پڑھتے ہو ؟ میں نے اُس کو کہا کہ پڑھنا پڑتا ہے میرے لیے کتاب کو سمجھنے کے لیے یہ کافی مددگار ہوتا ہے ۔ پھر میں نے اُسکو کتاب دکھائی تو اُسکو پتا چلا کہ یہ فکشن نہیں نان فکشن کتاب ہے ۔ اور اس وقت میرے پاس گھر میں جو کتابیں موجود ہیں ان میں سے ایک بھی فکشن نہیں ہے ، سب کی سب سو فیصد نان فکشن ہیں ۔
ہمارے ایک جاننے والے اپنی فیملی کے ساتھ گھر آئے تو میز پر علامہ عبدالرشید نعمانی کی دو کتابوں ۱۔ شہید کربلا پر افترا ۲۔ یزید کی شخصیت اہلسنت کی نظر میں ۔ بنام حادثہ کربلا کا پس منظر کے نام سے پڑا ہوا تھا ۔ انکل وہ اُٹھا کر دیکھنے لگے تو ابو نے اُنکو تنبیہ  کر دی کہ یہ آپکے پڑھنے کی کتاب نہیں ہے ، نہایت تحقیقی کتاب ہے جس میں کوئی کہانی نہیں ، ابو شاید اُسکو کسی وقت دیکھ چُکے تھے ، بہر حال انکل کو دو چار صفحے دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ یہ واقعی کوئی  ایسی چیز نہیں ہے جسکو پڑھنے میں وہ انٹرسٹڈ ہیں ۔تو نتیجہ یہ ہے کہ میرے پاس اُس قسم کی کتابیں موجود ہیں جنکوعام لوگ اپنی پہنچ سے دور رکھتے ہیں۔

اس وقت میری کتابوں کے ذخیرہ میں سوانحات میں حسین ھیکل کی حضرت عمرؓ پر لکھی ہوئی کتاب ، مولانا زکریاؒ کی آپ بیتی اور انکے شیخ مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کی تذکرۃ الخلیل ،  امام ابو حنیفہؒ پر عقود الجمان کا ایک اردو ار ایک انگریزی نسخہ اور حیات امام احمد بن حنبل از محمد ابو زھرہ  قابل ذکر ہیں ۔
علم الحدیث میں مولانا زکریاؒ کی تقریر بخاری ، امام بخاریؒ کی ادب المفرد بھی موجود ہیں ۔
فقہ پر اصول فقہ کی ایک کتاب خلاصۃ الحواشی شرح اصول الشاشی ، الصبح النوری شرح مختصر القدوری ، مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کی فتاویٰ خلیلہ،مولانارشید احمد گنگوہیؒ کی فتاویٰ رشیدیہ اور فتاویٰ عالمگیری کی چند جلدیں ہیں ۔

اسکے علاوہ منطق پر التسھیل الترتیب فی حلِ شرح التھذیب ہے اسکے علاوہ کچھ عرصہ پہلے علم التعبیر پر بھی دو کتابیں لے کر آیا ہوں جن میں سے ایک علامہ ابن سیرین کی اور دوسری شیخ عبدالغنی النابلسی کی ہے ۔ اسکے علاوہ دیگر کئی موضوعات پر مختلف کتب موجود ہیں  اور میری ہارڈ ڈرائیو میں موجود  ایک سو چھبیس جی بی کا خزانہ اس سے الگ ہے۔
تو  بات ہو رہی تھی فکشن کی اور میں یہ کہہ رھا تھا میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ نسیم حجازی ایک اچھا ناول نگار ہے اور اُسکی منظر نگاری کسی کی تعریف کی محتاج نہیں لیکن یہ خیالوں اور خوابوں کی دنیا ئیں ہیں ، اور ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہ سب کہانیاں ہیں اور کہانیوں میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ سب سچ نہیں ہوتا اور اکثر اُن میں سے کچھ بھی سچ نہیں ہوتا ۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لبرل مینڈک جو ہمیں ہی یہ طعنہ دیتے ہیں کہ ہم نے نوجوانی میں نسیم حجازی کے ناول پڑھے تھے جنکی محسور کر دینے والی منظر نگاری ہم اب تک اپنے دماغ سے نہیں نکال سکے خود نسیم حجازی کی کہانیوں کو نہ صرف سچ سمجھ بیٹھے ہیں بلکہ  ضرورت پڑنے پر اُسکو دلائل کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں، جی ہاں یہ ہی لوگ چھوٹی چھوٹی یونیورسٹیوں سے بڑی بڑی ڈگریاں لے کر اپنے آپ کو علامہ اعظم سمجھنے لگتے ہیں ، میں انہی چھوٹی ذہنیت والے بڑے لوگوں کی بات کر رہا ہوں ۔ جنکے ہاں مجلس میں شامل ہونے کا مدار آپکا علم،تحقیق اور تجربہ نہیں بلکہ آپکی عمر ہوتی ہے ۔

گو کہ لبرل مینڈک یہ سمجھتے ہیں کہ میرے جیسے نوجوان نسیم حجازی کے ناول پڑھ کر خود کو بدر بن مغیرہ کی طرح ہسپانیہ کے جنگلوں میں گھوڑے دوڑاتا اور طاہر بن یوسف کی طرح جلال الدین خوارزم شاہ کی فوج میں سالاری کر کے تاتاریوں سے جنگ کرنے کے خواب دیکھتے ہیں ۔


لیکن مجھے نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان لبرل مینڈکوں نے ہمیں شاید اپنے جیسا سمجھ رکھا ہے کہ جیسے اُنکی سوچ سطحی ہے ہماری بھی ویسی ہو گی ، مجھے نہایت افسوس کے ساتھ لبرل طبقے پر یہ راز فاش کرنا پڑتا ہے کہ ہم اپنی آغازِ نوجوانی میں پڑھے ہوئے ناولز کے ان موضوعات پر بحث کرتے ہیں کہ نسیم حجازی نے اپنے ناولز میں جو مسلمانون کے ہیرو دکھائے ہیں اور جسطرح اُنکی عشقیہ کہانیاں سنائی ہیں کہ کیسے ایک لڑکی طاہر بن یوسف کے ساتھ زندگی کی رفاقت نہ ملنے پر افسردگی کا شکار ہو جاتی ہے ، کیسے بدر بن مغیرہ جنگل سے نکل کر اپنی ربیعہ کو بچانے انگریز پادریوں کا روپ دھار لیتا ہے اور کیسے معظم علی جیسا سپاہی ’’فرحت ‘‘ کی تلاش میں ہندوستان کے جنگلوں اور صحراوں میں اک مجنوں کی طرح مارا مارا پھرتا ہے ، یہ سب کہانیاں نوجوان طبقے کے ذہن پر اپنے ہیرو ، اور آبا کے بارے میں کس قسم کا اثر پیدا کرتی ہیں ؟؟؟ گو کہ نسیم حجازی کی کتاب کے شروع میں ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کا انسپائریشن نوٹ ہوتا ہے لیکن اُسکے باوجود ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ آیا ان کہانیوں کا نوجوان نسل کو فائدہ ہو گا یا نقصان ؟؟  آیا کہ کچے اور ناپختہ ذہن ان کہانیوں کو پڑھ کر مسلمان معاشرے کے زوال اور اُسکی وجوہات پر غور کریں گے یا ان معاشقوں سے محظوظ ہوں گے ۔

میں شاید تیرہ یا چودہ سال کا تھا جب میں نے نسیم حجازی کے ناول ’’آخری چٹان‘‘ میں بغداد کے ہونے والے مناظروں کے بارے میں پڑھا تھا ، مجھے بھی بھی یاد ہے کس طرح طاہر بن یوسف جب نیا نیا بغداد جاتا ہے تو تب بھی وہاں پر مناظرے ہو رہے ہوتے ہیں اور جب تاتاری حملہ کر رہے ہوتے ہیں تب بھی بغداد کے علماء مناظرون میں مشغول ہوتے ہیں ۔  یہ میرا زندگی میں مناظروں سے پہلا تعارف تھا ، اس سے پہلے مجھے معلوم نہ تھا کہ مناظرے کیا ہوتے ہیں ، کیسے ہوتے ہیں اور کن کے مابین ہوتے ہیں ۔ یقیناً میرا امپریشن کچھ اچھا نہیں رہا تھا ۔ لیکن تاریخ اسلام پر بڑے بھائی کو تحفے میں ملنے والی وہ موٹی موٹی تین جلدیں اور اپنی کامن سینس استعمال کرنے کے بعد میں یہ جان چکا تھا کہ سب ویسا نہیں ہے جیسا بتایا گیا ہے ۔

جو بات میں اپنی ٹین ایج میں جان چکا تھا دو دو بچوں کے ماں باپ بننے کے بعد بھی ہمارے نام نہاد دانشور اور لبرلی مینڈک اس بات کو حقیقت ہی سمجھتے ہیں، گو کہ نسیم حجازی نے جو اُس وقت کے بغداد کی منظر کشی کی ہے اُسکو پڑھ کر ایسا ہی لگتا ہے جیسے وہ پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک کے موجودہ

حالات کے بارے میں لکھ رہا ہو ، مثال کے طور پر وزیر خارجہ کا دشمن کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنا، خلیفہ کا چاپلوس وزیروں کے زیر اثر رہنا اور اکثر اوقات محفل ناچ و گان سے محظوظ ہونا، حقیقی صورتِ حال دکھلانے والوں اور دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنے والے مولویوں (یہ یاد رکھیں کہ ناول کے مطابق طاہر بن یوسف کی تربیت نہ صرف ایک مولوی نے کی تھی بلکہ وہ خود بھی ایک مولوی تھا) کو نہ صرف دہشت گرد کہا گیا بلکہ اُنکی کوششوں کو روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی، اُنکی جاسوسی کر کے اُنکو جیلوں میں بند کیا گیا ، اُنکے ساتھیوں کو نوکری ، چھوکری اور مال کا لالچ دے کر خریدا گیا  ، اور ایک فرقے کے وزیر کا اپنے فرقے کی حکومت کے لیے تاتاریوں کو بغداد پر حملے کی دعوتِ عام دینا (پہلے انہوں نے تاتاریوں کا ساتھ دیا بغداد میں اب یہ ہی لوگ بغداد میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں) وغیرہ وغیرہ ۔ اگر آپ تھوڑا اور غور کریں تو آپ اور نکات بھی نکال سکتے ہیں۔

لیکن میرے نزدیک کچھ چیزیں ایسی بھی تھیں جو نہ صرف مکمل کہانیاں بلکہ میرے نزدیک وہ حقیقت سے ہٹی ہوئی تھیں اور اگر کتاب کا مقصد نوٹ چھاپنا اور نام کمانا نہیں تھا تو میرے نزدیک اُن باتوں کو کتاب مین شامل کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہ تھی ، میرے نزدیک بغداد میں مولویوں کے مناظروں کی منظر کشی بھی اُنہی میں سے ایک تھی ۔ تو میں نے پہلی دفعہ نسیم حجازی کے ناول میں پڑھا کہ بغداد میں علماء مناظرے کر رہے تھے ، اسی بات کو اپنے ایک بلاگی یار نے بھی اپنے بلاگ پر لکھ مارا تھا، جب میں نے کوئی معتبر حوالہ مانگا تو بجائے  جناب کوئی حوالہ دیتے انہوں نے میرے اُوپر ایک پوسٹ لکھ کر مجھے اچھی طرح لتاڑا ، پھر کچھ عرصہ پہلے کہیں پڑھا ، شاید کسی بلاگ میں ہی کہیں پڑھا ہو کہ بغداد میں ہونے والا آخری مناظرہ کوے کی حلت و حرمت کا تھا ، پھر کچھ دن پہلے جاوید چوہدری نے لکھ دیا کہ نہیں جی یہ مناظرہ تو مسواک کی لمبائی پر تھا کہ آیا یہ بالشت سے بڑی ہو یا چھوٹی ۔ آج ایک مجلس میں بیٹھا کچھ لوگوں کی گفتگو سن رہا تھا تو ایک صاحب شاید جاوید چودھری کا یہ ہی مضمون پڑھ کر آئے تھے کہ انہوں نے بھی یہ ہی مناظرے کی روئیداد سنا کر مولویوں کو لتاڑنا شروع کر دیا ، ان صاحب نے اپنی بات ختم کی تو دوسرے صاحب نے بھی مناظرے کی روئیداد میں سے مسواک کو ہٹا کر کوئے کو لگا دیا اور ویسے ہی مولویوں کو لتاڑنا شروع کر دیا ،  اور سبحان تیری قدرت کہ یہ سب لوگ اتنے اعتماد کے ساتھ اس مناظرے کی روئیداد سناتے ہیں جیسے یہ اُس وقت ’’اُکڑوں بیٹھ کر‘‘ مناظرہ نہایت غور سے دیکھ رہے تھے ۔
لیکن تجربہ، گہری نظر سے دیکھے جانے والے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ بات نوے فیصد مشکوک اور اعلیٰ درجے پر ناممکن قرار دیے جانے کے قابل ہے ، اور میرے پاس اپنے اس موقف پر دینے کے لیے   نہایت معقول دلائل ہیں ،دیکھیں جی  پہلا حملہ خوارزم پر ہوا تھا   اور اسکے بعد بغداد پر ، اسی طرح ادھر بھی پہلا حملہ افغانستان پر ہوا ۔ تو جیسے اُدھر مولویوں کی تحریک پر مولوی گئے تھے ، ادھر بھی افغانستان جانے والے مولوی اور مدرسوں کے طالبعلم ہی تھے جس وجہ سے اُنکو طالبان کہا جاتا ہے ۔ اگر اُس وقت بھی  مولوی اور اس وقت بھی مولوی مناظرے کر رہے تھے تو شاید جہاد کے لیے پھر وینا ملک گئی ہو گی ۔

ایک اور بڑا سوال یہ ہے کہ جب بغدادیوں کی کتابوں کو دجلہ میں پھینکا گیا تو مشہور یہ ہے کہ سات دن تک اُسکا پانی کالا رہا تھا ، میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر وہ سارے مولوی مناظروں میں لگے ہوئے تھے تو وہ کتابیں پھر ضرور کوک سٹوڈیو والوں نے لکھی ہوں گی۔

اب بھی یہ ہی کہا جاتا ہے کہ علما اور مولوی معاشرے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہے ، اپنے ایک بلاگی یار کا تو آدھا بلاگ ہی اسی بارے مولویوں کو لتاڑنے کے لیے بنایا ہوا ہے ، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ خود مین سٹریم میڈیا کے صحافیوں کو تسلیم ہے کہ غیر ملکوں سے ملنے والے بجٹی تحفوں سے چلنے والی بڑی بڑی این جی اوز عام حالات میں تو کیا کسی ڈیزاسٹر میں بھی کچھ نہیں کرتیں ، کچھ دن پہلے میں نے یہ بحث تھوڑی سی دیکھی تھی جس میں ماروی سرمد ، اوریا مقبول جان اور حمید گل شامل ہیں ، اس میں شروع میں ہی اوریا مقبول جان نے ماروی سرمد کو یہ کہہ کر لتاڑ دیا کہ آپ لوگ کسی ایک عورت پر تو بڑا شور مچاتے ہو لیکن جو سندھ میں ہزاروں عورتیں بھوک سے مر رہی ہیں انکا کیا ؟؟؟ پھر اوریا مقبول جان نے سندھ کے علاقوں میں فلاحی کام کرنے والوں کا مولوی ہونا بھی بتایا ہے ۔ جب سیلاب آیا تھا تب مدارس نے ریلیف میں بہت کام کیا تھا  اس کے علاوہ جب سوات کا آپریشن ہوا ، تو فوجیوں نے یہ سوچے سمجھے بغیر آپریشن شروع کیا کہ علاقے کے مکین کہاں جائے گے ۔۔۔ وہاں پر بھی یہ مولوی کام آئے اس بارے مولانا عدنان کاکا خیل صاحب کی ویڈیوز بھی یوٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہے ۔ بلکہ لیں جی میں تو آپکو مناظرہ کرنے والے مولویوں کی ویڈیوز کا لنک بھی دے دیتا ہوں جنہوں نے سیلاب کے وقت ریلیف میں ایسے علاقوں میں جا کر کام کیا جہاں کوئی اور نہیں گیا تھا ۔ اس سب کے  باوجود اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تو بات یہ ہوئی کہ علماء دیگر کام بھی کر رہے ہیں ، جو انکے کرنے کے نہیں مثال کے طور پر سوشل ورک ، یہ این جی اوز اور دیگر حکومتی اداروں کا کام ہے جو کہ علماء کر رہے ہیں ۔ لیکن حکومتی ادراے جو کہ انکا کام ہی وہی ٹھیک سے نہیں کر رہے ، علماء اور مدراس کے طبقے کو مکمل طور پر الگ کر دیا گیا ہے ، جو کچھ انکو کرنا ہے اپنے طور پر ہی کرنا ہے ۔ اسکی واضح مثال وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرف سے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے والی کہانی ہے ۔ کہ کیسے ان لوگوں نے یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے لیکن مدارس کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا  ۔۔۔۔۔۔ ایسا کیوں ؟؟؟ کیا یہ مدارس کو تعلیمی ادارے نہیں سمجھتے ؟؟؟ کیا مدارس میں طالب علم نہیں پڑھتے ؟؟؟
اگر ان لوگوں کو کچھ کرنا ہوتا تو وفاق المدارس سے معملات طے کر کے بہت کچھ کیا جا سکتا تھا ۔۔ بات یہ ہی ہے کہ خود یہ لبرل طبقہ مدارس اور مدارس کے طلبہ کو وہ درجہ نہیں دیتا جس کے وہ حقدار ہیں ۔ اُنکو برابری کی بنیادوں پر ٹریٹ نہیں کیا جاتا ۔ اُنکی تعلیم کو تعلیم نہیں سمجھا جاتا ۔ اگر آپ تبدیلی چاہتے ہیں تو تبدیلی یہیں سے شروع ہو گی ، کہ مدارس کی تعلیم کو تعلیم سمجھنا شروع کیاجائے ، حکومت اس میں انٹرسٹ لے ، جب لیپ ٹاپ بانٹے جائیں تو انکو بھی اُس  کوٹے میں شامل کیا جائے  ۔  لیکن یہ لوگ کیا کریں گے ، انسے تو اپنے سکول نہیں چلتے ، کبھی صرف لاہور کے ہی گورنمنٹ سکولز میں جا کر دیکھ لیں ، بچے کلاسوں میں بیٹھ کر ڈرتے ہوں گے کہ کہیں چھت ہم پر نہ گر جائے ۔ تو میں یہ کہتا ہوں کہ جب یہ طبقہ مدارس اور مدارس کے طلبہ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، تو اُنسے کچھ کرنے کی اُمید کیوں رکھتا ہے ؟؟



(¯`v´¯) 
 `•.¸.•´`•.¸.¸¸.•*¨¨*•.¸¸❤`•.¸.¸¸.•*❤ ❤`•.¸.¸¸.•*❤ 
♥♥.....Join Us on facebook............. *• ♥♥♥♥♥♥ 

tatari hamla our ullama baghdad kay manazray
 کیا سکوت بغداد کے وقت علما  مناظرے کر رہے تھے

8 April 2012

dastan iman faroshon ki


داستان ایمان فروشوں کی- التمش
سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور کی حقیقی کہانیاں  

 





Dastan Iman Faroshon Ki by Al-Tamash is great book