Test Footer 2

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

15 September 2010

Tashkeel e Pakistan ke Rohani Bishartein.










Tashkeel e Pakistan ke Rohani Bishartein. Ahem Iqtabasat k ainay main





by GM saqib published in Monthly Mirat ul Arifeen International





Courtesy Alfaqr.net.





Aalmi Tanzeem ul aarfeen


























Page_5






14 august pakistan independance day
jashn e azadi.
a beautiful article writen by G.M saqib
published in monthly iraat ul arifeen international.



History of pakistan

spritual dimentions of pakistan

Why was pakistan made.

Nazriya-e-Pakistan(Sahibzada Sultan Ahmed Ali)










Nazriya-e-Pakistan.





An article written by Sahibzada Sultan Ahmed Ali









Page-1





























Page-2




Nazriya e pakistan An article written by sahibzada sultan ahmed ali on 14 august independance day.

Jashan e Azadi Mubarak

Pakistan independance day

13 September 2010

Quaid E Azam nai Farmaya







Great Quotations Of Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah







قائداعظم کے معالج ٹی بی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں کہ ”ایک بار دوا کے اثرات دیکھنے کیلئے ہم ان کے پاس بیٹھے تھے،میں نے دیکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں،لیکن ہم نے اُن کو بات چیت سے منع کررکھا تھا،اسلیئے الفاظ لبوں پر آکر رک جاتے تھے،اسی ذہنی کشمکش سے نجات دلانے کیلئے ہم نے خود انہیں بولنے کی دعوت دی،تو وہ بولے،”تم جانتے ہو،جب... مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے،یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کرسکتا تھا،میرا ایمان ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا،اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں،تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے، پاکستان میں سب کچھ ہے،اس کی پہاڑیوں ،ریگستانوں اور میدانوں میں نباتات بھی ہیں اور معدنیات بھی،انہیں تسخیر کرنا پاکستانی قوم کا فرض ہے،قومیں نیک نیتی،دیانت داری،اچھے اعمال اور نظم و ضبط سے بنتی ہیں اور اخلاقی برائیوں،منافقت،زر پرستی اور خود پسندی سے تباہ ہوجاتی ہیں ۔








Quaid-e-Azam's Message On Eid (october 24, 1947)














Quaid-e-Azam's Message On Eid (August 18, 1947)













































































10 September 2010

18 اگست 1947ء کی عید


؍18 اگست 1947ء کی عید
ربط



مسلم معاشرے میں عید کے معنی خوشی کے ہیں جب مسلمان کو حکم خداوندی بجالانے کے بعد سخت سے سخت حالات کا سامنا کرتے ہوئے مشکل فیصلوں پر عمل کرے جب رضا الٰہی کی خاطر حلال نعمتوں کوبھی چھوڑ دے ۔ جب انسان اس امتحان میں سرخرو ہو کر رضائے خدا حاصل کرلے تو اس منزل کو عید کہاگیا ہے۔ پھر سید نا ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل پیرا ہو کر فریضہ حج ادا کرتے ہوئے اپنے پاک مال سے ایک جانور کو نام الٰہی پر قربان کرکے اس کی خوشنودی حاصل کرنے کو عید سمجھاگیا یعنی احکامات ربانی پر عمل کرکے سرخروہوئے جس کیلئے ہم اجتماعی طورپر خوشی کا اظہار کرتے ہیں جو تزکیہ نفس کا بہترین طریقہ ہے ۔

تاہم قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب دن تو خوشی کا ہوتا ہے مگر اس دوران مصیبت کے پہاڑ آن پڑتے ہیں ایسا ہی ایک دن 18 اگست 1947ء کو آیا جب مسلمانان ہند آگ وخون کے ایسے طوفان میں مبتلا ہوئے جوشاید اس سے پہلے کبھی نہ دیکھاگیا ہو ۔3 جو ن1947ء کے پارٹیشن فارمولے کے برعکس مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان میںشامل نہ کرکے کمیشن کے سربراہ سرریڈ کلف ، جواہر لعل نہرو اور وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن نے ساز باز کی‘ جس میں جالندھر ، ہوشیار پور ، بٹالہ ، گروداس پور ، پٹھان کوٹ ، امرتسر ، تارا ترن کی مسلم اکثریتی تحصیلیں سوچی سمجھی سازش کے تحت بھارت میں شامل کرکے وہ بھیانک کھیل کھیلا گیا جس کی اذیت مسلمانان ہند کبھی فراموش نہ کرسکیں گے ۔ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے فارمولا پر تو مسلم دشمن قوتیں ہر دور میں متفق اور متحد دکھائی دیتی ہیں ۔ اسی ہندو تنگ نظری کے باعث مسلمانان ہند نے علیحدہ ارض وطن کیلئے جدوجہد کی مگر 3 جون 1947ء کے تقسیم ہند کے اعلان کے بعد ظلم و استبدار کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ ہندوئوں اور سکھوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جسکی کوئی بھی مذہب سماج یا معاشرہ اجازت نہیں دیتا ۔ 17اگست 1947ء کے بائونڈری کمیشن کی طرف سے تقسیم پنجاب کا اعلان ہوتے ہی مذکورہ علاقوںمیں مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔



مشہور تاریخی کتاب 18 اگست 1947ء کو عید الفطر تھی جس دن مسلمان اجتماعی نماز ادا کرتے ہیں مگر اس روز کی نماز ہر شہر گائوں اور قصبہ میں خون رنگ ہوگئی ۔ سجدہ ریز نہتے مسلمانوں پر جس درندگی سے مسلح ہندو سکھ جتھے پولیس کی نگرانی میں حملہ آور ہوئے۔ آہنسہ کے پچاری برچھیوں بلموں تلواروں کرپانوں بندوقوں سے لیس مسلم بستیوں پر ٹوٹ پڑے ۔ مردوں کو قتل کرکے عورتوں کی بے حرمتی ، بوڑھوں اور بچوں کو زندہ جلا کر راکھ کر دیا ہر طرف آہیں اور سسکیاں تھیں۔ بارود اور انسانی گوشت کی بو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہندو اور سکھ غنڈوں کے شراب کے نشے میں دھت بدمست قہقہے گونج رہے تھے ایسا بھیانک منظر شاید ہی تاریخ نے کبھی دیکھا ہو۔ " جب امرتسرجل رہا تھا" کے مصنف خواجہ افتخار لکھتے ہیں کہ آج میری آنکھوں کے سامنے وہی منظر گھوم رہا ہے جب مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو کلمہ گوئی اور مطالبہ پاکستان کے جرم کی پاداش میں سنگینوں پر اچھالا جا رہا تھا ، وہ پیدل قافلوں اور ٹرینوں کی صورت میں پاک سرزمین کی جانب بڑھ رہے تھے۔ تقسیم کے موقع اغواہونیوالی اسی ہزار خواتین کی عصمتوں کے لٹنے کے دلخراش منظر اور ان کے مادر ذاد برہنہ جلوس نکالنے والے خونخوار بھیڑیوں کے مکروہ چہرے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں ۔


"عظیم تقسیم" کے مصنف ڈبلیو ڈی ہڈسن رقم طراز ہیں ۔18اگست عید کے روز ہر جگہ قتل و غارت کا بازار گرم تھا ۔ مائوں کی گود میں بچے ذبح کر ڈالے گئے، جوان بوڑھے اور بے کس عورتوں کو بڑی سفاکی سے مارا گیا ۔ ٹرینوں پر مسلح حملے کئے گئے۔ مسافر ٹرینوں پر چھاپے مارے گئے ۔ قافلوں کے راستے میں آنیوالے تالابوں اور کنوئوں میں زہر ملایا گیا ۔ مسلمان بستیوں کو لوٹا پھر جلا دیا ۔ سرکاری ادارے ان جتھوں کے ساتھ تھے معلوم ہوتا تھا جیسے آسمان سے خون برس رہا ہے اور زمین پر خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں ۔


" پنجاب کی خونی داستان" کے مصنف ہندو دانشور مسٹر دھنو تری لکھتے ہیں 18 اگست عید کے روز مشرقی پنجاب کی کوئی چھوٹی بڑی آبادی ایسی نہ تھی جس کے محلے گلیاں اور گھر جلتے نظر نہ آئیں ۔ مسلمانوں کا قتل اتنا بہیمانہ تھا کہ سکھوں نے مسلم مردوں بچوں بوڑھو ں بیماروں اپاہجوں درویشوں فقیروں کوتلوار کے گھاٹ اتار دیا ۔ عورتوں کی آبروریزی بڑی بے باکی سے کی گئی ۔ سڑکوں بازاروں حتی کہ کیمپوںپر جہاںمسلمان نظرآئے قتل کر دئیے ۔

ان حالات میں پاکستان بنا ۔ ہمارے بزرگوں نے آزادی کی پہلی اینٹ لاکھوں شہادتوں اور عصمتوں کی قربانی کے عوض حاصل کی ۔تمام منظر ہرذی شعور انسان کیلئے اذیت کا باعث تھا مگر ہمارے قائد اس رنج و الم کی صورت میں بھی اپنی قوم سے مایوس نہ تھے۔ آپ نے 30اکتوبر 1947ء کو یونیورسٹی گرائونڈ لاہور ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں فرمایا " پاکستان حاصل کرنے کیلئے ہم نے بہت قربانیاں دیں اللہ نے ہمیںقربانیوں کے بدلے آزادی کی نعمت دی ہے مگر ہمارے دشمن یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان پیدا ہوتے ہی ختم ہوجائے ہمیں جو دکھ دیا گیا ہے اس کی مثال تاریخ میںنہیں ملتی مگر ہمیں پاکستان کو قائم رکھنے کیلئے ابھی اور قربانی دینی ہوگی ۔ مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے ہمارے حوصلے بلند ہیں اسی طرح تمام ملت ہمت اور صبر کیساتھ کام کرتی رہی تو ہماری یہ مصیبت انشاء اللہ بہت جلدختم ہوجائے گی اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نے اپنے مصیبت زدہ بہنوں بھائیوں کی دل کھول کر مددکرنی ہے اگر ہماراایمان پختہ ہے، ہمارے حوصلے بلند ہیں تو ہم ان شاء اللہ مصیبتوں پر فتح حاصل کریں گے "

قارئین !آج 11 ستمبر 2010کی عید جس میں ہمارے دو کروڑ بہن بھائی ایک بڑی آفت کا شکار ہیں مگر مصیبت آفت ویسی نہیں جس کا مقابلہ ہمارے عظیم بزرگو ں نے کیا ۔ انکی عظیم قربانیوں سے حاصل شدہ آزادی کی نعمت کی حفاظت اور آج اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد اپنے قائد کے فرمان اور بزرگو ں کے حوصلے اور قوت ایمان سے حاصل شدہ روشنی میں کرنی ہوگی ۔بزرگوں کی روایت پر عمل کرتے ہوئے آنیوالی نسلوں کیلئے ایثار اور بھائی چارے کی نئی مثالیں قائم کرنی ہیں ۔ ہمیں ایک زندہ اور باوقار قوم کے طور پر حالات کا مقابلہ کرکے روشن اور درخشاں مستقبل کے راستے تلاش کرنے ہونگے ۔ مشکلوں مصیبتوں کو حوصلہ اتحاد وتفا ق سے شکست دینی ہوگی ایسی روایت کو جنم دینا ہوگا جو آنیوالی نسلوں کیلئے چراغ راہ بن سکے کیونکہ ہمارے لئے بھی حضرت قائد کا کردار اور فرمان مینارۂ نور ہے کہ مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے ۔ 

Eid on 18 august 1947 and eid on 11 september 2010.
creation of pakistan and hindu character.

8 September 2010

Cigerrate Noshi_ Atta-ul-Haq Qasmi


Islam ka Tasawar e Qomeat ore Iqbal

Islam ka Tasawar e Qomeat ore Iqbal


Islam ka Tasawar e Qomeat ore Iqbal
By
Dr Mumtaz umer


میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی



میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔۔

آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔
٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔


میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔
ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔ اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔ تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔ یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔

٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔

٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔ دیکھا تو وہ لوگوںکے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔ میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو۔ تھک گئی ہوگی۔ سردی بھی بہت ہے ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے باقی کل کر لینا. تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔ یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا

٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔

٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری ی حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیںمجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔

٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیااور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا۔

٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواںجھوٹ تھا۔

٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔۔۔

اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔
جن کے پاس ماں ہے۔۔۔اس عظیم نعمت کی حفاطت کریںاس سے پہلے کہ یہ نعمت تم سے بچھڑ جائے۔
اور جن کے پاس نہیں ہے۔۔ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کیا کچھ کیا۔۔اور ان کی مغفرت کے لیے دعا 
 کرتے رہنا

meri maa hamaisha sach nahe bolti

  maa ka jhoot