Test Footer 2

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

26 March 2012

pepsi cola ki factory



پیپسی کولا کی فیکٹری
 

لڑکی کا باپ بہت خوش تھا کہ اچھے خاندان سے اسکی بیٹی کیلئے رشتہ آیا ہے۔ لڑکے میں ہر وہ خوبی تھی جسکی تمنا کی جا سکتی ہے۔ پڑھا لکھا، خوش اخلاق، مودب اور بر سر روزگار۔ انکار کی تو وجہ بنتی ہی نہیں تھی لہٰذہ دیگر اہل خانہ سے صلاح مشورہ کر کے یہ رشتہ قبول کر لیا گیا۔ بات جب دستور کے مطابق حق مہر کی چلی تو لڑکی کے باپ نے کہا ہم مردم شناس لوگ ہیں اور لڑکے کو اپنی فرزندی میں لے رہے ہیں، پیسے کی ہمارے لیئے کوئی اہمیت نہیں۔ تاہم رسماً میری بیٹی کا حق مہر صرف ایک ریال ہوگا۔ معاملات طے پائے تو شادی کی تاریخ مقرر کر کے اس فریضہ کو سر انجام دیدیا گیا۔

لڑکی بھی کسی معاملے میں کم نہ تھی، خوبصورت و خوب سیرت، تعلیم یافتہ، گھر گرہستی کے ہر فن میں ماہر۔ جلد ہی اس نے اپنے سسرال کے ہر فرد کو اپنا گرویدہ بنا دیا۔ گویا دونوں گھرانے ہی اپنی اپنی خوش قسمتی پر رشک کرتے تھے۔ میاں بیوی کے درمیان الفت و محبت کا رشتہ روز بروز گہرے سے گہرا تر ہوتا چلا گیا۔

ایک دن پیپسی کی بوتل پیتے ہوئے نجانے خاوند کے ذہن میں کیا شیطان سمایا کہ بیوی کو کہنے لگا، جانتی ہو تمہاری قیمت اور اس پیسپی کی بوتل کی قیمت ایک ہی ہے۔ طنز تو بہت گہرا اور صدمہ دینے والا تھا مگر بیوی نے ان سنی کر دی کہ اگر بات زبان سے پھسل کر نکلی ہے تو اس کو یہیں ختم کر دیا جائے۔ مگر خاوند کی تو یہ عادت ہی بن گئی کہ جب بھی پیپسی کی بوتل خریدتا تو کسی طرح بھی طنز کی کوئی صورت نکال ہی لیتا۔ کبھی کہتا کہ اگر میری تم سے شادی نا ہوتی تو میں ایک اور پیپسی خرید پاتا اور کبھی کہتا کہ میری پیسپی کی بوتل کا نقصان کرانے والی۔

لڑکی بہت ہی سمجھدار اور حالات سے سمجھوتا کرنے والی تو ضرور تھی مگر ایک دن اس کا صبر جواب ہی دے گیا۔ اپنے خاوند سے کہا کہ میں اپنی امی سے ملنے کیلئے اداس ہوں، وہ اسے اس کے گھر لے جائے۔ خاوند کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا، فورا ہی تیار ہو کر چل پڑے۔

اپنے خاوند کو بیٹھک میں چھوڑ کر لڑکی اندر اپنی ماں کے پاس گئی اور پھوٹ کر رو پڑی کہ تم نے میرا حق مہر اتنا کم مقرر کر کے میری قیمت گرا دی ہے اور اب میرا خاوند مجھے اس طرح ذلیل کر رہا ہے۔ اس کی ماں نے کہا کہ ابھی تیرا باپ آتا ہے تو میں اسے بتاتی ہوں مگر لڑکی کا اصرار تھا کہ وہ اپنے معاملات خراب نہیں کرنا چاہتی اس لیئے اس کے والد کو خبر نہیں ہونی چاہیئے۔ مگر اس کی ماں نے کہا کہ نہیں یہ غلطی تیرے باپ نے کی ہے اس لیئے اس غلطی کو ٹھیک بھی اسی نے ہی کرنا ہے لہٰذہ اسے بتانا ضروری ہے۔ لڑکی کے والد نے سارا قصہ نہایت ہی تحمل کے ساتھ سنا اور بیٹی کو تسلی دی کہ وہ بالکل بے فکر رہے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

بیٹھک میں جا کر لڑکی کے باپ نے اپنے داماد سے کہا کہ کئی دنوں سے دونوں خاندانوں کی آپس میں ملاقات نہیں ہوئی، اسلیئے وہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر والوں کی دعوت کرے، اسلیئے وہ اپنی بیوی کو یہاں ہی رہنے دے اور کل اپنے والدین کے ساتھ دوبارہ آئے تاکہ سب لوگ مل بیٹھیں۔ لڑکا بخوشی واپس چلا گیا۔

دوسرے دن لڑکا اپنے والدین کے ساتھ جب پہنچا تو لڑکی کے والد نے تین پیپسی کی بوتلیں سب کے سامنے رکھیں اور کہا کہ یہ میری طرف سے آپکے لئے دعوت ہے۔ لڑکے کے والدین تو کچھ نا سمجھے مگر لڑکے کو اندازہ ہوگیا کہ بات شاید کچھ اور ہی ہے۔ لڑکی کا باپ بولا کہ تم نے میری بیٹی کا حق مہر ایک پیپسی کی بوتل مقرر کیا تھا جبکہ میں تمہیں تین بوتلیں پلا رہا ہوں، یہ بوتلیں پیو اور میری بیٹی کو طلاق دیکر چلے جاؤ، مجھے تم لوگوں سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا۔ لڑکی کا خاوند تو بیہوش ہونے کے قریب تھا اور اسکے والدین کو جب سارے معاملے کی سمجھ آئی تو لڑکے پر بہت ناراض ہوئے کہ اس نے ایسی نیچ حرکت کیوں کی۔

جب معاملے کو سلجھانے کی بات چلی تو لڑکی کا باپ بولا کہ اگر میری بیٹی کو لیکر جانا ہے تو اسکا مہر تین لاکھ ریال ہوگا، جا کر لے آئیے اور میری بیٹی کو لیجائیے ورنہ نہیں۔

کیونکہ مطالبہ اتنا نا مناسب نہیں تھا اور بات بھی معافی و صلح و صفائی سے آگے گزر چکی تھی۔ اسلیئے یہ سب لوگ پیسوں کے انتظام کا کہہ کر ادھر سے اُٹھ آئے اور پھر چند دنوں کے بعد حق مہر تین لاکھ ریال دیکر لڑکی کو لے آئے۔

کہتے ہیں کہ اس دن کے بعد لڑکے نے دوبارہ کوئی ایسی بات کہنے اور کرنے سے تو توبہ کر لی، مگر کبھی کبھی یوں ضرور کہہ کر بلاتا تھا – ارے میری پیپسی کولا کی فیکٹری، کہاں ہو؟


محمد سلیم

19 March 2012

Poetry of Allama Iqbal should be banned



Poetry of Allama Iqbal should be banned


Though I am a great admirer of Iqbal's creative genius yet in my personal opinion, he should be banned. Thank God a part of his poetry has already been hidden and utmost efforts are being incorporated in preventing those poems of his to access the limelight. For example:
اٹھو ! مري دنيا کے غريبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و ديوار ہلا دو
Rise, and from their slumber wake the poor ones of My world!
Shake the walls and windows of the mansions of the great!

On the other hand, our leaders and politicians use the verse:
اک ولولہ تازہ ديا ميں نے دلوں کو
"My songs fresh zeal to hearts of men impart,"

with intact consistency to make the public realize that Iqbal had penned this verse as a tribute to their own leadership. But never have I heard any of these 'leaders' mentioning this verse of Iqbal:
جس کھيت سے دہقاں کو ميسر نہيں روزي
اس کھيت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
Find the field whose harvest is no peasant’s daily bread—
Garner in the furnace every ripening ear of wheat!

It is a good thing because if the poor of this country wake up they are going to shake the affluent few out of their lives of luxury. The earning of the harvest that is being enjoyed by the feudal lords exclusively, every inch of that harvest will be in danger of being burned by the laborer. This, in turn, is going to damage the capitalist democracy that is the 'guarantee of our survival'; the meaningless majority will take over while the elite class, having once been on the receiving end of the wondrous perks of this economic system, will be at the mercy of those two-penny losers.

But hiding just this particular part of Iqbal's poetry is not going to be enough. We have to get rid of his entire poetry collection. In attribution to the way we lead our lives and how dear our lives are to us, it will be interesting to point out that Iqbal perceives such a life as death and thus becomes the cause of hurting our feelings. For example we are grateful to Allah that not only did He make us part of a Muslim family but also He enabled us to follow His Commands where we never waver in offering our Salah or fasting during Ramadan. But Iqbal loves to shock us. He attacks those beloved religious scholars of ours whom we revere so much and who have assured us that no matter how deeply drenched we are in our worldly luxuries, our entry in heaven is a done deal. We just have to follow their lead and the guard of heaven could do nothing more than be left agape. The entire poetry collection of Iqbal is filled with such bizarre admonishments. For example
رگوں ميں وہ لہو باقي نہيں ہے
وہ دل ، وہ آرزو باقي نہيں ہے
نماز و روزہ و قرباني و حج
يہ سب باقي ہيں ، تو باقي نہيں ہے
That blood of pristine vigour is no more;
That yearning heart's power is no more;
Prayer, fasting, haj, sacrifice survive,
But in thee nature's old dower is no more.
**********
ميں جانتا ہوں جماعت کا حشر کيا ہو گا
مسائل نظري ميں الجھ گيا ہے خطيب
The end of Muslim folk I know full well,
On theoretic points their preachers dwell
***********
کس کو معلوم ہے ہنگامہ فردا کا مقام
مسجد و مکتب و ميخانہ ہيں مدت سے خموش
Who knows what tumult The Final Day will bring?
The mosques and the schools Are silent about that day.
***********
دل ہے مسلماں ميرا نہ تيرا
تو بھي نمازي ، ميں بھي نمازي!
ميں جانتا ہوں انجام اس کا
جس معرکے ميں ملا ہوں غازي
Both you and I aren’t Muslims true,
Though we say the prayers due.
I know the end of wrangle well
Where mullahs at each other yell
***********
تيرا امام بے حضور ، تيري نماز بے سرور
ايسي نماز سے گزر ، ايسے امام سے گزر
Thy imam is unabsorbed, Thy prayer is uninspired,
Forsake an imam like him, Forsake a prayer like this.
***********
نہ فلسفي سے ، نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
يہ دل کي موت ، وہ انديشہ و نظر کا فساد
I care not for the philosopher, Or for The mullah,
One is the heart’s death; The other is death of thought.
***********
رہا نہ حلقہ صوفي ميں سوز مشتاقي
فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقي
کرے گي داور محشر کو شرمسار اک روز
کتاب صوفي و ملا کي سادہ اوراقي
Sufis lack the fire, the passion that consumes,
But in miracles and in wonders their circles abound.
On the Day of Judgement, God will be embarrassed
By the blank book of the Sufi, and the mindless mullah.

There are countless other references where he has bruised our hearts and after reading his words, our acts of worship seem pointless to us because according to him, we have ignored the real soul of those worshipping experiences.

These are not the only reasons why I have put forth the demand to cast out Iqbal. There are many more. For instance, we know that our politicians are so God-fearing and how concerned they are for the welfare of the public and to serve the interests of the country how they never hesitate to beg for financial aid from the global donors. But Iqbal does not acknowledge their 'efforts' at all. He says:

نگاہ فقر ميں شان سکندري کيا ہے
خراج کي جو گدا ہو ، وہ قيصري کيا ہے!
بتوں سے تجھ کو اميديں ، خدا سے نوميدي
مجھے بتا تو سہي اور کافري کيا ہے!
کسے نہيں ہے تمنائے سروري ، ليکن
خودي کي موت ہو جس ميں وہ سروري کيا ہے
The splendour of a monarch great
Is worthless for the free and bold:
Where lies the grandeur of a king,
Whose riches rest on borrowed gold?
You pin your faith on idols vain
And turn your back on Mighty God:
If this is not unbelief and sin,
What else is unbelief and fraud?
Luck favours the fool and the mean,
And exalts and lifts to the skies
Only those who are base and low
And know not how to patronize.
To be a person great and strong
Is the end and aim of all;
But that rank is not real and true
That is attained by the ego’s fall.

This obsession of Iqbal with Khudi has really snatched our mental peace. Can this Khudi construct those luxurious mansions? Can this Khudi maintain the 'health' of those Swiss bank accounts? Can this Khudi make you 'brave' enough to 'request' aid every now and then? Needless to say, the approach employed by the Poet of the East is brainwashing our youth and hence he should be discarded to improve the current conditions.

Iqbal's poetry is not just a danger for us but it also qualifies as a peril for those 'profound' minds who have utilized their genius to take over more than half of the world's resources and have installed their personal puppets in important positions to continue with the 'wonders of their intelligence'.

He talks about freedom of nations and many Islamic nations have found his message attractive – to the extent that they have broken the chains of slavery as a direct response (big deal!). He is also the enemy of capitalism. Wherever this economic system will be opposed, it will be accompanied by the ideas of Iqbal. Many countries that had been following this doctrine till now, the masses of those countries have unified to raise a voice against capitalism. On certain instances, Iqbal is even found registering his queries to the One Above about the planet we are living in and the humans living in it who are gradually tearing away the remnants of humanity. He says:

اگر کج رو ہيں انجم ، آسماں تيرا ہے يا ميرا
مجھے فکر جہاں کيوں ہو ، جہاں تيرا ہے يا ميرا؟
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالي
خطا کس کي ہے يا رب! لامکاں تيرا ہے يا ميرا؟
اسي کوکب کي تاباني سے ہے تيرا جہاں روشن
زوال آدم خاکي زياں تيرا ہے يا ميرا؟
If the stars are astray,
The heavens are Thine, not mine;
Why should I fret about the world?
The world is Thine, not mine.
If Thy world is cold,
Devoid of the warmth of passion,
Whose fault is it, my Lord?
That world is Thine, not mine.
Man is the star that brightens
Thy lonely, desolate world;
Will the eclipse of this star
Be a loss of Thine or mine?

Since I am not a poet but a columnist, there are certain literary restraints regarding article length. If I would not have been precluded by these limitations, I would have presented further logical arguments as to how expelling the ideas of Iqbal from our ideological curriculum is the need of the time in terms of strengthening the current system in Pakistan as well as for the sake of ensuring world peace. A case in point will be the way he declares thirst for knowledge as the main reason behind the development of Europe; the way he mourns about how the Europeans are benefiting from the fruits of that tree of intellect and enlightenment that had been planted by our ancestors. That is how he tries (not hard enough though) to motivate the Muslim youth to follow in the footsteps of their ancestors and develop that intense hunger for knowledge in order to regain the glory of the past and lead the world to a meaningful culmination on all levels. To cut a long story short, he is actually saying that we are not doing enough (the nerve!) and that we are ignorant fools. He has the audacity to term our dearth of initiative to gain knowledge (duh we didn't have opportunities to live up to his unrealistic ideals) as the main reason for our decline as an Ummah. He is practically insulting our nation. Henceforth without further delay such an uncouth poet should be banned. On many occasions, Iqbal assumes the role of our defense lawyer and presents our case in the Court of Allah.

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر ديا تھا کيوں
کار جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر
روز حساب جب مرا پيش ہو دفتر عمل
آپ بھي شرمسار ہو ، مجھ کو بھي شرمسار کر
Why did You order me to quit the Garden of Eden?—
Now there is much to be done here—so just wait for me!
When the roll of my deeds is brought up on the Day of Reckoning,
Be ashamed as You will shame me

Or he says:
فارغ تو نہ بيٹھے گا محشر ميں جنوں ميرا
يا اپنا گريباں چاک يا دامن يزداں چاک
On the Day of Judgement too
My frenzy will not let me rest:
With Mighty God I shall contend
Or rend to fragments my own vest

Iqbal himself understands what he have said, so he says:

چپ رہ نہ سکا حضرت يزداں ميں بھي اقبال
کرتا کوئي اس بندہ گستاخ کا منہ بند
—Will no one hush this too proud thing Iqbal
Whose tongue God’s presence‐chamber could not tie 

Having quoted him, I don't think there is any further need for reemphasizing my stance. In the end, I'd take your leave by making an attempt to necessitate my perpetual references to Iqbal's poetry by once again quoting his words (this time is the last time I promise).

ميري نوائے شوق سے شور حريم ذات ميں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدئہ صفات ميں
حور و فرشتہ ہيں اسير ميرے تخيلات ميں
ميري نگاہ سے خلل تيري تجليات ميں
گرچہ ہے ميري جستجو دير و حرم کي نقش بند
ميري فغاں سے رستخيز کعبہ و سومنات ميں
گاہ مري نگاہ تيز چير گئي دل وجود
گاہ الجھ کے رہ گئي ميرے توہمات ميں
تو نے يہ کيا غضب کيا، مجھ کو بھي فاش کر ديا
ميں ہي تو اک راز تھا سينہء کائنات ميں
A blaze is raging near His Throne
By my strains that burn like flames
The cries of "Mercy !" rise aloft
From the Temple of His Names.
Houris and angels, all alike,
My soaring thought can keep in hold:
The moulds in which Thou dost reveal
Get ruffled by my glances bold.
In my search and quest for Thee
Cloisters and Kirks I did design,
But my groans and woeful wails
Can shake the founds of Fane and Shrine.
There were times when my vision sharp
Pierced the heart and core of Life:
Time again, fell short of mark
By mine inner doubts and strife.
I was the only secret veil’d
In Nature’s Womb in Latent form:
When I was brought to light for show,
What wondrous act Thou didst perform 





(Translation of an article of Atta ul Haq Qasmi)
Read this article in urdu 


(¯`v´¯)
 `•.¸.•´`•.¸.¸¸.•*¨¨*•.¸¸❤`•.¸.¸¸.•*❤ ❤`•.¸.¸¸.•*❤
♥♥.....Join Us on facebook............. *• ♥♥♥♥♥♥
http://www.facebook.com/wakeup.muslimz

اقبال کی شاعری کو بین کردینا چاہئے


یہ عطا الحق قاسمی صاحب کا ایک فکر انگیز کالم ہے جو تھوڑی سی تبدیلی و توسیع کے بعد پیش خدمت ہے.
اس کالم کا انگریزی ترجمہ یہاں پڑھ سکتے ہیں 

اقبال کی شاعری کو بین کردینا چاہئے
میں اگرچہ اقبال کی صناعی کا بہت قائل ہوں تاہم میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اقبال کی شاعری کو بین کردینا چاہئے، اللہ کا شکر ہے کہ اس کی شاعری کا کچھ حصہ تو پہلے ہی سے چھپا کر رکھا گیا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ اسے ہوا نہ لگنے پائے۔ مثلاً

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخ امراء کے در و دیوار ہلا دو

جبکہ دوسری طرف ہمارے حاکم اور ہمارے سیاستدان جلسے جلوسوں میں
 
ایک ولولہ تازہ دیا تونے دلوں کو

والا شعر پورے تواتر سے استعمال کرتے ہیں اور عوام کو سمجھاتے ہیں کہ اقبال نے یہ شعر ان کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے کہا ہے مگر میں نے کسی سیاستدان اور کسی حاکم کی زبان سے اقبال کا یہ شعر

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہٴ گندم کو جلا دو

کبھی نہیں سنا اور یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ اگر پاکستان کے غریب جاگ اٹھے تو وہ کاخ امراء کے درو دیوار ہلا دیں گے جس کھیت کی ساری کمائی جاگیردار لے جاتا ہے ،وہ اس کھیت کے ہر خوشہٴ گندم کو جلانے کی بات کریں گے اور یوں سرمایہ دارانہ جمہوریت جو ہماری بقاء کی ضامن ہے ،خواہ مخواہ عوامی جمہوریت کے ہتھے چڑھ جائے گی اور یوں ہمارا مراعات یافتہ طبقہ ان ٹکے ٹکے کے لوگوں کی نظر کرم کا محتاج ہو کر رہ جائے گا۔

مگر اقبال کے کلام کے صرف اس حصے کو عوام سے چھپا چھپا کر رکھنے سے کام نہیں بنے گا بلکہ ضروری ہے کہ اقبال کا سارا کلام دریا برد کردیا جائے کیونکہ ہم جس ڈھب پر اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں اور یہ زندگیاں ہمیں بہت عزیز ہیں۔ اقبال اسے زندگی نہیں، موت قرار دیتا ہے اور یوں ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے، مثلاً ہم مطمئن ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے گھرپیدا کیا بلکہ ہم اس کے دین کی پیروی کرتے ہوئے نماز، روزے میں کبھی غفلت نہیں برتتے لیکن اقبال اس کے باوجود ہمیں کچوکے دیتا رہتا ہے، وہ ہمارے ان نام نہاد ہی سہی مذہبی پیشواؤں کو بھی نہیں بخشتا جن کے ہم ہاتھ چومتے ہیں اور جنہوں نے ہمیں یقین دلا رکھا ہے کہ تم جتنی چاہو دنیا داری کرو، ہم تمہاری انگلی پکڑ کر اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے اور داروغہ جنت بس منہ دیکھتا رہ جائے گا۔ اقبال کی ساری شاعری اس طرح کی باتوں سے بھری پڑی ہے ،مثلاً وہ کہتا ہے۔
 
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے
==================
میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا
مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
==================
کس کومعلوم ہے ہنگامہ فردا کا مقام
مسجد و مکتب و میخانہ ہیں مدت سے خموش
==================
دل ہے مسلماں تیرا نہ میرا
تو بھی نمازی ، میں بھی نمازی
میں جانتا ہوں انجام اس کا
جس معرکے میں ملا ہوں غازی
==================
تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر
==================
نہ فلسفی سے نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
یہ دل کی موت وہ اندیشہ نظر کا فساد
==================
رہا نہ حلقہ صوفی میں سوز مشتاقی
فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی
کرے گی داور محشر کو شرمسار اک روز
کتاب صوفی و ملا کی سادہ اوراقی
==================

وغیرہ وغیرہ…اور یہ وغیرہ وغیرہ میں نے اس لئے کہا ہے کہ اقبال کے کلام میں اس طرح کے اور بہت سے کچوکے ہیں جن سے وہ ہمارے دلوں کو زخمی کرتا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد ہمیں اپنی ساری عبادات بے معنی لگنے لگتی ہیں کیونکہ اس کے نزدیک ہم عبادات کی اصل روح سے بے گانہ ہوچکے ہیں۔
 
میں اگر اقبال کے کلام کو بین کرنے کی بات کرتا ہوں تو اس کی صرف یہی ایک وجہ نہیں جو میں نے ابھی بیان کی ہے بلکہ اس کی اور بھی بے شمار وجوہات ہیں، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں خدا کے فضل و کرم سے ہمارے حاکم خدا ترس ہیں۔ انہیں ہر لمحہ عوام کی فلاح و بہبود کی فکر رہتی ہے، وہ پاکستان کی خود مختاری کی حفاظت ہر قیمت پر کرتے ہیں ملک کو خوشحال بنانے کی خاطر غیر ملکی امداد کے لئے وہ ہر دروازے پر جاکر دستک دیتے ہیں مگر اقبال ان کی ان کاوشوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا اور کہتا ہے۔
 
نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے
کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے
خودی، خودی، خودی اقبال کی اس تکرار نے ہماری نیندیں حرام کی ہوئی ہیں، کیا خودی کے ذریعے عظیم الشان محلات کھڑے کئے جاسکتے ہیں، کیا خودی سے سوس اکاؤنٹس کا پیٹ بھرا جاسکتا ہے، کیا خودی سے اربوں کھربوں کے قرضے لئے جاسکتے ہیں، اقبال کی یہ سوچ ہماری قوم کے نوجوانوں کو گمراہ کررہی ہے اور ان کے دلوں میں ظل الٰہی کے خلاف باغیانہ خیالات جنم لینے لگتے ہیں ، لہٰذا اقبال کو بین کئے بغیر آنے والے حالات پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔
 




اقبال کی شاعری صرف ہمارے لئے خطرہ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں جن ملکوں کے عاقل و بالغ ذہنوں نے اپنی خداداد صلاحیت کے بل بوتے پر آدھی دنیا کے وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں ڈمی حکمران مسلط کرکے وہ من مانی کرتے ہیں اقبال کا کلام ان کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے، وہ قوموں کی آزادی کی بات کرتا ہے اور اس کے پیغام میں اتنی کشش ہے کہ بہت سے اسلامی ملکوں نے غلامی کی زنجیریں اتار پھینکی ہیں۔ وہ سرمایہ داری نظام کا بھی دشمن ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں اس نظام کے خلاف بغاوت ہوگی اقبال کی شاعری ان کے ہم رکاب ہوگی، آج بہت سے سرمایہ دار ملکوں کے عوام اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اقبال تو کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ سے بھی الجھتا ہوا نظر آتا ہے، وہ جب دیکھتا ہے کہ یہ سیارہ جس میں ہم رہ رہے ہیں تباہی اور بربادی کی زد میں ہے، اللہ کی تخلیق یعنی انسان انسانیت کے مقام سے گرتا چلا جارہا ہے تو وہ خدا کو مخاطب کرکے کہتا ہے۔
 
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا؟
مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا؟
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالی
خطا کس کی ہے یارب لامکاں تیرا ہے یا میرا؟
اسی کو کب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟

میں چونکہ شاعر نہیں، کالم لکھ رہا ہوں اور کالم کی بندشوں میں ایک بندش یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ زیادہ طویل نہ ہو ،ورنہ میں آپ کو مزید دلائل سے اس امر کا قائل کرنے کی کوشش کرتا کہ دنیا میں امن اور پاکستان میں موجودہ نظام کو استحکام بخشنے کے لئے اقبال کی شاعری پر پابندی وقت کی اہم ضرورت ہے، مثلاً یہ شاعر یورپ کی ترقی کی ایک وجہ اس کی علم دوستی بھی بیان کرتا ہے، چنانچہ جب وہ اپنے بزرگوں کی کتابیں ان کی لائبریریوں میں دیکھتا ہے تو اس کا دل سی پارہ ہوجاتا ہے اور یوں یہ شاعر دنیا بھر کے مسلمانوں کو علم کے حوالے سے اپنے آباء کی پیروی پر مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ ایک بار پھر دنیا کی امامت کرسکیں، دوسرے لفظوں میں وہ ہمیں جاہل کہتا ہے، ہمیں علم دشمن کہتا ہے اور اس چیز کو ہمارے زوال کا باعث قرار دیتا ہے۔ یہ سراسر ہماری توہین ہے اور یوں مسلم امہ کی توہین کرنے والے اس شاعر کو بین کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح کئی ایک مقامات پر اقبال خدا کے حضور خواہ مخواہ انسان کا وکیل بن کر پیش ہوتا ہے اور اس کا مقدمہ خدا کی عدالت میں پیش کرتا ہے۔

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
روز حساب جب میرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر

یا وہ کہتا ہے

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

خود اقبال کو بھی احساس ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے چنانچہ وہ خود ہی کہتا ہے۔
 
”کرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند“

اب اس کے بعد مجھے کچھ مزید کہنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟
اورآخر میں اقبال کی شاعری کو بیان کرنے کی چند وجوہات میں اسی کی زبان میں بیان کرکے آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔
 
میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میںغلغلہ ہائے الاماں بت کدہ صفات میں
حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں
گرچہ ہے میری جستجو دیرو حرم کی نقشبند
میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں
گاہ میری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود
گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں
تونے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کردیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینہ کائنات میں


 ربط 

توسیع

اقبال کی شاعری پر پابندی ہونی چاہئیے بلکہ اس کی ساری شاعری سمندر میں پھینک دینی چاہئیے. اقبال ہمیں سونے نہی دیتا، نیند میں خلل ڈالتا ہے
۔
ابھی چند صدیاں ہی تو ہوئی ہیں سوئے ہوئے اور اقبال کہتا ہے کہ

معمار حرم، باز بہ تعمیر جہاں خیز
از خواب گراں، خواب گراں، خواب گراں خیز

اے حرم کو تعمیر کرنے والے (مسلمان) تو ایک بار پھراس (تباہ و برباد) جہان کو تعمیر کرنے کیلیے اٹھ کھڑا ہو، (لیکن تُو تو خوابِ غفلت میں پڑا ہوا ہے) اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ۔
۔

اب بتائیں یہ کوئی کرنے والی بات ہے؟


اور پھر اوپر سے اقبال مردار کھانے سے روکتا ہے. اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ
"اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی"
یا پھر
لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول


اقبال بہت کچوکے لگاتا ہے ہمیں
۔ 


ہم نے ویسے تو بہت کوشش کی اقبال کی شاعری کو بوسیدہ کرنے کی. اس کا بےدریغ استعمال کیا ہر جگہ. جعمہ کا خطبہ ہو یا سیاسی تقریر، ہمارے سیاستدان ہوں یا مولوی، علما، دانشور، فقیر یا جرنلسٹ، وکیل ہو یا جج، استاد ہو یا شاگرد .. کسی کی تقریر اقبال کے شعر کے بغیر مکمل نہی ہوتی.....اپنی اپنی مرضی کے مفہوم نکالنے اور اس کے شعروں کو گڈمڈ کرنے کی بہت کوشش کی.
حتیٰ کہ کلام اقبال کو ہم نے قوالیوں میں گا گا کر بوسیدہ کرنے کی کوشش کی. ٹیلی ویژن چینلوں پر اقبال کے اشعار گائے اور پڑھے جاتے ہیں اقبال کے نام پر بننے والے اداروں کے سربراہ سکرین پر آکر رٹی رٹائی تقریریں کرتے ہیں اور پھر


بپا ہم سال میں اک مجلس اقبال کرتے ہیں
پھر اْسکے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں


اس سب کے باوجود بھی اقبال کا پیغام اپنی تاثیر نہی کھو رہا. اب ایک ہی حل ہے کہ اسے دریا برد کر دیا جاے. ورنہ یہ ہماری نیندیں حرام کرتا رہے گا
۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فراز اکرم 

Death anniversary of Allama Iqbal, 
Iqbal day, poetry of Iqbal, majlis iqbal. Iqbal ka asal paigham,
iqba ki shairi,
74th death anniversary of national poet Dr Allama Muhammad Iqbal
Muffakir-e-Pakistan, Shair-e-Mashriq and Hakeem-ul-Ummat.

انکار حدیث‌ پر مبنی ایک کھلے خط کا تعاقب




انکار حدیث پر مبنی ایک کھلا خط اور اس پر تبصرہ 

آج انکار حدیث کا سورج اپنے نصف النہار پر ہے جس کی تپش سے وہ سر چکرانے لگے ہیں جن پر توفیق الٰہی کا سایہ نہیں رہا۔ آئے روز حدیث ِ رسول کے خلاف انداز بدل بدل کر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ انکار حدیث کی وجہ یا تو جہالت ہوتی ہے یا پھر بدباطنی۔ حدیث چونکہ قرآنِ کریم کی من مانی تاویل و تفسیر سے روکتی ہے اور ہر آدمی کو اپنی مرضی کا اسلام بنانے کی اجازت نہیں دیتی اس لیے اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے برگشتہ لوگ اس سے خار کھاتے ہیں۔ وہ اس سے جان چھڑانے کے لیے جھوٹ ، تلبیس اور دغا بازی سے بھرپور کام لیتے ہیں۔کچھ لوگ جو ویسے تو مخلص مسلمان ہوتے ہیں لیکن اپنی علمی بے مائیگی کی بنا پر منکرین حدیث کی فریبی چال کو سمجھ نہیں پاتے ، حدیث اور محدثین سے متنفر ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ انکار حدیث کی کوئی تیسری وجہ نہیں۔

گزشتہ دنوں سندھ کے ایک صاحب عزیز اللہ بوہیو(ولیج خیر محمد بوہیو۔P.Oبراستہ نوشہرو فیروز ، سندھ)نے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں ، صدر پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان ، چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں انہوں نے حدیث ِ رسول کو اسلام ، پیغمبر اسلام اور صحابہ کرام کی گستاخی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ چار صفحات کے اس خط میں بوہیو صاحب نے حدیث کے خلاف انہی اعتراضات کو جھاڑ پونجھ کر دوبارہ پیش کر دیا ہے، جنہیں صدیوں پہلے محدثین کرام دلائل کے زور سے ردّی کی ٹوکری میں پھینک چکے ہیں۔ حسنِ ظن کا تقاضا یہی ہے کہ ہم سمجھیں کہ بوہیو صاحب کو حقیقت کا علم نہیں تھا، ورنہ وہ ایسے نہ کرتے ، نیز وہ دلائل کو ملاحظہ کرکے ضرور اپنے موقف پر نظرثانی فرمائیں گے۔ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے خط پر ہماری گزارشات کو ٹھنڈے دل سے ملاحظہ فرمائیں ۔

یہ تحریر تفصیل کی متحمل نہیں لہٰذا پہلے ہم بوہیو صاحب کے تمہیدی کلمات نقل کریں گے پھر ایک ایک کر کے ان کے اعتراضات کو لفظ بہ لفظ نقل کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر دلائل کی روشنی میں مختصر تبصرہ کر تے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
 
بوہیو صاحب کا خط(تمہیدی کلمات)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

وَقَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ھٰذَا الْقُرْآنَ مَھْجُورًا (٣٠/٢٥)
بخدمت جناب چیف جسٹس صاحب سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد اور
چیف جسٹس حضرات صوبہ جاتی ہائی کورٹس ۔ کراچی ، لاہور ، پشاور ، کوئٹہ نیز صدر پاکستان و وزیراعظم پاکستان ، اسلام آباد ووزاء اعلیٰ صوبہ جات پاکستان واسپیکر صاحب قومی اسمبلی اسلام آباد اور چیئرمین سینٹ پاکستان اسلام آباد و
اسپیکر صاحبان صوبہ جاتی اسمبلیاں۔ کراچی ، لاہور ، پشاور ، کوئٹہ

فریاد
بخدمت جناب جج حضرات عدالت ہائے عالیہ پاکستان !
جناب اعلیٰ ! عرصہ دراز سے دشمنانِ اسلام ڈنمارک ، ناروے والے یا سلمان رشدی کے قلم سے جناب رسول اللہ سلام علیہ کی شانِ اقدس کے خلاف نہایت غلیظ قسم کی گستاخیاں کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے ردّ میں امت ِ مسلمہ کے غیور لوگ بھی احتجاج کرتے رہتے ہیں لیکن ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اپنے گھر کے علوم کی بھی چھان بین کریں کیونکہ دشموں کو ان کی گستاخیوں کا سارا مواد دین اسلام کے نام سے ایجاد کردہ علوم حدیث و فقہ سے ملا ہے جو کہ قرآن دشمن ، امامی گروہ کا ایجاد کیا ہوا ہے ، جن کے نہایت مختصر حوالہ جات بطور نمونہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور التجا کرتے ہیں کہ ایسے علوم کو مدارس دینیہ کے نصاب ِ تعلیم سے خارج کروا کے ان کی جگہ خالص قرآن سے استخراج جزئیات کی تعلیم امت والوں کو پڑھائی جائے۔نیز قرآن سے ملے ہوئے مسائل حیات نہ پڑھانے والے مدارس کی رجسٹریشن پر بندش عائد کی جائے۔۔۔اس کے بعد اعتراضات رقم ہیں۔


اعتراضات کا منصفانہ تجزیہ:
بوہیو صاحب نے احادیث نبویہ پر تقریباً 10 اعتراضات کیے ہیں۔ آئیے ان سب اعتراضات کا منصفانہ تجزیہ کرتے ہیں:
 
اعتراض نمبر 1 :
علم حدیث کا رسول علیہ السلام پر بہتان اور تبرا
1 آبادی سے دور کھجور کے باغ میں جونیہ نامی عورت لائی گئی تھی جسے رسول نے کہا کہ ہبی نفسک لی تو خود کو میرے حوالے کر دے تو اس عورت نے جواب میں کہا کہ وہل تہب الملکۃ نفسہا لسوقۃ ؟ یعنی کیا کوئی شہزادی اپنے آپ کو کسی بازاری شخص کے حوالے کر سکتی ہے؟(حوالہ کتاب بخاری ، کتاب الطلاق کے چوتھے نمبر والی حدیث) ہم اپنی طرف سے اس حدیث پر کوئی تبصرہ نہیں کر رہے۔


تجزیہ : 

اس حدیث میں یقینا بوہیو صاحب کا اعتراض انہی الفاظ پر ہے جنہیں ہم نشان زدہ کر چکے ہیں۔ یہ اعتراض ترجمے کی غلطی سے پیدا ہوا ہے ۔ سُوقَۃ کا ترجمہ ''بازاری'' کرنا عربی زبان سے مطلق جہالت کا کرشمہ ہے۔ صحیح معنیٰ کے مطابق اس سے مراد وہ شخص ہے جو بادشاہ نہ ہو۔ عربی زبان کی معروف اور معتبر لغت ''لسان العرب''میںاس حدیث کا معنیٰ یوں مرقوم ہے :
فقال لہا : (( ھبی لی نفسک )) ، فقالت : ہل تھب الملکۃ نفسہا للسوقۃ ؟ السُوقۃ من الناس الرعیّۃ ومن دون الملک ۔
''آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا : تو اپنے نفس کو میرے لیے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: کیا کوئی شہزادی کسی غیربادشاہ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ سُوقہ سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا شمار رعایا میں ہوتا ہو اور وہ جو بادشاہ نہ ہوں۔''
نیز جو غلطی بوہیو صاحب نے کی ہے ، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
وکثیر من الناس یظنّون أنّ السُوقۃ أہل الأسواق ، والسُوقۃ من الناس من لم یکن ذا سلطان ۔ ''بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ سُوقہ بازاری لوگوں کو کہا جاتا ہے حالانکہ لوگوں میں سے وہ افراد سُوقہ کہلاتے ہیں جن کے پاس بادشاہت نہیں ہوتی۔''
(لسان العرب لابن منظور : ١٠/١٦٦، طبع دار صادر بیروت)
لغت عرب کی ایک اور معروف کتاب ''تاج العروس ''میں ہے :
والسوقۃ بالضمّ خلاف الملک ، وہم الرعیّۃ التی تسوسہا الملک ۔
''سُوقہ کا لفظ بادشاہ کا متضاد ہے، یعنی وہ رعایا جن پر بادشاہ حکومت کرتے ہیں۔''
(تاج العروس لمرتضی الزبیدی : ٢٥/٤٧٩، طبع دار الہدایۃ)
بازاری شخص کے لیے عربی میں سُوقِیّ کا لفظ مستعمل ہے۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ اسی حدیث کے تحت لکھتے ہیں : وأمّا أہل السوق فالواحد منہم سُوقیّ ، قال ابن المنیر : ہذا من بقیّۃ ما فیہا من الجاہلیّۃ ، والسوقۃ عندہم من لیس بملک کائنا من کان ، فکأنّ استبعدت أن یتزوّج الملکۃ من لیس بملک ۔
''رہے بازاری لوگ تو ان میں سے واحد کو سُوقِی کہتے ہیں۔ابن منیر کا کہنا ہے کہ(یہ عورت نئی نئی مسلمان ہوئی تھی اور) یہ روش اس میں موجود جاہلیت کی باقی ماندہ باتوں میں سے ایک تھی۔ عربوں کے ہاں سُوقہ اس شخص کو کہا جاتا تھا جو بادشاہ نہ ہو ، چاہے وہ جو بھی ہو۔اس عورت نے بعید سمجھا کہ ایک شہزادی ایسے شخص سے شادی کرے جو بادشاہ نہیں۔''
(فتح الباری : ٩/٣٥٨، طبع دار المعرفۃ، بیروت)
اب بوہیو صاحب خود ہی اندازہ کر لیں کہ ان کا اعتراض علم حدیث پر ہے یا علم لغت سے اپنی ہی ناواقفیت پر؟ صدیوں پہلے عربی لغت دان ، محدثین کرام اور شارحین حدیث اس بات کی بخوبی وضاحت کر چکے ہیں لیکن آج بھی منکرین حدیث ان سب باتوں سے غافل انکار حدیث کی دھن میں مست ہیں۔
 

اعتراض نمبر 2 :
2 سمعت أنس بن مالک : جاء ت امرأۃ من الأنصار إلی النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فخلا بہا، فقال : واللّٰہ إن کنّ لأحبّ الناس إلیّ یعنی ایک انصاری عورت جناب رسول علیہ السلام کی خدمت میں آئی۔ آپ نے اس کے ساتھ خلوت کی ، اس کے بعد اس سے کہا کہ قسم اللہ کی کہ تم (انصاری) عورتیں سب لوگوں میں سے مجھے زیادہ محبوب ہو۔(کتاب النکاح ، بخاری ، حدیث نمبر ٢١٨)اس حدیث پر بھی پڑھنے والے خود سوچیں، میں کوئی تبصرہ نہیں کر رہا۔
 

تجزیہ :
 اس حدیث میں شاید دو باتیں بوہیو صاحب کو قابل اعتراض معلوم ہوئی ہیں۔
1 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کی۔ اس سلسلے میں دو باتیں ملحوظ رہنی ضروری ہیں : پہلی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عورت سے خلوت اور علیحدگی ایسی نہیں تھی جو اسلام کی نظر میں حرام ہے اور جس میں شیطان تیسرا فرد ہوتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے تھے بلکہ اس عورت کے ساتھ ایک راستے میں کھڑے تھے جہاں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے۔ دوسری بات یہ کہ وہ ایک مجنونہ عورت تھی۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک کام ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ مجھ سے ملاقات کسی راستے میں کر لینا ۔یہ ملاقات ایک کھلے راستے میں ہوئی جہاں سے لوگوں کا گزر عام تھا ، یہی وجہ ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کی گئی نبوی بات بیان سن لی اور پھر بیان کی۔یہاں خلوت سے مراد کسی بند مکان میں ملاقات ہوتی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو اس ملاقات کے احوال کیسے معلوم ہوتے؟ اگر یہی حدیث صحیح مسلم میں ملاحظہ کر لی جاتی تو سارے اشکالات ختم ہو جاتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی کا بیان ہے :

إنّ امرأۃ کان فی عقلہا شیء ، فقالت : یا رسول اللّٰہ ! إنّ لی إلیک حاجۃ ، فقال : یا أمّ فلان ! انظری أیّ السکک شئت حتّی أقضی لک حاجتک ، فخلا معہا فی بعض الطرق ، حتّی فرغت من حاجتہا ۔
''ایک عورت کی عقل میں کچھ فتور تھا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام فلاں ! تم کسی بھی گلی کا انتخاب کر لینا تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے میں اسے ملے یہاں تک کہ وہ اپنے کام(کی تفصیلات بتانے)سے فارغ ہو گئی۔''(صحیح مسلم : ٢٣٢٦، طبع دارالسلام ، الریاض)
 
نیز یہ بھی مدنظر رہنا چاہیے کہ اس عورت کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا۔
(صحیح بخاری : ٣٧٨٦، طبع دار السلام، الریاض)
اس حدیث نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تبرا نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طہارت و پاکیزگی کی انتہا بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجنونہ عورت سے بھی کسی الگ جگہ ملاقات نہیں کی بلکہ اسے لوگوں کے عام گزر والی گلی میں بلا کر اس کی بات سنی تاکہ کوئی شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوجائے۔نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت متواضع اور حلیم طبیعت کے مالک تھے ، آپ چھوٹے بڑے ہر ایک کی داد رسی کرتے تھے حتی کہ مجنونوں کی بھی، جیسا کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ لکھتے ہیں : وفیہ سعۃ حلمہ وتواضعہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم وصبرہ علی قضاء حوائج الصغیر والکبیر ۔۔۔
''اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ حلیم اور متواضع تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چھوٹے ، بڑے ہر ایک کی داد رسی کیا کرتے تھے۔''
(فتح الباری لابن حجر : ٩/٣٣٣، طبع دار المعرفۃ، بیروت)
اب بوہیو صاحب بتائیں کہ کیا یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پربہتان اور تبرا ہے ؟
2 رہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی کہ انصاری عورتیں مجھے سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب ہیں۔۔۔ تو اس میں کون سا اعتراض ہے ؟ اس سے بس انصاری عورتوں کی دوسری عورتوں پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اور یہ بات صرف انصاری عورتوں کے لیے نہ تھی بلکہ انصاری مرد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں دوسرے عام مَردوں سے افضل تھے۔ انصار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص محبت اور انس تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أوصیکم بالأنصار ، فإنّہم کرشی وعیبتی ، وقد قضو الذی علیہم وبقی الذی لہم ، فاقبلوا من محسنہم وتجاوزوا عن مسیئہم ))
''میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ یہ میرے خاص لوگ اور میرے راز دان ہیں۔انہوں نے اپنے فرائض پورے کر لیے ہیں اور اب ان کے حقوق باقی رہ گئے ہیں۔ تم ان کے نیک لوگوں کی بات قبول کرنا اور بُرے لوگوں سے درگزر کرنا۔''
(صحیح البخاری : ٣٧٩٩، صحیح مسلم : ٢٥١٠، طبع دار السلام، الریاض)
مزید تفصیلات کے لیے کتب حدیث میں انصار کی فضیلت و منقبت کے ابواب ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ایک موقع پر انصار کی عورتوں اور بچوں کو آتے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور تین مرتبہ فرمایا: (( اللّٰہمّ ! أنتم من أحبّ الناس إلیّ ، یعنی الأنصار))
''اللہ گواہ ہے کہ تم انصاری لوگ مجھے سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب ہو۔''
(صحیح البخاری : ٣٧٨٥، صحیح مسلم : ٢٥٠٨، طبع دار السلام، الریاض)
معلوم ہوا کہ اس حدیث کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں انصار کی عورتوں کا مقام و مرتبہ دوسری عورتوں سے بلند تھا۔اس سے کوئی اور مراد لینا کسی شخص کی اپنی ہی ذہنی پستی اور عقلی درماندگی کا ثبوت ہے۔
 

اعتراض نمبر 3 :
قرآن سے کچھ آیات گم ہو جانے کی حدیث
اس موجود قرآن میں سے رجم کی سزا ، یعنی زانی مرد اور زانیہ عورت کو سنگسار کر کے موت دینے والی آیت بھی گم ہو چکی ہے اور باپ دادوں سے رغبت نہ کرنا ، یہ کفر ہے۔یہ آیت بھی نازل ہوئی تھی جو اب گم ہو گئی ہے۔(کتاب بخاری ، کتاب المحاربین ، باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت ، حدیث نمبر ١٧٣٠، حوالہ دوم : باب الرجم ، کتاب ابن ماجہ ، صفحہ ١٨٣، مطبع قدیمی کتب خانہ مقابل آرام باغ کراچی)دوسری حدیث : عن عائشۃ قالت: لقد نزلت آیۃ الرجم ورضاعۃ الکبیر عشرا، ولقد کان فی صحیفۃ تحت سریری، فلمّا مات رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم وتشاغلنا بموتہ دخل داجن فأکلہا یعنی عائشہ سے روایت ہے کہ آیت رجم اور بڑی عمر والے کو دودھ پلانے کی آیت نازل ہوئی تھی جو میرے صحیفہ قرآن میں لکھی ہوئی تھی جو میرے سرھانے کے نیچے رہتا تھا، پھر جب رسول اللہ کی وفات ہوئی ، ہم اس میں مشغول ہو گئے تو گھریلو بکری داخل ہو کر وہ قرآن کھا گئی۔(کتاب ابن ماجہ ، باب رضاع الکبیر، صفحہ ١٣٩، مطبع قدیمی کتب خانہ ، مقابل آرام باغ کراچی)
 

تبصرہ :-
صحیح بخاری اور دیگر کتب حدیث کی محولہ بالا حدیث میں قرآنی آیات کی گم شدگی والی کوئی بات نہیں۔صحیح بخاری کی جس حدیث کا حوالہ بوہیو صاحب نے دیا ہے ، اس کا اصل متن مع ترجمہ پیش خدمت ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إنّ اللّٰہ بعث محمّدا صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بالحقّ وأنزل علیہ الکتاب، فکان ممّا أنزل اللّٰہ آیۃ الرجم، فقرأناہا وعقلناہا ووعیناہا، رجم رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ورجمنا بعدہ، فأخشی إن طال بالناس زمان أن یقول قائل : واللّٰہ ما نجد آیۃ الرجم فی کتاب اللّٰہ، فیضلّوا بترک فریضۃ أنزلہا اللّٰہ، والرجم فی کتاب اللّٰہ حقّ علی من زنی إذا أحصن من الرجال والنسائ، إذا قامت البیّنۃ أو کان الحبل أو الاعتراف، ثمّ إنّا کنّا نقرأ فیما نقرأ من کتاب اللّٰہ أن لّا ترغبوا عن آبائکم، فإنّہ کفر بکم أن ترغبوا عن آبائکم، أو إنّ کفرا بکم أن ترغبوا عن آبائکم ۔۔۔ ''بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا اور ان پر کتاب نازل فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے جو وحی آپ پر نازل کی تھی ، اس میں رجم والی آیت بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا اور یاد کیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (شادی شدہ زانیوں کو)رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی ایسا کیا۔ مجھے خدشہ ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اللہ کی قسم ! ہمیں کتاب اللہ میں رجم والی آیت نہیں ملی اور یوں وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ ایک فریضے کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں۔ کتاب اللہ میں شادی شدہ زانی مرد و عورت پر رجم ثابت ہے جب کوئی دلیل قائم ہو جائے یا (کنواری عورت) حاملہ ہو جائے یا زانی خود اعتراف کر لے۔ پھر ہم کتاب اللہ کے جس حصے کی قراء ت کیا کرتے تھے ، اس میں یہ قراء ت بھی کرتے تھے کہ تم اپنے آباء سے اعراض نہ کروکیونکہ اپنے آباء سے اعراض کفریہ کام ہے۔۔۔''
(صحیح بخاری : ٦٨٣٠، طبع دار السلام بالریاض)
اس حدیث میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ بتا رہے ہیں کہ پہلے ہم رجم اور آباء سے اعراض والی آیات کی بھی قراء ت کیا کرتے تھے لیکن بعد میں ان کی قراء ت منسوخ ہو گئی۔ اب ان کا حکم تو باقی ہے لیکن قرآنِ کریم میں ان کو تلاوت نہیں کیا جاتا۔ نسخ کی بحث میں علمائے کرام نے بالتفصیل یہ بات بیان کی ہے کہ قرآنِ کریم کی بعض آیات کی قراء ت منسوخ کر دی گئی تھی اور ان کا حکم باقی رکھا گیا تھا۔ انہی میں سے رجم اور آباء سے اعراض والی آیات ہیں۔ یہی بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے ثابت ہو رہی ہے کہ ان کی قراء ت تو اب نہیں لیکن یہ باتیں حق اور ثابت ہیں۔ تلاوت و قراء ت نہ کرنے کے باوجود صحابہ کرام رجم پر عمل کرتے رہے تھے۔کہاں قراء ت کا منسوخ ہونااور کہاں قرآنی آیات کی گمشدگی کا الزام دے کر حدیث ِ نبوی کے خلاف واویلا کرنا!
اب بوہیو صاحب سے سوال ہے کہ اس حدیث کے متن کے کس لفظ کا ترجمہ گم ہونا ہے؟حافظ ابن حجررحمہ اللہ صحیح بخاری کی اسی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
ممّا نسخت تلاوتہ ۔ ''یہ آیات ان آیات میں سے ہیں جن کی تلاوت منسوخ کر دی گئی تھی۔''(فتح الباری لابن حجر : ١٢/١٤٩، طبع دار المعرفۃ ، بیروت)
رہی بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحیفے کو بکری کے کھا لینے کی تو اس سے آیات ِ قرآنیہ کے گم ہونے کا استدلال کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ کیا قرآن نازل ہونے کے بعد سیدھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحیفے میںآ کر بند ہو گیا تھا ؟بوہیو صاحب اللہ کے لیے سوچیں کہ قرآنِ کریم نزول کے بعد سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں محفوظ ہوا ، پھر صحابہ کرام] نے اسے سن کر اپنے سینوں میں محفوظ کیا ، پھربہت سے کاتبین وحی نے اسے تحریری طور پر منضبط کیا۔ قرآنِ کریم کی حفاظت کے اس اسلوب سے کسی سنّی مسلمان کو ذرا برابر بھی اختلاف نہیں۔ یہ تو رافضیوں کا چلایا ہوا چکر ہے جس میں بوہیو صاحب پھنس گئے ہیں ، ورنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحیفے کے گم ہو جانے سے قرآنِ کریم کا گم ہو جانا کیسے کشید کیا جا سکتا ہے؟
 

اعتراض نمبر 4 :
جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے والے اصحاب کی کردارکشی کی حدیث
ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت رسول کے پیچھے (عورتوں کی صفوں میں) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ جان بوجھ کر پچھلی صف میںہٹ کر نماز میں شریک ہوتے تھے ، رکوع کے دوران بغلوں سے اس عورت کو جھانک کر دیکھتے تھے۔(جامع ترمذی ، جلد دوم ، ابواب التفسیر، سورۃ الحجر کی پہلی حدیث)


تبصرہ :-
1 محدثین کرام نے جہاں احادیث روایت کی ہیں ، وہاں ان کی صحت و ضعف کو پرکھنے کے ایسے پیمانے بھی مقرر کیے ہیں جن پر وہی روایات پوری اترتی ہیں جو فی الواقع صحیح ہوں۔محدثین کرام نے اس حوالے سے نہایت باریک بینی سے کام لیا ہے۔مسلمان تو ہر دور میں محدثین کرام کے اس کارنامے کے معترف رہے ہی ہیں، غیرمسلم بھی اہل اسلام کے اس فن کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکے۔
صرف سچے ، دیانتدار اور بیدار مغز لوگوں کی بیان کی ہوئی روایات اصولِ محدثین کے مطابق صحیح قرار پاتی ہیں اور انہی پر مسلمان اپنے دین کی بنیاد رکھتے ہیں۔جس روایت کی سند میں کوئی راوی مذکورہ صفات میں سے کسی سے بھی عاری ہو یا سلسلہ سند میں انقطاع آ جائے تو اس کو قبول نہیں کیا جاتا۔محدثین کرام ہر ہر حدیث کی سند بیان کر کے بریئ الذمہ ہو چکے ہیں۔جب انہوں نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ ہمیں یہ روایت فلاں فلاں شخص کے ذریعے موصول ہوئی ہے اور پھر ان تمام لوگوں کے حالات بھی قلمبند کر دیے ہیں تو اب ہمارا فرض ہے کہ روایت ِ حدیث کے قابل لوگوں کی صرف وہ روایات قبول کریں جن کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک متصل ہو۔ تو آئیے اس حدیث کو اصولِ محدثین کے مطابق پرکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی صحابہ کرام سے یہ عمل ثابت ہے ؟
امام ترمذیرحمہ اللہ نے اس کی جو سند ذکر کی ہے ، اس میں ایک راوی عمرو بن مالک نُکری ہے۔ اس نے اپنے استاذ ابوالجوزاء سے کئی غلط روایات بیان کی ہیں، اس بارے میں امام ابن عدیرحمہ اللہ (٢٧٧۔٣٦٥ھ)کا بیان ملاحظہ فرمائیں ، وہ لکھتے ہیں :
یحدّث عنہ عمرو بن مالک النکری ۔۔۔ قدر عشرۃ أحادیث غیر محفوظۃ ۔ ''اس (ابوالجوزائ) سے عمرو بن مالک نکری نے ۔۔۔ دس کے لگ بھگ غیر محفوظ روایات بیان کی ہیں۔''
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی : ٢/١٠٨، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جب تک ان دس غیر محفوظ احادیث کی نشاندہی نہیں ہو جاتی ، تب تک عمرو بن مالک کی ابوالجوزاء سے بیان کی ہوئی تمام روایات ناقابل قبول ہوں گی۔
جس طرح قرآنِ کریم کے حوالے سے بعض شاذ قراء ات موجود ہیں اورمستشرقین ان پر اعتراضات کرتے ہیں ، لیکن مسلمانوں کے ہاں وہ اعتراضات کوئی حیثیت نہیں رکھتے، اسی طرح احادیث میں بھی کمزور روایات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر حدیث یا محدثین کرام پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مسلمان اپنے دین کی بنیاد کمزور روایات پر نہیں بلکہ اصولِ محدثین کے مطابق صحیح قرار پانے والی روایات پر رکھتے ہیں۔
2 یاد رہے کہ یہ روایت تو ثابت ہی نہیں ہو سکی، البتہ اس جیسے واقعے سے صحابہ کرام کی کردارکشی نہیں ہوتی۔ انسان ہونے کے ناطے صحابہ کرام سے اس طرح کی کوئی لغزش ہو جانا کوئی بعید بات نہیں۔ کیا صحابہ کرام سے زنا جیسے گناہ سرزد نہیں ہوئے تھے ؟ قرآنِ کریم میں زنا ، چوری ، شراب نوشی اور قتل وغیرہ کے جو احکام نازل ہوئے ، ان کاسب سے پہلے نفاذ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام پر ہی کیا تھا۔ کیا قرآنِ کریم نے صحابہ کرام کی کردارکشی کی ہے ؟ بوہیو صاحب کا جواب یقینا نفی میں ہو گا۔ عورتوں کو چھپ کر دیکھنا توزنا کرنے سے یقینی طور پر چھوٹا گناہ ہے۔ اس سے کردارکشی کیسے ہو گئی ؟
خود قرآنِ کریم نے بیان کر دیا ہے کہ جو شخص صدقِ دل سے توبہ کر لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے تمام کبیرہ گناہ پل بھر میں معاف فرما دیتا ہے۔ مسلمانوں کا ایمان و اعتقاد ہے کہ اگرچہ صحابہ کرام سے بھی کبیرہ گناہ سرزد ہوئے تھے لیکن ان کی نیکیاں ان کی برائیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھیں ، نیز ان سے جب گناہ ہوتا تھا ، وہ ماہی ئ بے آب کی طرح تڑپنے اور اللہ سے معافی مانگنے لگتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو معاف فرما دیا ہے اور ان کو رضی اللّٰہ عنہم ورضوا عنہ کا سر ٹیفیکٹ عطا فرما دیا ہے۔

 
اعتراض نمبر 5 :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد پر جانے والے اصحاب پر طنز اور تبرا والی حدیث
عن جابر قال : نہی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أن یطرق الرجل أہلہ لیلا، یتخونہم، أو یلتمس عثراتہم یعنی منع کیا ہے رسول نے رات کو دیر سے گھر والوں کے پاس آنے سے (اس وجہ سے کہ) کوئی ان کے ساتھ خیانت نہ کرتا ہو یا ان کی پردہ والیوں کی جستجو میں نہ ہو۔(کتاب صحیح مسلم ، جلد ثانی ، کتاب الجہاد والسیر، باب کراہیۃ الطروق ، مطبع قدیمی کتب خانہ مقابل آرام باغ کراچی) اس قسم کی حدیث پر بھی پڑھنے والے خود سوچیں ، میں اپنی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کر رہا۔
 
تبصرہ : 
جناب بوہیو صاحب ! اللہ کے لیے حدیث ِ رسول کی دشمنی میں انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں یا اگر آپ دانستہ ایسا نہیں کر رہے تو منکرین حدیث کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے سے پہلے کسی صاحب ِ علم یا ہم جیسے کسی طالب ِ علم سے رجوع ہی کر لیں۔ آپ نے جو ترجمہ کیا ہے ، اسے نہ لغت ِ عرب قبول کرتی ہے نہ عقل سلیم۔یہ ترجمہ اس بات کی دلیل کے طور پر کافی ہے کہ منکرین حدیث انکار حدیث کے لیے ہمیشہ بددیانتی سے کام لیتے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں دغابازی ، فریب سازی اور کذب بیانی سے ذرا بھر دریغ نہیں کرتے۔ محوّلہ بالا حدیث کا اصل متن اور لغت عرب کے مطابق صحیح ترجمہ ملاحظہ فرمائیں :
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَطْرُقَ الرَّجُلُ أَہْلَہُ لَیْلاً یَتَخَوَّنُہُمْ أَوْ یَلْتَمِسُ عَثَرَاتِہِمْ ''سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے گھروالوں کے پاس رات کے وقت اس حال میں آئے کہ وہ ان کو خائن سمجھتا ہو یا ان کی لغزشوں کی تلاش کرنے کی کوشش میں ہو۔''(صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٧١٥، طبع دار السلام، بالریاض)
جناب ِ گرامی قدر! اس حدیث میں تو صحابہ کرام کو سوء ِ ظن سے اجتناب کا حکم دیا جا رہا ہے اور یہ تعلیم دی جا رہی ہے کہ اگر رات کے وقت گھر میں داخل ہونے کا محرّک اپنے گھر والوں کے بارے میں کسی خیانت کا گمان اور ان کی کسی لغزش کی تلاش ہے تو ایسا کرنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ کیا صحابہ کرام کو سوء ِ ظن سے روکنا ان پر طنز و تبرا ہے ؟
اس کا ترجمہ یہ کرنا کہ ''کوئی ان کے ساتھ خیانت نہ کرتا ہو یا ان کی پردہ والیوں کی جستجو میں نہ ہو۔'' انتہائی مجرمانہ حرکت ہے۔ عربی گرائمرکے لحاظ سے لفظ ِ یتخونہم ، لفظ ِ الرجل سے حال بن رہا ہے ، یعنی آدمی اپنے گھر میں اس طرح نہ آئے کہ وہ خود اپنے گھر والوں کی دیانت و امانت کے بارے میں سوء ِ ظن کا شکار ہو یا ان کی کسی لغزش کا متلاشی ہو۔اس کے ترجمے میں لفظ ِ''کوئی'' اپنی طرف گھسیڑدینا انتہائی تعصب اور ردّی ذہنیت یا عربی زبان سے مطلق جہالت کی علامت ہے۔ کوئی منکر حدیث بتائے کہ یتخوّن فعل کا فاعل کون ہے ؟ اصول کے مطابق اس کا فاعل اس میں موجود ہُوَ ضمیر ہے جو الرجل ہی کی طرف راجع ہے ۔ جب صورت ِ حال یہ ہے تو ''کوئی'' کو اس کا فاعل کیسے بنا دیا گیا ہے؟
پھر ستم بالائے ستم یہ کہ یتخوّنہم کا معنیٰ خیانت کرنا کر دیا گیا ہے ،حالانکہ یہ عربی کے علم ِ صرف کے مطابق خَوْن(بمعنی خیانت)مادہ سے باب ِتفعُّل ہے اور لغات ِ عرب میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ صراحت موجود ہے کہ جب اس مادے سے باب ِ تفعّل کا فاعل بھی آدمی ہو اور مفعول بہٖ بھی آدمی تو اس وقت معنیٰ اسے خائن سمجھنا یا اس پر خیانت کی تہمت لگانا ہوتا ہے۔لغت ِ عرب کی معروف و مستند کتاب المعجم الوسیط میں مرقوم ہے:
تخوّن ۔۔۔۔۔ فلانا : اتّہمہ بالخیانۃ، وتلمّس خیانتہ وعثرتہ ۔
''یعنی کسی پر خیانت کی تہمت لگانا اور اس کی خیانت و لغزش کی تلاش میں رہنا۔''
(المعجم الوسیط : باب الخاء ، ١/٢٦٣، طبع دار الدعوۃ)
ایک اور گھپلا لفظ ِ عثراتہم کا معنیٰ ''ان کی پردہ والیوں''کر نے کی صورت میں کیا گیا ہے حالانکہ عثرات جمع ہے عثرۃ کی جس کا معنیٰ کوتاہی ، لغزش اور ٹھوکر ہوتا ہے۔ عربی کے ایک مشہور شاعر ابو العلاء المعری کی طرف یہ شعر منسوب ہے :
فمنْ عثراتِ المرء ِ، فی الرأی، أنّہُ إذا ما جری ذکرُ الخِضابِ تشوّرا
''آدمی کی سوچ و فکر کی ایک کوتاہی یہ ہے کہ جب خضاب کا ذکر آتا ہے تو وہ شرمندہ ہو جاتا ہے۔''(دیوان ابی العلاء المعرّی، قصیدۃ : إذا طلب الشیب الملمّ فحیّہٖ)
ایک اور عربی شعر یوں ہے :
فلا یفرح الباغی علیکم بسعیہ فما کل عثراتِ السُّعاۃِ تقالُ
''تمارے خلاف بغاوت کرنے والا اپنی کوشش کے بِرتے پر خوش نہ ہو کیونکہ کوشش کرنے والوں کی ہر لغزش معاف نہیں کی جاتی۔''
(دیوان ابی المہیار الدیلمی، قصیدۃ : لہا کل یوم نشطۃ وعقال)
ایک مشہور عربی مقولہ بھی ہے عثرۃ اللسان أشد من عثرۃ الرجل کہ زبان کی ٹھوکر پاؤں کی ٹھوکر سے سخت ہوتی ہے۔کیا یہاں کوئی یہ ترجمہ کر سکتا ہے کہ زبان کی پردہ والی پاؤں کی پردہ والی سے سخت ہوتی ہے؟
پھر اگر اس حدیث پر اعتراض کرنے سے پہلے عقل سے تھوڑی سی اپیل کر لی جاتی تو بھی شاید معاملہ حل ہو جاتا۔ وہ اس طرح کہ بوہیو صاحب کے مطابق ترجمہ یہ ہے کہ ''کوئی ان کے ساتھ خیانت نہ کرتا ہو۔'' لفظ ِ ''اُن'' سے پتا چلتا ہے کہ خیانت گھر والوں کے ساتھ ہو رہی ہے نہ کہ واحد''آدمی'' کے ساتھ حالانکہ اگر کسی شخص کی غیرموجودگی کوئی غیر اس کی بیوی سے تعلقات بنا لیتا ہے تو اس کی خیانت غیر حاضر شخص سے ہوتی ہے نہ کہ اس کی ایسی بیوی سے جو خود اس سے تعلقات استوار کر رہی ہے۔یہ عقلی طور پر انتہائی بے تُکی بات ہے۔
ہے کوئی منکر حدیث جو قیامت تک بوہیو صاحب کے کیے ہوئے اس ترجمے کو لغت ِ عرب کے مطابق درست ثابت کر دے؟
 
اعتراض نمبر 6 :
حدیث میں زمانہ رسول کے اصحاب کو نسل پر گالی
یہ حدیث کتاب بخاری کے کتاب النکاح کی ہے۔ حدیث کا نمبر ١١٤ ہے ۔ اس میں نکاح کی چار اقسام گنوائی گئی ہیں جن میں سے تین اقسام کی عورتیں اپنی شوہر کے علاوہ دوسرے مردوں سے بذریعہ زنا بیج لیتی ہیں۔ امام بخاری نے حدیث میں نکاح کی پہلی قسم میں صرف یہ لکھا ہے کہ نکاح ہوتا کس طرح سے تھا، حدیث میں کریکٹر پر کچھ نوٹ نہیں۔
یہ حدیث انہوںنے بی بی عائشہ کے نام سے روایت کی ہے کہ جناب رسول کو نبوت ملنے سے پہلے زمانہ جاہلیت میں نکاح چار اقسام کا ہوتا تھا۔ غور کیا جائے کہ ان حدیث سازوں کی روایت کے مطابق جو عائشہ پیدا ہی نبوت ملنے کے بعد ہوئی ہے ، حدیث میں وہ زمانہ قبل نبوت کا عرب کلچر پیش کر رہی ہے۔ اصل میں یہ ایک فن ہے علم حدیث میں تبرا کرنے کا اصحاب رسول پر۔
 
تبصرہ :
اس حدیث میں ناجانے کون سی بات بوہیو صاحب کو قابل اعتراض معلوم ہوئی ہے کیونکہ زمانہ جہالت میں نکاح کی غلط صورتوں کا رائج ہونا نہ خلاف ِ حقیقت ہے نہ خلاف ِ عقل۔ رہی بات صحابہ کرام کے نسب پر طعن ہونے کی تو عرض ہے کہ اس حدیث میں کسی صحابی کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس کے والدین نے نکاح کی غلط صورت کو اپنایا تھا بلکہ نکاح کی صحیح صورت کا بھی اثبات کیا گیا ہے۔خود بوہیو صاحب کو اعتراف ہے کہ حدیث میں کریکٹر پر کچھ نوٹ نہیں۔ پھر صحابہ کرام کے نسب پر تبرّا کیسے ہو گیا ؟
رہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نبوت ملنے کے بعد پیدا ہونا اور زمانہئ قبل نبوت کا کلچر پیش کرنا تو اس میں کون سی حرج والی بات ہے ؟ یہ بات تو طَے ہے کہ کوئی صحابی اگر کوئی ایسا واقعہ بیان کرے گا جس کا وہ خود چشم دید گواہ نہیں ہے تو ضرور وہ کسی دوسرے صحابی ہی سے سن کر اسے بیان کر رہا ہو گا۔جب تمام صحابہ کرام مسلمانوں کے نزدیک سچے اور کھرے مسلمان تھے تو اس طرح کی روایات پر شک و شبہ کا اظہار بجائے خود صحابہ کرام پر تبرّا کرنے کے مترادف ہے۔
 
اعتراض نمبر 7 :
حکم قرآن کے خلاف جناب رسول پر الزام ، یعنی معصوم نابالغ بچی سے نکاح کرنے کی حدیث
عن عائشۃ أنّ النبی تزوّجہا وہی بنت ستّ سنین، وبنی بھا وہی بنت تسع سنین یعنی عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے اس کے ساتھ نکاح کیا تو وہ اس وقت چھ سال کی تھی اور جب بناء کیا تو وہ نو سال کی تھی۔ قرآن حکیم میں یتیم بچہ کے بالغ ہونے کی عمر نکاح کی عمر کے حوالہ سے بتائی گئی ہے۔ اس میں ایک ذکر ہے ذہنی رشد کا (٦۔٤)، دوسرا ذکر ہے جسمانی بلوغت کا اشد کے لفظ کے ساتھ (٦۔١٥٢)جبکہ قرآن حکیم نے انسانی زندگی کے تین مرحلوں کا ذکر کیا ہے : ایک طفل ، دوسرا اشد ، تیسرا شیوخا (٦٧۔٤٠) اس حساب سے حدیث میں چھ اور نو سال میں شادی کی بات خلاف قرآن ہوئی کیونکہ یہ طفولیت والی عمر ہے۔ یہ حدیث جناب رسول پر قرآن کی حکم عدولی کا الزام ہے۔
 

جواب :-

قرآن کے خلاف یا مطابق ہونے کی کسوٹی ہر کس و ناکس کی عقل نہیں ہو سکتی۔ کتنی ہی سقیم عقول ایسی ہیں جن کو قرآنِ کریم کی بہت سی آیات ، دوسری قرآنی آیات کے خلاف معلوم ہوتی ہیں، کیا اس وجہ سے قرآنِ کریم پر بھی اعتراض شروع کر دیا جائے گا؟
چھ یا نو سال کی عمر میں نکاح کرنا بالکل خلاف ِ قرآن نہیں ہے بلکہ مطابق و موافق قرآن ہے اور اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا قرآنِ کریم کے خلاف بغاوت ہے۔ مختلف عورتوں کی عدّت بیان کرتے ہوئے فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
 
(وَاللَّائِي یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِنْ نِسَائِکُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلَاثَۃُ أَشْہُرٍ وَّاللَّائِي لَمْ یَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ )
''تمہاری جو عورتیں حیض سے مایوس ہو جائیں ، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن عورتوں کو حیض نہیں آیا ، نیز جو عورتیں حاملہ ہیں ، ان کی عدت وضع حمل ہے۔''
 
اس آیت ِ کریمہ میں تین قسم کی عورتوں کی عدت بیان ہوئی ہے: ایک وہجن کے عمر رسیدہ ہونے کی بنا پر ان کا حیض ختم ہو گیا ہو ، دوسری وہ جن کو ابھی حیض آیا ہی نہ ہو اور تیسری وہ جو حاملہ ہوں۔ خود قرآنِ کریم کے مطابق اس عورت کی عدت ہو سکتی ہے جسے ابھی حیض نہ آیا ہو اور عورت عدت اسی وقت گزارتی ہے جب پہلے اس کا نکاح ہوا ہو ، پھر اسے طلاق ہو جائے یا اس کا خاوند فوت ہو جائے۔ معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کے مطابق بھی اس عورت کا نکاح ہو سکتا ہے جو ابھی جوانی کی عمر کو نہ پہنچی ہو۔اب بوہیو صاحب کو چاہیے کہ وہ قرآنِ کریم کے خلاف کوئی مقدمہ تیار کریں۔ نعوذ باللّٰہ من ہذہ الہفوات !
 
جس طرح بوہیو صاحب کو حدیث ِ رسول میں غیربالغہ عورت کے نکاح کی بات ہضم نہیں ہوئی ، اسی طرح قرآنِ کریم میں غیربالغہ عورت کے نکاح کا ثبوت غیر مسلموں کو نہیں بھاتا۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی مذکورہ بالا آیت ِ مبارکہ کو پیش کر کے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایک نہایت غلیظ کارٹونک فلم تیار کی ہے جس کا یوٹیوب پرموجود لنک ہم یہاں پیش نہیں کر سکتے کیونکہ کوئی مسلمان اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر بوہیو صاحب کو اس میں کچھ شبہ ہو تو وہ ہم سے ٹیلی فونک رابطے کے ذریعے وہ لنک حاصل کر کے اپنی تسلی کر سکتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جو اعتراض حدیث ِ رسول پر کیا جائے گا ، بعینہٖ وہی قرآنِ کریم پر آئے گا، لہٰذا قرآنِ کریم کی گستاخی سے بچنے کے لیے حدیث ِ رسول کا ادب و احترام لازم ہے۔
 
یہ تو بات تھی صرف نکاح کی کہ وہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے اوراس میں کسی قسم کی کوئی عقلی و اخلاقی قباحت نہیں۔ رہے زوجین کے ازدواجی تعلقات تو اس حدیث کے مطابق وہ نَو سال کی عمر میں استوار ہوئے تھے اور بعض علاقوں میں اس عمر کی لڑکیوں کا بالغ ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔سابقہ اور موجودہ دور کے کئی حقائق اس بات پر شاہد ہیں کہ بعض لڑکیاں اس سے بھی کم عمر میں ماں بن گئیں۔ اگر وہ بالغ نہیں ہوئی تھیں تو ماں کیسے بنیں ؟ ان حقائق کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں :


http://www.worldrecordsacademy.org/human/youngest_living_mother_Chinese_schoolgirl_sets_world_record_101532.htm

List of youngest birth mothers - Wikipedia, the free encyclopedia

آخری لنک میں تو کئی درجن ایسی عورتوں کا تفصیلی تذکرہ ملاحظہ کیا جا سکتاہے جن کی پہلے بچے کی ولادت کے وقت عمر نَو سے گیارہ سال تھی۔ یقینی بات ہے کہ ان عورتوں کی بلوغت کی عمر آٹھ سے دس سال تھی، لہٰذا سیدہ عائشہ کے ساتھ نَو سال کی عمر میں بناء کرنے کی حدیث پر اعتراض اعتراض سائنسی ، علمی اور عقلی ہر اعتبار سے باطل ہے۔


اعتراض نمبر 8 :
ظلم پر ظلم یہ کہ مذکورہ علم حدیث کے نام سے اب قرآن حکیم میں قراء توں کے نام سے ملاوٹ کر کے کئی قسم کے قرآن شائع کیے گئے ہیں جبکہ ہم ہزاروں کی تعداد میں ذخیرہ حدیث سے خلاف ِ قرآن روایات دکھا کر ثابت کر سکتے ہیں۔
 

تبصرہ :
یہ کچھ روایات جو بوہیو صاحب نے بزعم خود قرآنِ کریم کے خلاف سمجھ کر پیش کی تھیں، ان پر تبصرہ قارئین کرام نے ملاحظہ فرما لیا ہے۔ اب وہ ہزاروں احادیث جو ان کے خیال میں قرآنِ کریم کے خلاف ہیں ، ان کو بھی پیش کر دیں لیکن یہ خیال ضرور رکھیں کہ وہ احادیث محدثین کرام کے متفقہ اصولوں کے مطابق صحیح ہوں۔صحیح بخاری پر خصوصاً اور باقی احادیث پر عموماً پہلے بھی کئی لوگوں نے طبع آزمائی کر کے ان کو خلاف ِ قرآن ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے علمائے کرام نے ہر دور میں دفاعِ حدیث کا فریضہ سرانجام دیاہے۔ صحیح بخاری پر اس قسم کے اعتراضات کا جائزہ لینے کی سعادت اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی نصیب کی ہے۔ شائقین ''صحیح بخاری کا مطالعہ اور فتنہ انکار حدیث'' نامی کتاب طلب کر کے اس کو بغور پڑھیں ، امید ہے کہ ان کے بنیادی اشکال دور ہو سکتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ کوئی بھی صحیح حدیث قرآنِ کریم کے خلاف نہیں۔ اس سلسلے میں اگر کسی کو کوئی شبہ ہو تو وہ احادیث ِ نبویہ سے متنفر ہونے سے پہلے ایک دفعہ ہم سے ضرور رابطہ کر لے۔

رہی بات قرآنِ کریم میں قراء توں کی ملاوٹ تو ہم بھی کہتے ہیں جو قراءات تواتر سے ثابت ہیں ، وہی حق ہیں اور شاذ قراء ات کو قرآنِ کریم میں شامل کرنا اور انہیں قرآن قرار دینا ناجائز ہے۔ اس سے تو ہماری بات کی تائید ہوتی ہے کہ جس طرح شاذ قراء ات کو دیکھ کر متواتر قرآن کا انکار کرنا ناانصافی ہے ، اسی طرح ضعیف و مردود روایات پیش کر کے صحیح احادیث پر اعتراض کرنا بھی بدباطنی ہے۔ باقی صحیح احادیث اگر کسی کو بظاہر خلاف ِ قرآن نظر آتی ہیں تو کتنی ہی قرآنی آیات ایسی پیش کی جا سکتی ہیں جو بظاہر دوسری آیات کے خلاف محسوس ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے ''صحیح بخاری کا مطالعہ اور فتنہ انکار حدیث'' نامی کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔ اگر قرآنی آیات کی صورت میں موجود وحی ئ الٰہی میں کسی کو بظاہرتعارض نظر آئے تو اسے اس کی اپنی کم علمی اور کج عقلی تصور کیا جاتا ہے ، اسی طرح حدیث ِ رسول بھی بقولِ قرآن وحی ئالٰہی ہے۔اگر کسی کو یہ وحی ئ الٰہی خلاف ِ قرآن نظر آئے تو اسے چاہیے کہ اسے بھی اپنی کم علمی و کج عقلی شمار کرتے ہوئے علمائے کرام سے یا ہم جیسے طلبائے قرآن و سنت سے رجوع کر لے۔


اعتراض نمبر 9 :
ہم ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے منصف حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب قرآن کو علم حدیث کا نام دیا ہے(٢٣۔٣٩) فارس کے روایت سازوں نے قرآن کا یہ نام چوری کر کے اپنی گھڑی ہوئی خلاف قرآن روایات کا نام علم حدیث رکھا ہے۔ یہ چوری ان سے چھین کر قرآن کو واپس دلائی جائے۔
 
جواب :
 یہ بات بالکل بجا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو حدیث کا نام دیا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو حدیث نہیں کہا جا سکتا۔ جس طرح قرآنِ کریم وحی ئ الٰہی ہے ، اسی طرح حدیث ِ رسول بھی وحی ئ الٰہی ہے کیونکہ خود قرآن نے کئی مقامات پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و معمولات کو وحی قرار دیا ہے جس کی تفصیل متعلقہ کتب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و معمولات کو حدیث کا نام دینا خود قرآنِ کریم سے ثابت ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے سابقہ انبیائے کرام کے واقعات کو بھی حدیث کہا ہے، مثلاً چند آیات ملاحظہ فرمائیں :

(وَہَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ مُوسٰی) (طٰہٰ : ٩)
''(اے نبی!)کیا آپ کے پاس موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے؟''
(ہَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ ضَیْفِ إِبْرَاہِیمَ الْمُکْرَمِینَ) (الذاریات : ٢٤)
''(اے نبی!) کیا آپ کے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے؟''
(ہَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْجُنُودِ ٭ فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ) (البروج : ١٧، ١٨)
'' (اے نبی!) کیا آپ کے پاس فرعون اور ثمود کے لشکروں کی خبر آئی ہے؟''
 
جب سابقہ انبیائے کرام کی خبریں اور واقعات بقولِ قرآن حدیث کہلا سکتے ہیں تو پیغمبرآخرالزمان ، ختم الرسل ، خاتم النبیین، سید ِوُلد ِ آدم، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و واقعات اور حالات کو حدیث کا نام کیوں نہیں دیا جا سکتا؟
ہاں کسی کی گھڑی ہوئی روایت کو حدیث کا نام دینا واقعی زیادتی ہے ۔ ایسی روایات کو اگر حدیث کہنا بھی ہو تو ساتھ ''من گھڑت ، موضوع '' وغیرہ کا سابقہ لگانا ضروری ہے۔ اس طرح کی تمام روایات کو محدثین کرام نے نکھار کر رکھ دیا ہے اور ایسے جامع اصول پیش کر دیے ہیں جن کی روشنی میں ہر ذی شعور شخص خود صحیح حدیث اور من گھڑت روایات میں فرق کر سکتا ہے۔ اس آڑ میں صحیح احادیث کا بھی انکار کر دینا کسی انصاف پسند شخص کا شیوا نہیں ہو سکتا۔
 
اعتراض نمبر 10 :
اور یہ کہ علم روایت گھڑنے والوں نے اپنے اس علم کا نام سنت بھی رکھا ہے۔ قرآن میں سنت کا ذکر ١٥ بار آیا ہے جن میں سے اندازاً دس بار اللہ نے لفظ ِ سنت کی نسبت اپنی طرف کی ہے اور پانچ عدد گزری ہوئی قوموں کے کلچر اور رواج کی طرف اور اللہ نے قرآن کو قولِ رسول بھی کہا ہوا ہے،یعنی پورا قرآن علم حدیث ہے ، مطلب کہ علم روایات کو سنت کا نام دینا بھی خلاف ِ اسلوب ِ قرآن ہے۔
 

جواب :
 جناب گزارش ہے کہ روایات گھڑنے والوں نے نہیں بلکہ صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے تمام راویانِ حدیث ِ رسول اس علم کو سنت کا نام دیتے ہیں اور جناب کی اطلاع کے لیے یہ بھی عرض ہے کہ جس طرح کے لفظی چکر آپ چلاتے ہیں ، اس طرح تو سب کچھ ثابت ہو سکتا ہے ، پھر ملاحظہ فرمائیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے لفظ ِ سنت کی نسبت اپنی طرف کی ہے ، وہاں سابقہ انبیائے کرام کی طرف بھی کی ہے ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
 
(سُنَّۃَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَا) (الاسراء : ٧٧)
''آپ سے پہلے جن رسولوں کو ہم مبعوث کر چکے ہیں ، ان کی سنت۔۔۔''
 
صاحب ! اگر بقولِ قرآن سابقہ انبیائے کرام کی طرف سنت کی نسبت و اضافت ہو سکتی ہے تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سنت کی نسبت پر آپ کو کیوں اعتراض ہے ؟
باقی رہی بات قرآن کے علم حدیث ہونے کی تو اس سے کوئی مسلمان انکاری نہیں ، لیکن ہم گزارش کر چکے ہیں کہ قرآن کے حدیث ہونے سے باقی سب چیزوں کا حدیث نہ ہونا لازم نہیں آتا۔ خود قرآن ہی کے بقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و معمولات بھی حدیث اور سنت ہیں۔ معلوم ہوا کہ علم حدیث کو سنت کا نام دینا اسلوب ِ قرآن کے عین مطابق ہے۔

 
نوٹ : اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے بوہیو صاحب کے احادیث ِ نبویہ پر کیے ہوئے اعتراضات کے جوابات عرض کر دیے ہیں۔ ہر ذی شعور اور منصف مزاج شخص بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ اعتراضات کس قدر حقیقت پر مبنی تھے۔ ہم محدثین کے وارث اور اہل الحدیث ہونے کے ناطے یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر کسی بھی شخص کو کسی بھی صحیح حدیث پر کوئی اعتراض ہو تو وہ اسے ہمارے سامنے پیش کرے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی تشفی کریں گے اور اگر کوئی شخص پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں سے ہی اس فیصلے کا طالب ہے تو ہم اللہ کی توفیق سے اس کے ہر طرح کے عدالتی چیلنج کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہیں!
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائے!

فتنہ انکار حدیث کی سرکوبی کے لیے اس عاجز کی ایک قابل مطالعہ کتاب

صحیح بخاری کا مطالعہ اور فتنہ انکار حدیث
اشراف : فضیلۃ الشیخ غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
نظر ثانی :‌ فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علیزئی حفظہ اللہ
ملنے کا پتہ: کتاب سرائے، الحمد مارکیٹ، اردوبازار لاہور۔